وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو سہارا دینے کے لیے پراپرٹی ٹیکس نظام میں اہم اصلاحات متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت فائلرز کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں نمایاں کمی جبکہ نان فائلرز کے لیے موجودہ سخت ٹیکس نظام برقرار رکھنے کی تجویز شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کا مقصد ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں جمود کو ختم کرنا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی لانا ہے۔ اس حوالے سے پراپرٹی ٹرانزیکشنز پر عائد مختلف ٹیکسز میں کمی کی تجاویز زیر غور ہیں تاکہ لین دین کا عمل آسان اور تیز بنایا جا سکے۔
خرید و فروخت پر ٹیکس
مجوزہ اصلاحات کے مطابق فائلرز کے لیے پراپرٹی کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد تک لانے پر غور کیا جا رہا ہے جبکہ فروخت پر عائد 4.5 فیصد ٹیکس کو کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر بحث ہے۔
نان فائلرز کے لیے کسی قسم کی ٹیکس رعایت تجویز نہیں کی گئی۔ ذرائع کے مطابق جائیداد کی خرید و فروخت پر نان فائلرز کے لیے عائد مجموعی ٹیکس بوجھ بدستور برقرار رکھنے پر غور کیا جا رہا ہے جس کے تحت انہیں تقریباً 10.5 فیصد تک ٹیکس ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور زیادہ سے زیادہ شہریوں کو فائلر بننے کی ترغیب دینا ہے، جبکہ مراعات صرف رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان تک محدود رکھی جائیں گی۔
پراپرٹی کی سرکاری ویلیو ایشن
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق حالیہ مہینوں میں پراپرٹی کی سرکاری ویلیو ایشن میں بھی نمایاں کمی کی گئی ہے، جس کا مقصد مارکیٹ میں خرید و فروخت کی سرگرمیوں کو بحال کرنا ہے۔
مذید خبریں
اسلام آباد پراپرٹی خریداروں کے لیے اچھی خبر،بھاری ٹیکس معطل – urdureport.com
سی ڈی اے کا بڑا ریلیف ! اسلام آباد میں ٹرانسفر فیسوں میں کمی – urdureport.com
اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں پراپرٹی سیکٹر سے حاصل ہونے والی ٹیکس آمدنی میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس نے حکومت کو اس شعبے میں پالیسی سطح پر تبدیلیوں پر غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق ان تجاویز پر عالمی مالیاتی اداروں سے مشاورت جاری ہے اور بجٹ کی منظوری کے بعد حتمی اعلان متوقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی بحالی نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ کرے گی بلکہ تعمیراتی صنعت سے جڑی درجنوں ذیلی صنعتوں کو بھی فائدہ پہنچے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔


