کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن نے اے لیول ریاضی کے ایک اور پرچے کے لیک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستان میں ہونے والا آئندہ امتحان ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ادارے کے مطابق یہ فیصلہ اضافی سکیورٹی اقدامات اور امتحانی نظام کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا۔
کیمبرج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کیمبرج انٹرنیشنل اے ایس لیول میتھمیٹکس پیپر 52 (9709)، جو 12 مئی کو مختلف انتظامی زونز میں لیا گیا تھا، امتحان سے قبل غیر قانونی طور پر شیئر کیا گیا۔ ادارے کے مطابق اس معاملے کی فوری تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ پرچہ کس حد تک پھیلا اور اس میں کون عناصر ملوث تھے۔
کیمبرج نے بتایا کہ پاکستان میں متعلقہ شراکت داروں سے مشاورت کے بعد 15 مئی کو ہونے والا اے ایس لیول میتھمیٹکس پیپر 32 بھی ملتوی کیا جا رہا ہے۔ ادارے کے مطابق اب طلبہ کے لیے نیا پرچہ تیار کیا جائے گا جبکہ نئی امتحانی تاریخ کا اعلان 22 مئی تک متوقع ہے۔
کیمرج پرچہ کب کب لیک ہوئے؟
یہ پہلا موقع نہیں کہ کیمبرج کے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہو۔ اس سے قبل 30 اپریل کو بھی ادارے نے اعتراف کیا تھا کہ اے ایس میتھمیٹکس کا ایک اور پرچہ مقررہ وقت سے پہلے سوشل میڈیا پر گردش کر رہا تھا۔ مسلسل دوسرے واقعے نے طلبہ، والدین اور اساتذہ میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
سوشل میڈیا پر طلبہ نے دعویٰ کیا کہ حالیہ پرچہ امتحان شروع ہونے سے کئی گھنٹے پہلے واٹس ایپ، ریڈ اٹ اور دیگر پلیٹ فارمز پر موجود تھا۔ بعض صارفین کے مطابق حل شدہ اور غیر حل شدہ دونوں اقسام کی نقول آن لائن شیئر کی گئیں جبکہ کچھ طلبہ نے الزام لگایا کہ پرچہ پہلے فروخت کیا گیا اور بعد ازاں وسیع پیمانے پر پھیل گیا۔
اس صورتحال پر والدین اور طلبہ نے شدید ردعمل دیا ہے۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ لاکھوں روپے کی فیس، ٹیوشن اور ایک سال کی محنت متاثر ہوئی ہے۔ بعض والدین نے امتحان منسوخ کیے جانے کو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب قرار دیا جبکہ کئی طلبہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ دوبارہ امتحان یا متبادل گریڈنگ ان کے نتائج پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
کیمرج امتحانی نظام پر تنقید
سوشل میڈیا پر کیمبرج کے امتحانی نظام اور سکیورٹی انتظامات پر بھی سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ بھاری فیسیں لینے کے باوجود امتحانات کی حفاظت یقینی نہیں بنائی جا سکی۔
مذید پڑھئیں
انمول پنکی کی بغیر ہتھکڑی پیشی کا سخت نوٹس،جوڈیشل ریمانڈ پر – urdureport.com
کیمبرج پاکستان کی ڈائریکٹر عظمیٰ یوسف نے کہا ہے کہ ادارے کی اولین ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ طلبہ اس صورتحال سے متاثر نہ ہوں۔ ان کے مطابق امتحانات کی شفافیت اور گریڈز کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ جامعات اور دیگر ادارے نتائج پر اعتماد قائم رکھ سکیں۔
کیمبرج نے یہ بھی کہا ہے کہ امتحانی پرچوں کی چوری کے حالیہ واقعات غیر معمولی نوعیت کے ہیں اور ادارہ ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کے مختلف راستوں پر کام کر رہا ہے۔ ادارے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں امتحانات کامیابی سے منعقد کیے جاتے ہیں اور امتحانی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کے واقعات انتہائی کم ہوتے ہیں۔


