امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ Donald Trump کی جانب سے ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کے لیے H-1B ویزا پر عائد کی گئی ایک لاکھ ڈالر کی اضافی فیس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا ہے۔
بوسٹن کی وفاقی عدالت کے جج نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ مذکورہ فیس دراصل ایک ٹیکس کی حیثیت رکھتی تھی، جبکہ امریکی قانون کے تحت اس نوعیت کا ٹیکس عائد کرنے کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہے۔ عدالت کے مطابق صدر کو یکطرفہ طور پر ایسی مالی پابندی نافذ کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
یہ قانونی چیلنج 20 ڈیموکریٹک ریاستوں کے اٹارنی جنرلز کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ H-1B ویزا فیس میں غیر معمولی اضافہ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ اس سے امریکی کاروباری اداروں اور ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔
پروگرام کی تفصیل
H-1B پروگرام کے تحت ہر سال 65 ہزار غیر ملکی ماہرین کو امریکا میں کام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ اعلیٰ تعلیمی قابلیت رکھنے والوں کے لیے مزید 20 ہزار ویزے مختص ہیں۔ اس سے قبل آجر حضرات عام طور پر دو ہزار سے پانچ ہزار ڈالر تک فیس ادا کرتے تھے، تاہم نئی پالیسی کے تحت یہ رقم بڑھا کر ایک لاکھ ڈالر کر دی گئی تھی۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق بھاری فیس کے نفاذ کے بعد H-1B ویزا درخواستوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور مقررہ مدت تک صرف چند درجن درخواست گزاروں نے یہ رقم جمع کرائی۔
ٹرمپ انتظامیہ کا موقف
ٹرمپ انتظامیہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ رقم ایک مالیاتی جرمانہ ہے جس کا مقصد بعض غیر ملکی کارکنوں کے امریکا میں داخلے کو محدود کرنا تھا، اور صدر کو امیگریشن قوانین کے تحت ایسا اختیار حاصل ہے۔ تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فیس کی نوعیت اور اس کے عملی اثرات واضح طور پر اسے ٹیکس ثابت کرتے ہیں۔
مذید خبریں
ایران اور اسرا*ئیل فوری ایک دوسرے کے خلاف حملے روک دیں،صدر ٹرمپ – urdureport.com
اسلام آباد کیفے میں ڈانس پارٹی : ویڈیوز وائرل، انتظامیہ کا ایکشن – urdureport.com
فیصلے کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم قانونی ماہرین اسے H-1B ویزا پالیسی کے حوالے سے ایک اہم عدالتی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔


