امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے امریکا کی تازہ سفارتی تجویز کے جواب کے منتظر ہیں اور توقع ہے کہ تہران کی طرف سے ردعمل آج رات تک موصول ہو سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ Donald TRump نے بتایا کہ امریکا نے ایران کو ایک نئی تجویز ارسال کی ہے، جس پر ایرانی مؤقف جلد سامنے آنے کی امید ہے۔ ان کے مطابق جواب ملنے کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب سفارتی ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتIran US Talks کے نئے دور کے اگلے ہفتے دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے، جبکہ پسِ پردہ رابطوں میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
14 نکاتی ایجنڈا
رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک ثالثی کی مدد سے ایک 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر غور کر رہے ہیں، جس کا مقصد آئندہ ایک ماہ کے مذاکراتی فریم ورک کو حتمی شکل دینا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق زیرِ غور دستاویز میں ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم کے معاملات، آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے کے اقدامات اور خطے میں استحکام سے متعلق اہم نکات شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ابتدائی مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھتے ہیں تو اس مدت میں مزید توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکا، ایران اور علاقائی ثالث ممالک کے درمیان رابطوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان، قطر اور بعض خلیجی ممالک بھی دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔
مذید پڑھئِے
پینٹاگون کا بڑا دھماکہ:خلائی مخلوق اور اڑن طشتریوں کے 80 سالہ خفیہ راز بے نقاب – urdureport.com
تاہم کئی اہم معاملات اب بھی حل طلب ہیں، جن میں ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں ممکنہ نرمی سب سے حساس معاملہ تصور کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کی رائے
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا ایک جانب ایران پر سیاسی و معاشی دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی راستہ بھی کھلا رکھے ہوئے ہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو ہوا تھا، جہاں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان طویل بات چیت کے باوجود کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آ سکا تھا۔ نئے دور کے مذاکرات کو خطے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔


