دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کرنے والے ممالک میں شامل سعودی عرب (Saudi Arabia) اب الیکٹرک گاڑیوں (Electric Vehicles – EVs) کی صنعت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پاکستان سمیت دنیا بھر کی آٹو انڈسٹری کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (Public Investment Fund – PIF) نے امریکی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی لوسیڈ موٹرز (Lucid Motors) میں تقریباً 9.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور وہ کمپنی کا سب سے بڑا شیئر ہولڈر بھی ہے۔ لوسیڈ موٹرز اس وقت دنیا کی طویل ترین رینج والی الیکٹرک گاڑیوں میں شمار ہوتی ہے، جبکہ سعودی عرب کے کنگ عبداللہ اکنامک سٹی (King Abdullah Economic City – KAEC) میں کمپنی کا جدید اسمبلی پلانٹ بھی فعال ہو چکا ہے۔
لوسیڈ گاڑیوں کا نیٹ ورک
لوسیڈ (Lucid) گاڑیاں خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اسی دوران عالمی رائیڈ ہیلنگ کمپنی اوبر (Uber) نے بھی اپنے روبوٹیکسی (Robotaxi) نیٹ ورک سعودی حکومت آئندہ دس برسوں کے دوران ایک لاکھ تک لوسیڈ (Lucid) گاڑیاں خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اسی دوران عالمی رائیڈ ہیلنگ کمپنی اوبر (Uber) نے بھی اپنے روبوٹیکسی (Robotaxi) نیٹ ورک کے لیے کم از کم 35 ہزار لوسیڈ گاڑیاں خریدنے اور کمپنی میں 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ لوسیڈ موٹرز کو بڑے پیمانے پر پیداوار بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

دوسری جانب سعودی عرب نے اپنا مقامی الیکٹرک گاڑیوں کا برانڈ سیئر (Ceer) بھی متعارف کرا دیا ہے، جو پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) اور تائیوان کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی فاکس کون (Foxconn) کے اشتراک سے قائم کیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں جرمن آٹو ساز کمپنی بی ایم ڈبلیو (BMW)، جنوبی کوریا کی ہنڈائی ٹرانسس (Hyundai Transys) اور کروشیا کی ریماک ٹیکنالوجی (Rimac Technology) سمیت کئی عالمی ادارے شامل ہیں۔
سیئر سنٹر اپنا برانڈ
سیئر (Ceer) کی فیکٹری بھی کنگ عبداللہ اکنامک سٹی (KAEC) میں زیر تعمیر ہے اور اس کی پہلی الیکٹرک گاڑیاں 2026 میں متعارف کرانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ سعودی عرب کی حکومت 2030 تک سالانہ پانچ لاکھ الیکٹرک گاڑیاں مقامی سطح پر تیار کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
ماہرین کے مطابق سعودی عرب کی یہ پالیسی صرف ماحولیاتی تحفظ کے لیے نہیں بلکہ معیشت کو تیل پر انحصار سے نکالنے، زیادہ خام تیل برآمد کرنے اور مستقبل کی آٹو موبائل سپلائی چین میں اہم مقام حاصل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ سعودی قیادت سمجھتی ہے کہ آنے والے برسوں میں الیکٹرک گاڑیاں عالمی آٹو انڈسٹری کا اہم ستون بن جائیں گی، اس لیے وہ ابھی سے اس شعبے میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
مذید خبریں
BYD کا73.4 ایکڑ پر پاکستان میں پروڈکشن یونٹ ،2026 میں پہلی گاڑی – urdureport.com
پاکستان کے لیے اہمیت
یہ پیش رفت پاکستان کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان نے 2024 میں 16 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا پٹرولیم درآمد کیا جبکہ ملک میں تیل کی مجموعی کھپت کا تقریباً 79 فیصد حصہ ٹرانسپورٹ سیکٹر استعمال کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کیے بغیر پاکستان کے درآمدی بل میں نمایاں کمی ممکن نہیں۔
پاکستان کی نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی (New Energy Vehicle Policy 2025-2030) کے تحت حکومت نے 2030 تک نئی گاڑیوں کی فروخت میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ 30 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں تین ہزار چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ حکام کے مطابق پاکستان کا پاور گرڈ اس وقت تقریباً 50 فیصد استعداد پر کام کر رہا ہے، جس کے باعث اضافی بجلی کو ای وی چارجنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

