پاکستان مسلم لیگ (ن) میں پنجاب کی صوبائی قیادت کے حوالے سے سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کو صوبائی صدر بنانے کے بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آ سکا۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق حمزہ شہباز نے پارٹی قائد نواز شریف کو اپنی خواہش سے آگاہ کیا تھا کہ وہ پنجاب میں متحرک سیاسی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ اس تجویز کو پارٹی کے بعض سینئر رہنماؤں، جن میں خواجہ سعد رفیق اور رانا ثنا اللہ شامل ہیں، کی حمایت بھی حاصل رہی، تاہم اس کے باوجود معاملہ فیصلہ کن مرحلے تک نہیں پہنچ سکا۔
وزیراعظم پبلک افیئرز یونٹ
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران یہ خبریں بھی سامنے آتی رہیں کہ حمزہ شہباز شریف کو وزیراعظم کے پبلک افیئرز یونٹ کا سربراہ مقرر کیا جائے گا اور انہیں وفاقی وزیر کا درجہ بھی دیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے لاہور کے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں دفتر کی تیاریوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، مگر یہ تقرری عملی شکل اختیار نہ کر سکی۔
مزید پرھئِے
اسلام آباد کیفے میں ڈانس پارٹی : ویڈیوز وائرل، انتظامیہ کا ایکشن – urdureport.com
کوئٹہ تیزاب حملہ کیس: خاتون ڈاکٹر کراچی منتقل ، اصل ملزم کون تھا؟ – urdureport.com
پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ سے سبکدوش ہونے کے بعد حمزہ شہباز شریف کی سیاسی سرگرمیاں محدود رہیں، تاہم حالیہ مہینوں میں انہوں نے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں سے رابطے بڑھاتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹریٹ میں ملاقاتوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا ہے۔
حمزہ کی تقرری میں مریم نواز روکاٹ

ان کے قریبی حلقوں کا مؤقف ہے کہ حمزہ شہباز پارٹی کی صوبائی قیادت سنبھالنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔دوسری جانب پارٹی کے بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف حمزہ شہباز کو اس اہم تنظیمی عہدے پر لانے کے حق میں نہیں ہیں، جس کی وجہ سے معاملہ تاخیر کا شکار ہے۔
اطلاعات کے مطابق نواز شریف نے ماضی میں پنجاب تنظیم میں تبدیلیوں کا عندیہ دیا تھا، جن میں صوبائی صدر اور سیکریٹری جنرل کے عہدوں پر نئے تقرر بھی شامل تھے، تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
فی الوقت رانا ثنا اللہ مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر جبکہ احسن اقبال پارٹی کے سیکریٹری جنرل کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔


