چین نے اپنے انسانی خلائی پروگرام کے تحت شینژو-23 Shenzhou-23مشن کامیابی سے روانہ کر دیا ہے، جو ملک کے 2030 تک چاند پر انسان بھیجنے کے منصوبے کا ایک اہم مرحلہ تصور کیا جا رہا ہے۔ یہ مشن تین خلا بازوں کو چین کے تیان گونگ خلائی اسٹیشن تک لے جائے گا، جہاں وہ مختلف سائنسی اور تکنیکی تجربات انجام دیں گے۔
غیر ملکی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس مشن کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ عملے کا ایک رکن تقریباً ایک سال تک خلا میں قیام کرے گا، جو چین کے انسانی خلائی پروگرام کی تاریخ کا طویل ترین مشن ہوگا۔ اس دوران سائنس دان طویل عرصے تک خلائی ماحول میں رہنے کے انسانی جسم پر اثرات، زندگی برقرار رکھنے والے نظاموں اور مستقبل کے چاندی مشنوں کے لیے درکار ٹیکنالوجی کا جائزہ لیں گے۔

پاکستانی مداحوں اور سائنس کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے اس رپورٹ میں ایک اور بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے کہ چین رواں سال کے آخر تک اپنے ‘تیانگونگ’ خلائی اسٹیشن پر جس پہلے غیر ملکی خلاباز کا استقبال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، اس کا تعلق پاکستان سے ہے۔
انسان کو چاند پر اتارنے کا چینی ہدف
چین کی خلائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ملک 2030 تک اپنے خلا بازوں کو چاند کی سطح پر اتارنے کے ہدف پر کام کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے نئے راکٹس، جدید خلائی جہاز اور چاند پر اترنے کے خصوصی نظام تیار کیے جا رہے ہیں۔ شینژو-23 مشن سے حاصل ہونے والا تجربہ مستقبل کے قمری مشنوں کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔
مذید پڑھئیے
آرٹیمس 2 نے براہ راست چاند کی جانب سفر کیوں نہیں کیا – urdureport.com
میری زمین تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو : آرٹیمس ٹو خلابازوں کا پیغام – urdureport.com
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین گزشتہ چند برسوں کے دوران خلائی تحقیق میں تیزی سے آگے بڑھا ہے۔ اس نے اپنا مستقل خلائی اسٹیشن قائم کیا، چاند اور مریخ کے لیے کامیاب تحقیقی مشن بھیجے اور اب امریکہ سمیت دیگر بڑی خلائی طاقتوں کے ساتھ نئی خلائی دوڑ میں نمایاں مقام حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
چینی حکام کے مطابق انسانی خلائی پروگرام صرف سائنسی تحقیق تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد نئی ٹیکنالوجیز کی ترقی، صنعتی جدت اور مستقبل میں چاند پر مستقل تحقیقی سرگرمیوں کی بنیاد رکھنا بھی ہے۔ شینژو-23 کو اسی وسیع حکمت عملی کا ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔


