صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی عملے کے ارکان نے ایک نئی ویڈیو کے ذریعے پاکستانی حکام سے فوری مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور ان کی رہائی کے لیے اب تک کوئی مؤثر پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔
بحری قزاقوں نے رواں سال 21 اپریل کو صومالیہ کے ساحلی علاقے کے قریب ’’ایم ٹی آنر 25‘‘ نامی آئل ٹینکر کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ جہاز پر 17 افراد سوار تھے جن میں 10 پاکستانی بھی شامل ہیں۔ یرغمال بنائے گئے یہ افراد اب ایک ماہ سے زائد عرصے سے قزاقوں کی تحویل میں ہیں۔
صومالی قذاقوں کی ہاتھوں یرغمالی بننے والے پاکستانی عملے کے ارکان کی اپیل ، pic.twitter.com/RlLpugKFYg
— Urdu Report (@UrduReportpk) June 3, 2026
یکم جون کو سامنے آنے والی ویڈیو میں پاکستانی شہری یاسر خان اور ان کے دیگر ساتھی اپنی مشکلات بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو میں عملے کے ارکان جسمانی طور پر کمزور اور ذہنی دباؤ کا شکار نظر آئے۔
یرغمالی نے کیا کہا؟
یرغمالی یاسر خان کے مطابق انہیں پینے کے لیے غیر معیاری اور آلودہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ خوراک انتہائی محدود مقدار میں دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دن بھر میں صرف ایک مرتبہ سادہ ابلے ہوئے چاول کھانے کو ملتے ہیں، جس کے باعث تمام افراد کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔’ہماری مدد کریں، ورنہ ہم مزید زندہ نہیں رہ پائیں گے۔‘
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ جہاز چلانے والی کمپنی کی جانب سے بھی کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں اور نہ ہی انہیں اپنی ممکنہ رہائی کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول قزاقوں اور متعلقہ فریقوں کے درمیان مذاکرات کی صورت حال بھی ان کے لیے غیر واضح ہے۔یرغمالیوں کا کہنا ہے کہ ان کے جہاز کی مالک کمپنی قزاقوں سے کسی قسم کی بات چیت نہیں کر رہی۔
حکام سے اپیل اور قزاقوں سے رابطے
ویڈیو پیغام میں یرغمال پاکستانیوں نے وزیراعظم، صدر مملکت اور آرمی چیف سے درخواست کی کہ ان کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات میں ان کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ معاملے پر مسلسل کام جاری ہے۔ ترجمان کے مطابق پاکستانی حکام صومالی حکومت اور جہاز کے مالکان سے رابطے میں ہیں جبکہ قزاقوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی کوششیں جاری ہیں۔
اہل خانہ کی پریشانی
یرغمالیوں کے اہل خانہ بھی شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ یاسر خان کی اہلیہ نے بتایا کہ ان کے شوہر سے صرف چند منٹ کے لیے بات کرائی جاتی ہے جس دوران وہ اپنی مشکلات اور خراب حالات سے آگاہ کرتے ہیں۔
مذید خبریں
صومالیہ بحری قزاقوں کے قبضہ میں آئل ٹیکنر پر پاکستانی عملے ارکان شدید مشکل میں – urdureport.com
سمندری قزاقوں نے لاکھوں ڈالر تاون طلب کرلیا عملے کی طبیعت خراب – urdureport.com
ایک اور یرغمالی امین بن شمس کی اہلیہ کے مطابق جہاز کا انجن بھی خراب ہو چکا ہے اور خراب موسمی حالات کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات دیگر مسلح گروہ بھی جہاز تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یرغمالیوں کو درپیش مشکلات اور صحت کے مسائل فوری توجہ کے متقاضی ہیں اور وہ حکومت سے اپنے پیاروں کی جلد واپسی کے منتظر ہیں۔


