افغانستان میں طالبان حکومت کے دور میں مذہبی فقہی اختلافات اور خصوصاً شیعہ برادری کے حوالے سے پالیسیوں پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق
عارضی نکاح (نکاح المتعہ) پر طلبی
کابل میں ایک سینئر شیعہ عالم آیت اللہ حسین داد شریفی نے الزام عائد کیا کہ طالبان حکام نے انھیں عارضی نکاح کا معاہدہ کروانے پر طلب کیا اور تشدد کیا، جو کہ شیعہ جعفری فقہ میں قابلِ قبول عمل ہے۔طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر و سماعتِ شکایات کے اہلکاروں نے ان سے تفتیش کی، انھیں مارا پیٹا اور ملک کی شیعہ برادری پر مزید پابندیاں عائد کیں۔طالبان ایک سخت گیر سنی گروہ ہیں اور 15 اگست 2021 کو اقتدار میں واپسی کے بعد سے انھوں نے ملک میں غالب حنفی فقہ کو ہی فروغ دیا ہے۔سنّی فقہ عارضی نکاح (نکاح المتعہ) کو تسلیم نہیں کرتا۔
مقامی علما کے مطابق سابقہ افغان حکومت کے دور میں شیعہ جعفری فقہ کو خاندانی اور شہری معاملات میں قانونی حیثیت حاصل تھی، تاہم طالبان کے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد متعدد سابقہ قوانین معطل کر دیے گئے اور ملک میں زیادہ تر معاملات میں حنفی فقہ کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

شیعہ علما سے تحریری یقین دہانیاں
شیعہ علما کے مطابق انہیں بعض معاملات پر تحریری یقین دہانیاں دینے پر بھی مجبور کیا گیا، جن میں مستقبل میں مخصوص فقہی عمل نہ کرنے کی ہدایت شامل تھی۔ ان کے مطابق بعض مقامات پر مذہبی اجتماعات اور ذاتی معاملات میں بھی سختی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
مذید پڑھئِے
الیکٹرک ، ہائبرڈ گاڑیوں ،سولر پینلز پر جس ایس ٹی بارے ابھی فیصلہ نہیں ہوا،وزارت – urdureport.com
ایران جنگ بندی معاہدہ ، ٹرمپ نے شرائط مزید سخت کر دیں – urdureport.com
دوسری جانب طالبان حکام کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں وہ بارہا اس مؤقف کا اظہار کر چکے ہیں کہ افغانستان میں تمام شہریوں کے حقوق اسلامی اصولوں کے مطابق محفوظ ہیں اور مذہبی ہم آہنگی کو ترجیح دی جاتی ہے۔
افغانستان میں شعیہ برادری
افغانستان میں مذہبی ماہرین کے مطابق ملک میں شیعہ آبادی ایک قابل ذکر تعداد میں موجود ہے اور سابقہ دور میں انہیں بعض فقہی و قانونی معاملات میں محدود دائرہ اختیار حاصل تھا۔ تاہم موجودہ نظام میں فقہی قوانین کے اطلاق میں تبدیلی کے باعث مختلف مکاتب فکر کے درمیان قانونی تشریحات کا فرق نمایاں ہو گیا ہے۔
طالبان حکومت کی جانب سے مختلف مواقع پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ملک میں تمام مذہبی طبقات کے درمیان اتحاد اور نظم و ضبط برقرار رکھا جائے گا، تاہم مذہبی پالیسیوں کے عملی نفاذ پر بحث جاری ہے۔


