لاھور ہائی کورٹ نے میڈیا انڈسٹری کے ملازمین کے خلاف روزنامہ دنیا اخبار و نیشنل کمیونیکیشن پرائیویٹ لمیٹیڈ کے چیف ایگزیکٹو افیسر کے مالک میاں عامر محمود کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن پر بغیر کوئی وجہ لکھے دو ماہ کے زائد المیعاد عرصے کی تاخیر کو معاف کردیا اور کیس کو ایک مرتبہ پھر این آئی آر سی کو نئے سرے سے سننے کے لیے بھجوا دیا۔
لاھور ہائی کورٹ کے جج جناب جسٹس حسن نواز مخدوم نے نیشنل کمیونیکیشن سروسز (ایس ایم سی ) پرائیویٹ لمیٹیڈ بنام طارق اقبال اینڈ افتاب احمد کے کیسز کی سماعت کی۔ان مقدمات میں این آئی آر سی کے سنگل بینچ نے روزنامہ دنیا کے ملازم کی برطرفی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تمام تر واجبات کی اداائیگی کے ساتھ بحال کردیا ۔
آین آئی ار سی عدالت میں کیس
این آئی آر سی اسلام آباد اباد کے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف روزنامہ دنیا کے مالک میاں عامر محمود کی جانب سے دو ماہ کی تاخیر سے این آئی آر سی کے فل بینچ میں اپیل دائر کی گئی جس کو این آئی آر سی اسلام آباد نے زائد المعیاد ہونے پر خارج کر دیا۔این آئی آر سی کے روبرو ملازمین نے موقف اپنایا کہ دنیا میڈیا گروپ کی جانب سے عدالتی ریکارڈ میں ردوبدل کی گئی ہے جو کہ ایک جرم ہے اس پر انکوائری کروائی جائے تاہم این آئی آر سی نے اس پر کوئی انکوائری نہ کروائی۔
روزنامہ دنیا کے سی ای او میاں عامر محمود کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کی بجائے لاھور ہائی کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف رٹ پٹیشن داخل کرائی گئی جس میں قبل ازیں لاھور ہائی کورٹ کی جانب سے نوٹس کے اجرا کے باوجود ملازمین کو موصول نہ ہوئے اور لاھور ہائی کورٹ نے این آئی آر سی میں ایک زائد المعیاد اپیل پر مدعا علیہان کو بغیر سنے سٹے آرڈر جاری کر دیا ۔
لاھور ہائی کورٹ میں وکلاء کے دلائل
عدالت کے روبرو ملازمین کے وکیل چوہدری محمد رمضان نے موقف اپنایا کہ روزنامہ دنیا کے مالک میاں عامر محمود کی اپیل دو ماہ زائد المعیاد ہے اور اس کی صرف ایک وجہ انہوں نے بیان کی ہے کہ ادارے کو ان کے وکیل نے نہیں بتایا کہ سنگل بینچ میں کیس کا فیصلہ ہو چکا ہے اس لیے اپیل تاخیر سے دائر کی حالانکہ سنگل بینچ میں روزنامہ دنیا کے دو وکیل پیش ہوئے۔اس لیے یہ رٹ خارج کی جائے۔جبکہ اسلام آباد این آئی آر سی کی عدالت کے خلاف اپیل اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہی کی جاسکتی ہے اس لیے اپ کا دائرہ اختیار سماعت نہیں۔
یہ بھی پڑھئِے
نکاح نامے میں نئے کالم سےحق مہر کی جائیداد کی ملکیت ظاہر کر نے کا حکم – urdureport.com
کچے کے چھوٹو گینگ کے ملزمان کی سزائے موت برقرار – urdureport.com
درخواست گزار نیشنل کمیونیکیشن کے وکیل نے کہا کہ درخواست گزار صحافی ہین جس کا ذہنی کام ہے اور یہ ورکر یا ورک مین کی تعریف میں نہیں آتے اور یہ کہ ملازمین کی سنگل بینچ کے روبرو درخواست زائر المیعاد تھی۔
لاھور ہائی کورٹ کا فیصلہ
لاھور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں روزنامہ دنیا نیشنل کمیونیکیشن کے سی ای او میاں عامر محمود کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن 46361/25 اور46362/25 کو منظور کرکے دوبارہ دو نکات و دیگر پر فریش سماعت کے لیے این آئی آر سی کو واپس بھجوا دیا اور این آئی آر سی کے فل بینچ میں اپیل کو دو ماہ کی طویل تاخیر سے دائر کرنے بارے زائد المیعاد عرصہ معاف کردیا اور اپنے فیصلے میں کوئی اس کی وجوہات بھی نہیں لکھیں کہ دو ماہ کا زائد المعیاد عرصے کی کیوں معافی دی جا رہی ہے۔
تاہم عدالت نے لکھا کہ این آئی ار سی کے فل بینچ نے درخواست گزار کی اپیل کو زائد المعیاد ہونے کی بنا پر خارج کرتے ہوءے مناسب وجوہات نہیں لکھیںاور نہ ہی دائرہ اختیار سماعت بارئے فیصلے میں لکھا۔لاھور ہائی کورٹ نے درخواست گزار نیشنل کمییونیکشن کی ذائد المیعاد درخواست پر زائد المعیاد عرصہ کی معافی بارے وجوہات نہیں لکھیں اور نہ ہی کیس کو دوبارہ این آئی آر سی کے فل بینچ کو بھجوایا ۔عدالت نے ملازمین کی پہلی درخواست کے زائد المیعاد ہونے کے حوالے سے این آر آر سی کے سنگل بینچ کو اس نکتے کو دوبارہ سننے کا حکم دیا۔


