پاکستان کے تاریخی شہر ٹیکسلا میں واقع قدیم آثار Sirkap اور Mohra Muradu کی بحالی اور مرمت کے کام نے بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں یونیسکو کو موصول ہونے والی ایک شکایت کے بعد پاکستان کو وضاحت پیش کرنا پڑی ہے۔
ذرائع کے مطابق فروری 2026 میں UNESCO نے فرانس میں پاکستانی سفارتخانے کو ایک خط ارسال کیا جس میں کہا گیا کہ ٹیکسلا کے تاریخی مقامات پر جاری تعمیراتی اور بحالی کے کام سے ان آثار کی اصل تاریخی حیثیت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
یہ شکایت ایک نامعلوم تیسرے فریق کی جانب سے کی گئی جس میں الزام لگایا گیا کہ بعض قدیم دیواروں کو گرا کر دوبارہ تعمیر کیا جا رہا ہے جبکہ کچھ مقامات پر جدید تعمیراتی مواد، خصوصاً سیمنٹ، استعمال ہونے کے شواہد بھی موجود ہیں۔
شکایت میں کہا گیا کہ حالیہ تبدیلیاں تاریخی مقامات کی “اوتھینٹیسیٹی” یعنی اصل شناخت اور قدامت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ یونیسکو نے اس معاملے پر ایک ماہ کے اندر وضاحت طلب کی تھی۔
محکمہ اثار قدیمہ کا موقف
دوسری جانب پنجاب کے محکمہ آثارِ قدیمہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹیکسلا میں کوئی نئی تعمیر نہیں کی جا رہی بلکہ صرف قدیم ڈھانچوں کو محفوظ بنانے کے لیے کنزرویشن کا کام کیا جا رہا ہے۔
محکمہ آثار قدیمہ پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل Zaheer Abbas Malik کا کہنا ہے کہ منصوبے میں روایتی پتھر، چونا اور کرش شدہ پتھر استعمال کیے جا رہے ہیں اور کسی بھی غیر مناسب مواد کے استعمال کی اجازت نہیں دی گئی۔
انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایک مرحلے پر ایک ٹھیکیدار کو نامناسب مواد استعمال کرتے ہوئے پایا گیا تھا جس کے بعد اس کے خلاف کارروائی کی گئی۔
ٹیکسلا عالمہ ثقافتی ورثہ
یاد رہے کہ Taxila کو 1980 میں عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق ورلڈ ہیریٹیج سائٹس پر کسی بھی قسم کی بحالی یا تبدیلی کے لیے مخصوص بین الاقوامی اصولوں پر عمل ضروری ہوتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یونیسکو مطمئن نہ ہوا تو ٹیکسلا کو “ورلڈ ہیریٹیج اِن ڈینجر” فہرست میں شامل کیے جانے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے منصوبوں کی پیشگی اطلاع عالمی ورثہ کمیٹی کو دینا ضروری ہوتی ہے تاکہ کسی بھی ناقابلِ واپسی تبدیلی سے بچا جا سکے۔
ٹیکسلا سیاحتی مقام
ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت ٹیکسلا کو جدید سیاحتی مرکز بنانے کے منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے جس کے لیے اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی منصوبے کے تحت تاریخی مقامات کے اطراف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور بعض تعمیرات کو محفوظ فاصلے پر منتقل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
بدھ مت کے پیروکاروں کے مطابق مجسمے کے سامنے موجود کنکریٹ کی رکاوٹ ان کی مذہبی رسومات میں مشکلات پیدا کر رہی تھی۔
اب نظریں جولائی میں ہونے والے ورلڈ ہیریٹیج کنونشن کے اجلاس پر مرکوز ہیں جہاں ٹیکسلا سے متعلق یہ معاملہ زیرِ غور آ سکتا ہے۔ پاکستانی حکام اور ماہرین کی کوشش ہے کہ اس سے قبل ایسے اقدامات کر لیے جائیں جن سے عالمی ادارے کے تحفظات دور ہو سکیں اور ٹیکسلا کو خطرے سے دوچار عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہونے سے بچایا جا سکے۔


