چاچا کرکٹ عبدالجلیل کو عالمی شہرت 1986 میں شارجہ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایشیا کپ فائنل کے بعد ملی، جب جاوید میانداد نے چیتن شرما کی آخری گیند پر تاریخی چھکا لگایا۔ اس فتح کی خوشی میں عبدالجلیل نے تقریباً 200 کلو مٹھائی تقسیم کی، جس نے انہیں کرکٹ حلقوں میں مزید معروف بنا دیا۔
پاکستان کرکٹ کے معروف سپر فین اور "چاچا کرکٹ” Chacha Cricket کے نام سے شہرت پانے والے صوفی عبدالجلیل نے 54 سالہ کرکٹ سفیرانہ سفر کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ وہ 4 جون 2026 کو لاہور میں آسٹریلیا کے خلاف میچ کے بعد بطور چیئر لیڈر اپنی ذمہ داریاں ختم کر دیں گے۔یڈر اپنی ذمہ داریاں ختم کر دیں گے۔
Pakistan Zindabad moment of Chacha Cricket in his last ODI in Rawalpindi Stadium. Thanks to all Pindi Cricket Fans for making it memorable day. #PakVsAus pic.twitter.com/baoxExjVRo
— Chacha Cricket (@chachacricketpk) June 1, 2026
چاچا کرکٹ کا پہلا میچ
سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے عبدالجلیل Sufi Abdul-Jalil نے 1969 میں لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ میچ دیکھ کر کرکٹ سے اپنی وابستگی کا آغاز کیا تھا۔ اس وقت وہ صرف 20 سال کے تھے اور پاکستانی پرچم تھامے قومی ٹیم کی حمایت کے لیے سٹیڈیم پہنچے تھے۔
بعد ازاں 1973 میں متحدہ عرب امارات منتقل ہونے کے باوجود ان کا کرکٹ سے عشق کم نہ ہوا۔ شارجہ میں پاکستان کے میچز شروع ہوئے تو وہ محدود وسائل کے باوجود باقاعدگی سے ابوظہبی سے شارجہ سفر کرکے قومی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ پاکستانی پرچم کے رنگوں والا لباس، سبز ٹوپی اور ہاتھ میں قومی جھنڈا ان کی پہچان بن گیا۔
ورلڈ کپ کے لیے مکان بیچ دیا

انہوں نے بتایا کہ 1999 کے کرکٹ ورلڈ کپ Cricket world cupمیں پاکستان کی حمایت کے لیے انگلینڈ جانے کی خواہش پوری کرنے کے لیے انہیں اپنا ذاتی مکان 15 لاکھ روپے میں فروخت کرنا پڑا۔ ان کے مطابق مالی مشکلات کے باوجود ان کی اہلیہ نے اس فیصلے میں ان کا بھرپور ساتھ دیا۔
عبدالجلیل نے اپنی زندگی میں پاکستان کے 500 سے زائد بین الاقوامی میچز میں بطور سپورٹر شرکت کی۔ اس دوران انہوں نے دنیا بھر کے سٹیڈیمز میں قومی ٹیم کی نمائندگی کی اور پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کی کوشش کی۔
بھارتی سپر فین گوتم سدھیر سے دوستی
انہوں نے بھارتی سپر فین گوتم سدھیر Chacha Criket and Gotham Sudheer کے ساتھ اپنی دوستی کو بھی کرکٹ کے ذریعے امن اور بھائی چارے کی علامت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ لوگوں اور قوموں کو قریب لانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
چاچا کرکٹ کے مطابق وہ اپنی جانشینی اپنے بچوں کو سونپنا چاہتے ہیں، تاہم ان کا ماننا ہے کہ حقیقی سپورٹ شہرت یا سوشل میڈیا ویوز کے لیے نہیں بلکہ ملک اور ٹیم کی محبت میں ہونی چاہیے۔
چاچا کرکٹ کا میوزیم
ریٹائرمنٹ کے بعد وہ سیالکوٹ میں ایک میوزیم قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں گزشتہ 54 برسوں کی یادگار تصاویر، تحائف اور کرکٹ سے وابستہ نوادرات محفوظ کیے جائیں گے۔
مذید پڑھئِے
النصر نے سعودی پرو لیگ کا ٹائٹل جیت لیا، رونالڈو کی شاندار کارکردگی – urdureport.com
اگر موقع ملا تو 2027 کا ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے تیار ہوں،کوہلی – urdureport.com
عبدالجلیل نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے اپیل کی ہے کہ ان کے آخری میچ کے موقع پر ان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ساری زندگی پاکستان کے لیے کام کیا اور مستقبل میں بھی کسی نہ کسی شکل میں ملک کی خدمت جاری رکھیں گے۔


