آزاد کشمیر کے ضلع حویلی سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان لائن آف کنٹرول عبور کرکے مقبوضہ کشمیر پہنچ گیا جس کے بعد یہ واقعہ سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ نوجوان کی ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دونوں جانب کے حکام نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولہ کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ آذاد جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والا نوجوان ذیشان میر ان کی تحویل میں ہے۔ دوسری جانب ضلع حویلی کی انتظامیہ کے مطابق نوجوان کے والد کی درخواست پر گمشدگی کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔
Pakistani Young boy crossed LOC to meet his girlfriend. pic.twitter.com/89NQ1y0aHa
— Urdu Report (@UrduReportpk) June 2, 2026
مقبوضہ کشمیر میں محبت
مقامی حکام کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی ایک لڑکی سے رابطے میں تھا اور اسی سلسلے میں اس نے سرحدی لائن عبور کی۔ تاہم خاندان کی جانب سے درج کروائی گئی رپورٹ میں کسی محبت یا دوستی کا ذکر موجود نہیں۔ والد کا مؤقف ہے کہ ان کا بیٹا چند روز قبل مویشی چرانے کے لیے گھر سے نکلا تھا اور اس کے بعد واپس نہیں آیا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں ایک نوجوان اور ایک لڑکی کو ایک ساتھ بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ویڈیو بنانے والا ان سے ان کے نام اور رہائش کے بارے میں سوالات کرتا ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد اس واقعے نے دونوں جانب عوامی توجہ حاصل کر لی۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا تعلق ایل او سی کے قریب واقع اُوڑی سیکٹر کے ایک گاؤں سے ہے۔ اطلاعات کے مطابق لڑکی کو بھی مختصر وقت کے لیے سکیورٹی اداروں نے حراست میں لیا تھا، تاہم بعد ازاں اسے اہل خانہ کے حوالے کر دیا گیا۔ذیشان میر کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی آن لائن محبت ارم بانو سے ملنے کے لیے ایل او سی عبور کر گیا۔
لڑکی کے والد کا موقف
لڑکی کے والد نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ان کی بیٹی اب محفوظ ہے اور گھر واپس آ چکی ہے۔ ان کے مطابق انہیں اس دوستی یا رابطے کے بارے میں پہلے سے کوئی علم نہیں تھا۔
ادھر آزاد کشمیر پولیس کا کہنا ہے کہ نوجوان کے بارے میں معلومات زیادہ تر سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز سے حاصل ہوئی ہیں۔ پولیس اس کے دوستوں، رشتہ داروں اور دیگر قریبی افراد سے بھی معلومات اکٹھی کر رہی ہے تاکہ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔
مذید پڑھئِے
وژن 2030: محمد بن سلمان کے اربوں ڈالر کے تصوراتی منصوبوں کا انجام – urdureport.com
ناقابل شکست جھارا پہلوان: جس کا ہاتھ دنگل میں انوکی نے خود بلند کیا – urdureport.com
حویلی کے سرحدی علاقوں سے تعلق رکھنے والے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر ایل او سی کے قریب قدرتی گزرگاہیں اور برساتی نالے موجود ہیں جنہیں عبور کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی مویشی یا بعض افراد غلطی سے سرحد کے دوسری جانب چلے جانے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔
دونوں جانب خاندانوں کے تاریخی روابط
مقامی سماجی حلقوں کا خیال ہے کہ کشمیر کے دونوں حصوں میں آباد خاندانوں کے درمیان تاریخی اور خاندانی روابط موجود ہیں۔ رابطوں کے محدود ذرائع اور سفری پابندیوں کے باعث بعض اوقات لوگ غیر قانونی راستوں کا انتخاب کر لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایسے حساس واقعات جنم لیتے ہیں۔
حالیہ واقعے کی مکمل حقیقت تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی، تاہم اس نے ایک بار پھر ایل او سی کے دونوں جانب موجود خاندانی، سماجی اور انسانی روابط پر بحث چھیڑ دی ہے۔


