رانی لکشمی بائی برصغیر کی تاریخ کی ان عظیم شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی بے مثال جرات اور قربانی سے آزادی کی جدوجہد کو نئی سمت دی۔جھانسی کی رانی Rani of Jhansi جس کے آخری الفاظ تھے "انگریزوں کو میرا جسم نہیں ملنا چاہیے۔”اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسا ہی ہوا اور بہادر خاتون آزادی کی جدوجہد میں لڑتے لڑتے دنیا سے رخصت ہو گئی۔

1857 کی جنگِ آزادی war of independence میں ان کا کردار نہ صرف برطانوی سامراج British colonial ruleکے خلاف مزاحمت کی علامت بنا بلکہ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ آزادی کی خواہش کسی جنس یا عمر کی محتاج نہیں ہوتی۔
تاریخ میں ان کی شناخت ان کے مذہب سے نہیں بلکہ 1857 کی جنگِ آزادی میں ان کی بہادری، قیادت اور برطانوی راج کے خلاف مزاحمت کی وجہ سے کی جاتی ہے۔ انہیں برصغیر میں آزادی اور مزاحمت کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
جھانسی کی اس بہادر ملکہ نے ایسے وقت میں تلوار اٹھائی جب خواتین کا میدانِ جنگ میں اترنا غیر معمولی تصور کیا جاتا تھا، اور اپنی بہادری سے تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہوگئیں۔
رانی لکشمی جھانسی کی ملکہ کیسے بنی؟
19 نومبر 1828 کو وارانسی میں پیدا ہونے والی رانی لکشمی بائی کا اصل نام منیکرنیکا تھا، جبکہ گھر میں انہیں "منو” کہا جاتا تھا۔ ان کے والد موراپنت تامبے نے بچپن ہی سے انہیں گھڑسواری، تلوار بازی اور جنگی تربیت دی۔ بعد ازاں ان کی شادی گنگا دھر راؤ سے ہوئی اور وہ جھانسی کی ملکہ بن گئیں۔
شوہر کی وفات اور گود لیے گئے بیٹے دامودر راؤ کے حقِ وراثت کو برطانوی حکومت کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد ان کی زندگی ایک نئے موڑ میں داخل ہوئی، جب انہوں نے انگریزوں کے سامنے جھکنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔
"میں اپنی جھانسی نہیں دوں گی”
برطانوی گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی نے "Doctrine of Lapse” کے تحت جھانسی کو برطانوی سلطنت میں شامل کرنے کی کوشش کی، مگر رانی نے تاریخی الفاظ "میں اپنی جھانسی نہیں دوں گی” کہہ کر انگریز اقتدار کو کھلا چیلنج دیا۔ اسی دوران انہوں نے آسٹریلوی نژاد وکیل جان لینگ کی خدمات بھی حاصل کیں، جنہوں نے بعد میں اپنی تحریروں میں رانی کی ذہانت، وقار اور غیر معمولی شخصیت کا تفصیلی ذکر کیا۔
1857 کی جنگِ آزادی شروع ہوئی تو رانی لکشمی بائی نے جھانسی کی فوج کو منظم کیا، قلعے کے دفاع کو مضبوط بنایا، خواتین کو عسکری تربیت دی اور خود سپاہیوں کی قیادت سنبھالی۔ 1858 میں برطانوی جنرل سر ہیو روز نے جھانسی کا محاصرہ کیا تو کئی ہفتوں تک شدید لڑائی جاری رہی۔
جب جھانسی قلعے کی دیوار پھلانگ کر نکل گئی؟

جھانسی کا قلعہ انڈیا کی موجودہ ریاست اتر پردیش میں واقع ہے۔ قلعہ جھانسی شہر میں ایک پہاڑی پر تعمیر کیا گیا تھا اور تاریخی طور پر یہ ریاستِ جھانسی کا مرکزی دفاعی قلعہ تھا۔ 1857 کی جنگِ آزادی میں یہی قلعہ رانی لکشمی بائی کی مزاحمت کا مرکز بنا، جہاں سے انہوں نے برطانوی افواج کے خلاف تاریخی دفاع کیا۔
قلعہ اپنی مضبوط فصیلوں، توپوں اور دفاعی ساخت کی وجہ سے مشہور ہے اور آج بھی ہندوستان کی اہم تاریخی یادگاروں میں شمار ہوتا ہے۔
جب حالات انتہائی سنگین ہوگئے تو رانی نے اپنے گود لیے بیٹے دامودر راؤ کو پیٹھ سے باندھا، گھوڑے پر سوار ہوئیں اور قلعے کی دیوار پھلانگ کر دشمن کے حصار سے نکل گئیں۔ یہ واقعہ تاریخ کے سب سے جرات مندانہ لمحات میں شمار کیا جاتا ہے۔
جھانسی سے نکلنے کے بعد انہوں نے تاتیا ٹوپے کے ساتھ مل کر گوالیار میں دوبارہ محاذ سنبھالا، مگر 18 جون 1858 کو کوٹا کی سرائے کے مقام پر فیصلہ کن جنگ میں شدید زخمی ہوگئیں۔ تاریخی روایات کے مطابق وہ آخری لمحے تک لڑتی رہیں۔
"انگریزوں کو میرا جسم نہیں ملنا چاہیے۔”
زخمی حالت میں جب انہیں ایک مندر میں منتقل کیا گیا تو انہوں نے اپنے ساتھیوں کو بیٹے دامودر راؤ کی حفاظت کی ہدایت دی اور آخری الفاظ کہے: "انگریزوں کو میرا جسم نہیں ملنا چاہیے۔” ان کی وفات کے فوراً بعد وفادار ساتھیوں اور پجاریوں نے ان کی آخری رسومات ادا کردیں تاکہ برطانوی فوج ان کی لاش تک نہ پہنچ سکے۔حھانسی کی رانی لکشمی بائی کی روح پرواز کر چکی تھی۔ رانی کے چند محافظوں نے فوراً لکڑیاں جمع کیں اور رانی کے جسم کو اس پر رکھ کر آگ لگا دی۔
رانی لکشمی بائی کی بہادری کا اعتراف ان کے دشمنوں نے بھی کیا۔ جنرل ہیو روز نے انہیں باغیوں میں سب سے زیادہ خطرناک اور دلیر رہنما قرار دیا۔ آج بھی ان کا نام آزادی، مزاحمت اور قربانی کی علامت کے طور پر زندہ ہے۔
سبھدرا کماری چوہان کی مشہور نظم کا مصرع "خوب لڑی مردانی، وہ تو جھانسی والی رانی تھی” ان کی جرات کی لازوال گواہی ہے۔ رانی لکشمی بائی نے ثابت کیا کہ حق اور آزادی کی خاطر لڑنے والے لوگ جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں، مگر تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئِے


