• Home  
  • ناقابل شکست جھارا پہلوان: جس کا ہاتھ دنگل میں انوکی نے خود بلند کیا
- خاص رپورٹ

ناقابل شکست جھارا پہلوان: جس کا ہاتھ دنگل میں انوکی نے خود بلند کیا

تحریر : طارق اقبال چوہدری لاھور کے قذافی سٹیڈیم میں 17 جون 1979 کو 40ہزار تماشاِہوں کے مجمے نے ایک سو روپے(اس وقت تقریباًدس ڈالر) کی پہلی مہنگی ترین ٹکٹ خریدی اور پرجوش انداز میں نعرے لگاتے ہوئے داخل ہوئے مگر یہ کوئی کرکٹ میچ نہیں بلکہ ایک دنگل تھا جسے دیکھنے یہ لوگ آئے۔اس […]

لاھور کے قذافی سٹیڈیم میں 17 جون 1979 کو 40ہزار تماشاِہوں کے مجمے نے ایک سو روپے(اس وقت تقریباًدس ڈالر) کی پہلی مہنگی ترین ٹکٹ خریدی اور پرجوش انداز میں نعرے لگاتے ہوئے داخل ہوئے مگر یہ کوئی کرکٹ میچ نہیں بلکہ ایک دنگل تھا جسے دیکھنے یہ لوگ آئے۔اس کشتی میں پاکستان کے ناقابل شکست زبیر عرف جھارا پہلوان نے وقت کے عظیم جاپانی انوکی پہلوان کو شکست دی اور انوکی نے پانچ راونڈ کی کشتی کے آخر میں خود جھارا پہلوان سے ہار تسلیم کی۔ بعد ازاں دونوں پہلوانوں کی دوستی ہو گئی اور انوکی نے جھارا پہلوان کے بھتیجے کو جاپان لے جاکر پہلوانی کی ٹرینگ دی۔

گاما پہلوان کا خاندان

انوکی سے جھارا کا مقابلہ کیوں ہوا؟

جھارا کی انوکی سے دوستی

جھارا پہلوان کی خوراک

جھارا کا زوال

جھارا کی وفات

تاج برطانیہ میں جڑا کوہِ نور ہیرے کا سفر: اصل حقدار کون سا ملک؟

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!