آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 اسمبلی نشستیں ایک بار پھر شدید بحث کا موضوع بن گئی ہیں۔ اس معاملے پر آئینی وضاحت حاصل کرنے کے لیے حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے، جہاں آج سے اس اہم ریفرنس کی باقاعدہ سماعت شروع ہو رہی ہے۔
حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا موقف
حکومت کا مؤقف ہے کہ مہاجرین کی نمائندگی ریاستی تشخص اور تاریخی پس منظر کا حصہ ہے، اس لیے ان نشستوں کے مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اسی مؤقف کی حمایت میں حال ہی میں قانون ساز اسمبلی سے ایک قرارداد بھی منظور کروائی گئی۔
دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ان نشستوں کو ختم کرنے کے مطالبے پر قائم ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مقیم مہاجرین کے لیے مختص نشستیں آزاد کشمیر کی سیاست اور حکمرانی کے نظام پر غیر ضروری اثرات مرتب کرتی ہیں۔ اسی مطالبے کے حق میں نو جون سے غیر معینہ مدت کی احتجاجی تحریک کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
ممکنہ احتجاجی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے ہیں جبکہ اضافی نفری طلب کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ تعلیمی اداروں نے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے بعض امتحانات ملتوی کر دیے ہیں۔
مہاجرین کی نشتیں کیا ہیں ؟
یہ نشستیں دراصل اُن کشمیری خاندانوں کی نمائندگی کے لیے مختص کی گئی تھیں جو 1947 کے بعد مختلف ادوار میں کشمیر کے دوسرے حصوں سے ہجرت کرکے پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہوئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ نمائندگی آزاد کشمیر کے سیاسی ڈھانچے کا مستقل حصہ بن گئی۔
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان نشستوں کے ارکان کئی مواقع پر حکومت سازی اور سیاسی تبدیلیوں میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے رہے ہیں، جبکہ حامیوں کے مطابق یہ نمائندگی مسئلہ کشمیر اور مہاجرین کے حقوق سے جڑی ایک تاریخی ضرورت ہے۔
ججوں اور آئِنی ماہرین کے درمیان تنازع؟
سابق ججوں، سیاسی رہنماؤں اور آئینی ماہرین کے درمیان بھی اس معاملے پر اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ بعض حلقوں کے نزدیک یہ نشستیں ختم کرنا آئینی اصلاحات کا حصہ ہونا چاہیے، جبکہ دوسرے ماہرین اسے ریاستی وحدت اور کشمیری شناخت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہیں۔
مذید خبریں
دہشت گردی کے الزامات! آزاد کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد – urdureport.com
آن لائن محبوبہ سے ملاقات ؟ آزاد کشمیر کا نوجوان ایل او سی پار کر گیا – urdureport.com
حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ماضی میں کئی دور کے مذاکرات بھی ہوئے، تاہم 12 نشستوں کے معاملے پر کوئی متفقہ حل سامنے نہیں آ سکا۔ یہی وجہ ہے کہ آئندہ انتخابات سے قبل یہ مسئلہ ایک مرتبہ پھر سیاسی درجہ حرارت بڑھا رہا ہے۔
سپریم کورٹ کی آئندہ سماعتوں اور ممکنہ عدالتی رائے کو اس تنازع کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف آزاد کشمیر کی سیاست بلکہ آئندہ انتخابی عمل پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
آزاد کشمیر کے الیکشن
آزاد کشمیر میں اگلے عام انتخابات 2026 میں ہونے ہیں، جن کا امکان ہے کہ جولائی کے آس پاس منعقد ہوں گے کیونکہ موجودہ اسمبلی کی مدت 5 سال ہے اور پچھلے انتخابات 25 جولائی 2021 کو ہوئے تھے۔


