کوئٹہ:خاتون ڈاکٹر پر تیزاب کیوں پھینکا وجہ سامنے آگئی
جون 10, 2026
0 Comments
102 Views
کوئٹہ میں تیزاب گردی کا نشانہ بننے والی خاتون ڈاکٹر ماہ نور کی پہلی بڑی سرجری کامیابی سے مکمل کر لی گئی ہے۔ کراچی کے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں ہونے والے اس آپریشن کے دوران متاثرہ حصوں سے مردہ جلد کو ہٹایا گیا جبکہ آئندہ مرحلوں میں جلد کی پیوندکاری سمیت دیگر طبی اقدامات […]
Share This Article:
کوئٹہ میں تیزاب گردی کا نشانہ بننے والی خاتون ڈاکٹر ماہ نور کی پہلی بڑی سرجری کامیابی سے مکمل کر لی گئی ہے۔ کراچی کے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں ہونے والے اس آپریشن کے دوران متاثرہ حصوں سے مردہ جلد کو ہٹایا گیا جبکہ آئندہ مرحلوں میں جلد کی پیوندکاری سمیت دیگر طبی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
متاثرہ ڈاکٹر کے بھائی فرحت ناصر کے مطابق سرجری کے بعد ڈاکٹر ماہ نور کی حالت میں بہتری آئی ہے، تاہم زخموں میں انفیکشن کے خدشے کے باعث انہیں خصوصی نگرانی اور آئسولیشن میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ علاج کا عمل مختلف مراحل پر مشتمل ہے اور مزید سرجریز بھی متوقع ہیں۔
تیزاب کیوں پھینکا؟
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ واقعہ مبینہ طور پر یکطرفہ دلچسپی کا نتیجہ تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نے ڈاکٹر ماہ نور کو رشتے کا پیغام بھجوایا تھا، تاہم انکار کے بعد وہ مشتعل ہو گیا اور مبینہ طور پر تیزاب حملے جیسا سنگین اقدام کیا۔ذرائع نے مزید بتایا کہ واقعے سے کچھ دیر قبل ایک خاتون کے ذریعے ڈاکٹر ماہ نور تک رشتے کا پیغام پہنچایا گیا تھا، جسے مسترد کیے جانے کے بعد ملزم نے مبینہ طور پر یہ حملہ کیا۔
پولیس کے مطابق ملزم کے موبائل فون کا فرانزک تجزیہ جاری ہے تاکہ مزید شواہد حاصل کیے جا سکیں۔ ابتدائی جائزے میں پیغامات سے کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آیا، تاہم تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر متعلقہ مواد حذف کیا جا چکا ہے، جسے جدید فرانزک تکنیک کے ذریعے بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر کا موقف
سینئر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ، جو کراچی میں ڈاکٹر ماہ نور اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کر چکی ہیں، کا کہنا ہے کہ متاثرہ ڈاکٹر اور ان کے خاندان کے حوصلے بلند ہیں اور وہ علاج کے مراحل کا بھرپور عزم کے ساتھ سامنا کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ڈیوٹی کے دوران نامعلوم شخص نے ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینک دیا تھا، جس کے نتیجے میں ان کا چہرہ، ہاتھ اور آنکھیں متاثر ہوئیں۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج سرکاری اخراجات پر جاری ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق ماہرینِ پلاسٹک سرجری، امراض چشم اور دیگر شعبوں کے ڈاکٹرز پر مشتمل ٹیم متاثرہ ڈاکٹر کے علاج میں مصروف ہے۔ ابتدائی طبی جائزے کے مطابق جسم کا تقریباً 13 فیصد حصہ متاثر ہوا جبکہ گہرے زخموں کا تناسب 7 سے 8 فیصد بتایا گیا ہے۔ ایک آنکھ شدید متاثر ہوئی تھی تاہم ڈاکٹروں نے بینائی محفوظ رہنے کی تصدیق کی ہے، اگرچہ دھندلا پن کے علاج کا سلسلہ جاری ہے۔
دوسری جانب واقعے کے خلاف بلوچستان بھر میں ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ کئی سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروسز کے علاوہ دیگر شعبوں میں جزوی بائیکاٹ کیا جا رہا ہے، جس کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔بلوچستان میڈیکل ٹیچرز ایسوسی ایشن نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شفاف تحقیقات، تیزاب گردی کے خلاف سخت قانون سازی اور ہسپتالوں میں سکیورٹی کے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔