فٹبال کے شائقین ایک تاریخی لمحے کے منتظر ہیں کیونکہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کا آغاز 12 جون سے امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں ہونے جا رہا ہے۔ تین ممالک کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہونے والا یہ ایونٹ کئی حوالوں سے منفرد اور ریکارڈ ساز ہوگا۔اس میگگا ایونٹ میں حصہ لینے کے لیے دنیا بھر سے ٹیمیں پہنچنا شروع ہو گئی ہیں۔
پہلی مرتبہ ورلڈ کپ میں 48 ٹیمیں حصہ لیں گی، جس کے باعث ٹورنامنٹ کا حجم ماضی کے تمام ایڈیشنز سے کہیں زیادہ بڑا ہو گیا ہے۔ فیفا کی جانب سے منظور شدہ حتمی اسکواڈز کے مطابق مجموعی طور پر 1248 کھلاڑی عالمی اعزاز کے لیے میدان میں اتریں گے۔

ورلڈ کپ کی تاریخ کا ریکارڈ
ٹورنامنٹ کے فارمیٹ کے تحت تمام ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ میں چار ٹیمیں شامل ہوں گی۔ نئے فارمیٹ کے باعث میچز کی تعداد بھی بڑھ کر 104 ہو گئی ہے، جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ایونٹ میں شامل 357 کھلاڑی ایسے ہیں جو ماضی میں بھی ورلڈ کپ کھیل چکے ہیں، جبکہ 891 فٹبالرز پہلی بار اس عالمی مقابلے کا حصہ بنیں گے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا امتزاج مقابلوں کو مزید سنسنی خیز بنا دے گا۔
رونالڈو اور میسی کا اعزاز
ورلڈ کپ 2026 کی ایک بڑی توجہ عالمی فٹبال کے دو عظیم ستاروں، لیونل میسی Lionel Messi
اور کرسٹیانو رونالڈو Cristiano Ronaldo
پر مرکوز ہے۔ اگر دونوں کھلاڑی میدان میں اترتے ہیں تو یہ ان کا چھٹا ورلڈ کپ ہوگا، جو عالمی فٹبال میں ایک تاریخی سنگ میل تصور کیا جا رہا ہے۔ میکسیکو کے تجربہ کار گول کیپر گیلرمو اوچوا بھی اسی منفرد اعزاز کے قریب ہیں۔
مذید خبریں
النصر نے سعودی پرو لیگ کا ٹائٹل جیت لیا، رونالڈو کی شاندار کارکردگی – urdureport.com
رونالڈو نے جلد فٹ بال سے ریٹائر منٹ کا اعلان کر دیا ،جانئیے وجہ کیا بنی – urdureport.com
اس بار کئی نئی ٹیمیں بھی پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل مرحلے میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ کیپ ورڈے، کوراساؤ، اردن اور ازبکستان کی شمولیت کو عالمی فٹبال کے پھیلاؤ اور نئے ممالک میں کھیل کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دلچسپ حقائق
عمر کے اعتبار سے بھی یہ ایونٹ دلچسپ ریکارڈز کا حامل ہے۔ سب سے کم عمر کھلاڑی کی عمر 17 برس جبکہ سب سے زیادہ عمر 43 برس ہے۔ ٹورنامنٹ میں 40 سال سے زائد عمر کے سات کھلاڑی اور 20 سال سے کم عمر کے 22 نوجوان فٹبالرز شریک ہوں گے۔
کھیل کے ماہرین کے مطابق شمالی امریکا میں ہونے والا یہ میگا ایونٹ نہ صرف فٹبال کی عالمی مقبولیت میں مزید اضافہ کرے گا بلکہ معاشی، تجارتی اور ثقافتی اعتبار سے بھی بڑے اثرات مرتب کرے گا۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ ناظرین کی تعداد، ڈیجیٹل رسائی اور آمدنی کے کئی نئے عالمی ریکارڈ قائم ہوں گے۔
دنیا بھر کے کروڑوں شائقین اب افتتاحی دن کا انتظار کر رہے ہیں، جب 48 قومی ٹیمیں عالمی چیمپئن بننے کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اپنی مہم کا آغاز کریں گی اور فٹبال کی تاریخ کے سب سے بڑے ورلڈ کپ کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔


