کوئٹہ کے ایک سرکاری ہسپتال میں خاتون ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب حملے کے واقعے کے بعد انہیں مزید علاج کے لیے کراچی منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
طبی ذرائع کے مطابق متاثرہ ڈاکٹر کو ابتدائی معائنے اور ضروری ٹیسٹوں کے بعد پلاسٹک سرجری یونٹ میں داخل کیا گیا ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ان کے جسم کا ایک حصہ جھلسا ہے جبکہ آنکھوں پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں، تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ بینائی محفوظ ہے اور مریضہ کی مجموعی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ماہرین کی خصوصی ٹیم متاثرہ ڈاکٹر کے علاج میں مصروف ہے اور ان کی صحت سے متعلق تمام طبی پہلوؤں کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ینگ داکٹرز کا احتجاج
دوسری جانب واقعے کے خلاف طبی برادری میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے احتجاجاً سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز اور بعض وارڈز کی خدمات معطل کرتے ہوئے سکیورٹی انتظامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ ڈاکٹروں کو کام کی جگہ پر محفوظ ماحول فراہم کرنا حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔
طبی حلقوں اور شہری تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس افسوسناک واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ہسپتالوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔
ملزم کی ہلاکت
پولیس حکام کے مطابق حملے میں نامزد ملزم کی شناخت ہسپتال کے ایک ملازم کے طور پر ہوئی تھی۔ واقعے کے بعد شروع کیے گئے سرچ آپریشن کے دوران ملزم کو شہر کے ایک علاقے میں ٹریس کیا گیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ گرفتاری کی کوشش کے دوران ملزم نے فائرنگ کی جس کے جواب میں ہونے والی کارروائی میں وہ ہلاک ہو گیا۔

مذید خبریں
آزاد کشمیر :پیرا ملٹری فورس تعینات، 72 افراد حراست میں، انٹرنیٹ سروسز معطل – urdureport.com
آزاد کشمیر :پیرا ملٹری فورس تعینات، 72 افراد حراست میں، انٹرنیٹ سروسز معطل – urdureport.com
تحقیقات کے مطابق حملہ اس وقت ہوا جب متاثرہ ڈاکٹر اپنے معمول کے فرائض انجام دے رہی تھیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایک شخص وارڈ کے قریب پہنچا اور موقع ملتے ہی ڈاکٹر پر تیزاب پھینک کر فرار ہو گیا۔ حملے کے نتیجے میں ڈاکٹر کے چہرے اور جسم کے مختلف حصے متاثر ہوئے جبکہ انہیں بچانے کی کوشش کرنے والا ایک اور فرد بھی زخمی ہو گیا۔
ملزم کون؟
سول ہسپتال کے سرجیکل وارڈ میں مریضوں کی خدمت کرنے میں مصروف نوجوان خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے والا ملزم ہمایوں شاہ سول ہسپتال کا لفٹ آپریٹر تھا۔
وہ سنگین جرم کرنے کے بعد چند منٹ کے اندر ہسپتال سے باہر فرار ہو گیا تھا۔ بعد میں پولیس نے اسے تلاش کر لیا تو اس نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی اور پولیس کی جوابی فائرنگ سے مارا گیا۔ اب معلوم ہوا ہے کہ اس ملزم کا نام ہمائیوں شاہ تھا اور اس کا تعلق ضلع نوشکی سے تھا۔واقعے سے متعلق مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، ملزم کا موبائل فون فرانزک کے لئے فورنزک لیب بھجوا دیا گیا۔
واقعے کے بعد ہسپتال انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ حکام نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ حملے کے محرکات اور پس منظر کو مکمل طور پر واضح کیا جا سکے۔کیا اس کے شخص کے ساتھ کوئی اور بھی اس کاروائی مین شامل تھا ؟


