سیاح جب وادی کیلاش Kalasha کا سفر کرتے ہیں جس کو وادی کافرستان بھی کہا جاتا ہے تو ان کا بڑا مقصد قدرت کے نہیں بلکہ کیلاشی مذہب روایات اور نسوانی حسن کے نظارے لینا ہوتے ہیں،یہاں آکر سیاحوں کو دنیا سے الگ تھلگ اور عجیب و غریب قسم کی روایات اور کہانیاں سننے کو ملیں گے جن پر پہلی سماعت میں یقین کرنا ممکن نہ ہو گا مگر اپ اس کا عملی مظاہرہ بھی دیکھ سکیں گے۔
کیلاش وادی صرف ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ ایک زندہ ثقافتی ورثہ ہے۔ یہاں کے لوگ اپنی زبان، روایت اور شناخت کو بچانے کے لیے مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔
چترال کی پر اسرار اور دلکش وادیوں میں واقع کیلاش خطہ نہ صرف قدرتی حسن کا شاہکار ہے بلکہ اپنی منفرد ثقافت، روایات اور عقائد کی وجہ سے بھی دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔ ہندوکش کے پہاڑوں Hindu Kush Mountains میں بکھری یہ آبادیاں آج بھی قدیم طرزِ زندگی کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں، مگر ساتھ ہی اپنی شناخت کے تحفظ کی ایک خاموش جدوجہد میں بھی مصروف ہیں۔

وادی کافرستان
کیلاش وادی Kalasha valley کو ماضی میں بعض مؤرخین اور حکمرانوں کی جانب سے "کافرستان” سے منسوب کیا جاتا تھا کیونکہ یہاں کے باشندے اسلام Islam religion قبول کرنے کے بجائے اپنے قدیم مذہبی عقائد اور روایات پر قائم رہے تھے۔یہ فطرت پر یقین رکھتے ہیں یہاں کئی خداوں کو مانا جاتا ہے یہاں کے لوگون میں یہ بات مشہور ہے کہ یہاں پر آکر ہر بندہ ان کا خدا بننے کی کو شش کرتا ہے۔کیلاش مذہب میں فطرت کو مقدس سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے ان کے تہوار، قربانیاں، رقص اور مذہبی رسومات موسموں، فصلوں اور قدرتی مظاہر سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
کیلاش مذہب میں ایک اعلیٰ اور برتر خدا کا تصور موجود ہے جسے عموماً "خودائے” (Khodai) کہا جاتا ہے۔ کیلاشی عقیدے کے مطابق یہی خدا کائنات کا خالق اور سب سے بڑی طاقت ہے۔برٹش راج میں پہلی بار کیلاش کے لوگوں کے لیے ‘سیاہ کافر’ کا لفظ استعمال کیا گیا جس کے بعد کئی کتابوں میں اس کا ذکر کیا گیا۔
آج کیلاش قوم اپنی الگ ثقافتی اور مذہبی شناخت رکھتی ہے اور ان کے علاقے کو کیلاش وادی یا کالاش ویلی ہی کہا جاتا ہے، جبکہ "کافرستان” ایک تاریخی اصطلاح سمجھی جاتی ہے۔
کیلاش وادی کہاں واقع ہے؟
کیلاش (Kalasha) پاکستان کے صوبہ کے پی کے ضلع چترال میں واقع تین خوبصورت وادیوں — بمبوریت، رمبور اور بریر — پر مشتمل ایک منفرد خطہ ہے۔ یہ وادیاں چترال شہر سے تقریباً 30 سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔ سڑک کے ذریعے سفر کرتے ہوئے چترال سے کیلاش پہنچنے میں عموماً ڈیڑھ سے تین گھنٹے لگتے ہیں، تاہم موسم اور سڑک کی صورتحال کے مطابق یہ وقت کم یا زیادہ ہو سکتا ہے۔چترال سے کیلاش کی جانب سفر کوئی آسان کام یا مہم جوئی نہیں کیونکہ راستے ٹوٹے پھوٹے اور خستہ حال ہیں پہاروں کے دامن سے نکلتی تنگ سڑکیں اپ کو بعض سیاحوں کے دلوں کی دھڑکن کو تیز کر دیتی ہیں۔
کیا کیلاش لوگ یونان سے آئے تھے؟
کیلاش قوم کے بارے میں ایک مشہور روایت پائی جاتی ہے کہ وہ سکندر اعظم کے ساتھ آنے والے یونانی سپاہیوں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس نظریے کی وجہ ان کی منفرد شکل و صورت، ہلکی آنکھیں اور بعض ثقافتی روایات ہیں، جو بعض لوگوں کو یونانی تہذیب کی یاد دلاتی ہیں۔
کیلاش قوم کی اصل شناخت ہندوکش کے قدیم مقامی باشندوں کے طور پر کی جاتی ہے۔ اگرچہ سکندر اعظم اور یونانی سپاہیوں سے متعلق کہانیاں آج بھی مقبول ہیں، لیکن موجودہ تحقیق انہیں تاریخی حقیقت کے بجائے ایک دلچسپ روایت قرار دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کیلاش قوم کو دنیا کی منفرد اور قدیم ثقافتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
جدید تاریخی، لسانی اور جینیاتی تحقیقات اس بات کی واضح تصدیق نہیں کرتیں کہ کیلاش لوگ براہِ راست یونانی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کیلاش دراصل ہندوکش کے قدیم مقامی باشندوں کی نسل ہیں، جن کی ثقافت اور مذہبی روایات ہزاروں سال پرانی ہیں۔ ان کی زبان اور رسم و رواج میں وسطی ایشیا اور قدیم ایرانی تہذیبوں کے کچھ اثرات ضرور پائے جاتے ہیں، لیکن انہیں خالص یونانی نسل قرار دینے کے لیے مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں
ایک وادی، تین کہانیاں
یہاں کے باسیوں کی زندگی فطرت کے قریب ہے، جہاں سورج کے طلوع و غروب سے لے کر موسموں کے بدلنے تک ہر چیز زندگی کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اسی لیے یہاں ایک قدیم روایت “سوری جاگیک” بھی موجود ہے، جس میں سورج، چاند اور ستاروں کے ذریعے کھیتی باڑی اور رسومات کا وقت طے کیا جاتا ہے۔
کیلاش وادی میں آج بھی ایک قدیم علم “سوری جاگیک” رائج ہے، جس میں بزرگ افراد سورج کی حرکت، چاند کی گردش اور ستاروں کی پوزیشن دیکھ کر موسم اور فصلوں کی کاشت کے وقت کا تعین کرتے ہیں ۔
مقامی بزرگوں کے مطابق یہ علم نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔ کھیتی باڑی، فصلوں کی بوائی اور حتیٰ کہ قدرتی آفات کے بارے میں اندازے بھی اسی روایت سے جوڑے جاتے ہیں۔
بشالی: خاموش مگر حساس روایت

کیلاش معاشرت کا ایک نہایت منفرد اور حساس پہلو “بشالی یا بشالینی” ہے۔ یہ ایک مخصوص جگہ یا عمارت ہوتی ہے جہاں خواتین مخصوص ایام میں رہائش اختیار کرتی ہیں۔ اس روایت کے مطابق ان دنوں میں خواتین کو بعض گھریلو اور سماجی امور سے الگ رکھا جاتا ہے۔کیلاش ثقافت میں عورتوں کے ماہواری (ایامِ مخصوصہ) اور زچگی سے متعلق روایت کو عام طور پر “بشالی” (Bashali) یا بعض مقامی حوالوں میں “بشالینی” (Bashaleni) کہا جاتا ہے۔
بشالی کے دروازوں پر واضح طور پر لکھا ہوتا ہے: “خبردار! یہ ممنوعہ علاقہ ہے۔” یہاں مردوں کا داخلہ مکمل طور پر منع ہے، جبکہ خواتین بھی مخصوص حالات میں ہی اندر آتی ہیں۔جب کسی عورت کے ایام مخصوصہ کا آغاز ہوجاتا ہے تو اس کو بشالی چھوڑ دیا جاتا ہے یہ ایک گھر نما جگہ احاطہ ہے جو کہ وادہ سے قبرستان کی جانب واقع ہے پھر ان ایام مخصوصہ میں ان کے مردوں کو بھی عورتوں کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں ہوتی اور ان کو دوا خوراک وغیرہ بشالی میں ہی بہم پہنچائی جاتی ہے۔ تاہم یہ روایت آج جدید دور میں سوالات اور بحث کا موضوع بھی بن چکی ہے۔
مردے پر ناچ کر خوشی مناتے ہیں

کیالاشی معاشرے میں بعض ایسی رسومات ہین جو کہ دنیا کے کسی بحِ مزہب علاقے یا ثقافت سے بالکل الگ تھلگ ہیں یہاں گھروں کے درمیان ایک بڑا ہال بنایا گیا ہے اگر کسی بھی گھر کا کوئی فرد وفات پاجاتا ہے تو اس کو اس جگہ پر لے جا کر مردے کے قریبی رشتہ دار اس کے پاس بیھٹہ جاتے ہیں جبکہ باقی کیلاشی مرد و عورت اس پر رقص کرتے ہیں خوشی منائی جاتی ہے ،کیلاشی مذہب میں بنیادی طور پر ہر کام میں خوش منائی جاتی ہے بے شک کسی کے گھر پیدائش ہو یا کوئی وفات پا جائے۔ان کا ماننا ہے کہ مرنے والا اب اگلی بہتر دنیا میں چلا گیا ہے۔
ایک دلچسپ بات کہ مرنے والے کی ملکیت پیسہ زیورات وغیرہ کو بھی اس کے تابوت کے ساتھ چھوڑ دیا جاتا تھا۔کیلاشی قبرستان میں ہمارے دورے کے دوران مقامی افراد نے بتایا کہ پہلے یہاں مرنے والے کے تابوت کو زمین پر اوپن رکھا جاتا تھا اب اس کو دفنایا دیا جاتا ہے۔۔ بعض روایات میں شہد، اناج، نمک، کپڑے، زیورات، شکار کے اوزار اور بندوق رکھنے کا ذکر بھی ملتا ہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں بھی تبدیلیاں آتی گئیں ہیں اور کیلاشی مرنے والوں کو قبرستان میں دفنا دیا جاتا ہے اور اوپر اس کی چارپائی رکھ دی جاتی ہے۔
کیلاش قوم میں مرنے والے کی زندگی کو یاد کرتے ہوئے ایک مخصوص انداز میں اجتماعی تقریبات بھی منعقد کی جاتی ہیں، جنہیں مقامی طور پر "چیک” کی رسم سے جوڑا جاتا ہے۔ اس موقع پر میت کو روایتی کیلاشی ٹوپی پہنائی جاتی ہے جس پر مختلف مالیت کے کرنسی نوٹ آویزاں کیے جاتے ہیں، جبکہ چارپائی پر خشک میوہ جات اور دیگر اشیا رکھی جاتی ہیں۔ میت کے قریبی رشتہ دار اس کے پاس بیٹھتے ہیں جبکہ برادری کے دیگر افراد روایتی موسیقی اور رقص کے ذریعے مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
مقامی روایات کے مطابق ماضی میں کیلاش لوگ اپنے مردوں اور عورتوں کی میتوں کو دیار کی لکڑی سے بنے تابوتوں میں رکھ کر مخصوص مقامات پر چھوڑ دیا کرتے تھے، تاہم وقت کے ساتھ ان رسومات میں تبدیلی آئی اور اب تدفین کا رواج عام ہو چکا ہے۔ روایتی طور پر کسی خاتون کے انتقال پر ایک دن جبکہ مرد کے انتقال پر کئی دن تک تقریبات جاری رہتی تھیں۔
بعد ازاں میت کو قبرستان لے جا کر دفن کیا جاتا ہے اور بعض علاقوں میں اس چارپائی کو، جس پر میت رکھی گئی ہو، قبر کے اوپر الٹا رکھ دینے کی روایت بھی پائی جاتی رہی ہے۔ یہ رسومات کیلاش قوم کے اس منفرد نظریۂ حیات کی عکاسی کرتی ہیں جس میں موت کو زندگی کے اختتام کے بجائے ایک نئے سفر کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔
۔ چلم جوشی (Chilam Joshi)

کیلاش قوم کے سال بھر میں تین بڑے تہوار (میلے) منائے جاتے ہیں، جو ان کی ثقافت، مذہب اور زرعی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔چلم جوشی کیلاش کا سب سے مشہور بہاری تہوار ہے جو عموماً مئی میں منایا جاتا ہے۔ اس تہوار میں لوگ موسمِ بہار کی آمد اور مویشیوں کی افزائش پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ مرد اور خواتین روایتی لباس پہن کر گیت گاتے اور رقص کرتے ہیں۔ اس موقع پر دودھ اور دیگر اشیا کی مذہبی رسومات بھی ادا کی جاتی ہیں۔
اس کے علاوہ اوچاو تہوار اگست یا ستمبر میں فصل پکنے اور پھلوں کی کٹائی پر منایا جاتا ہے۔ لوگ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ فصل اچھی ہوئی۔ اس موقع پر اجتماعی دعوتیں، رقص اور ثقافتی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔جبکہ تیسرا تہوار جو کہ ان کا مقدس تہوار چوموس ہے اس کو دسمبر میں منایا جاتا ہے۔ یہ نئے سال اور موسمِ سرما کے آغاز کی خوشی میں ہوتا ہے۔ تہوار کئی دن جاری رہتا ہے اور اس میں مذہبی رسومات، قربانیاں، روایتی گیت، رقص اور خصوصی اجتماعات شامل ہوتے ہیں۔
کیلاش میلوں میں رنگ برنگے روایتی لباس، موتیوں سے سجے سرپوش، لوک موسیقی، اجتماعی رقص اور مذہبی رسومات خاص توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔ دنیا بھر سے سیاح ان میلوں کو دیکھنے کے لیے چترال کی کیلاش وادیوں کا رخ کرتے ہیں۔
کیلاشی عروتیں لباس اور شادیاں
کیلاش خواتین عموماً لمبے سیاہ لباس پہنتی ہیں جن پر اکثر سیپوں (cowrie shells) کی کڑھائی کی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے چترال میں انہیں “Black Kafirs” (سیاہ کافر) کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ مرد عموماً پاکستانی شلوار قمیض پہن لیتے ہیں، جبکہ بچے چار سال کی عمر کے بعد بڑوں جیسے لباس کے چھوٹے ورژن پہننا شروع کر دیتے ہیں۔

گرد و نواح کی ثقافت کے برعکس کیلاش معاشرے میں عام طور پر مرد و عورت کے درمیان سخت علیحدگی نہیں پائی جاتی اور نہ ہی صنفی میل جول کو برا سمجھا جاتا ہے۔
لڑکیوں کو کم عمری یعنی چار یا پانچ سال کی عمر میں بلوغت کی علامتی تربیت دی جاتی ہے اور عموماً چودہ یا پندرہ سال کی عمر میں ان کی شادی کر دی جاتی ہے۔ اگر کوئی عورت اپنے شوہر کو تبدیل کرنا چاہے تو وہ اپنے نئے ہونے والے شوہر کو ایک خط لکھتی ہے جس میں موجودہ شوہر کی طرف سے دی گئی رقم کا ذکر ہوتا ہے، کیونکہ نئے شوہر کے لیے لازم ہوتا ہے کہ وہ اس سے دگنی رقم ادا کرے۔
کیلاش معاشرے میں “گھر سے بھاگ کر شادی” (elopement) بھی عام ہے، اور بعض اوقات شادی شدہ خواتین بھی اس عمل میں شامل ہو جاتی ہیں۔ یہ روایت ان کے بڑے ثقافتی طریقوں میں شمار ہوتی ہے، اور بعض صورتوں میں اس وجہ سے قبائل کے درمیان تنازع بھی پیدا ہو جاتا ہے، جسے ثالثی کے ذریعے ختم کیا جاتا ہے۔ اس میں نیا شوہر سابقہ شوہر کو دگنا مہر ادا کرتا ہے۔
کیلاش نسبی گروہ (kam) شادی کے لیے اس وقت قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے جب خاندان کم از کم سات پشتوں کے بعد الگ ہو چکا ہو۔ “آگناتی رشتہ توڑنے” (tatbře čhin) کی رسم کے بعد پرانے قریبی رشتے اب شادی کے قابل سمجھے جاتے ہیں۔ ہر نسبی گروہ کا ایک الگ مقدس مقام ہوتا ہے جو Jēṣṭak-hān کہلاتا ہے، جہاں ان کی خاندانی دیوی Jēṣṭak کی عبادت کی جاتی ہے۔
کیلاشی موسیقی
کیلاش کی روایتی موسیقی میں بنیادی طور پر بانسری نما ساز (جو عموماً بلند اور سریلی آواز دیتے ہیں)، گانا، شاعری، تالیاں اور ڈھول شامل ہوتے ہیں۔ ان کے رقص اور موسیقی میں دو خاص قسم کے ڈھول استعمال ہوتے ہیں:
wãc — یہ ایک چھوٹا، گھنٹہ نما (hourglass-shaped) ڈھول ہوتا ہے۔ اسے عموماً چِزِن (chizhin) یعنی دیودار کی لکڑی، کوہریک (kuherik) یعنی صنوبر/پائن نٹ کی لکڑی، یا ازائی (az’a’i) یعنی خوبانی کے درخت کی لکڑی سے بنایا جاتا ہے۔ یہ ڈھول زیادہ تر بڑے ڈھول dãu کے ساتھ بجایا جاتا ہے تاکہ رقص میں ہلکی اور تیز تال کا امتزاج پیدا ہو۔
dãu — یہ ایک بڑا ڈھول ہوتا ہے جسے عام طور پر کیلاش رقص میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے چھوٹے ڈھول wãc کے ساتھ بجایا جاتا ہے، تاکہ بڑا ڈھول گہری اور بھاری آواز دے جبکہ چھوٹا ڈھول اس کے ساتھ ہلکی اور تیز آواز کا توازن پیدا کرے۔
یہ دونوں ڈھول مل کر کیلاش موسیقی اور روایتی رقص کی بنیادی شناخت بناتے ہیں، جو تہواروں اور مذہبی اجتماعات میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
چترال کی سلطنت
شاہ نادر رئیس (1698–1747) نے چترال میں رئیس خاندان (Rais Dynasty of Chitral) کی بنیاد رکھی اور ان کے دور میں رئیس حکمرانوں نے جنوبی چترال پر حملہ کیا جو اس وقت کیلاش لوگوں کے زیرِ اثر تھا۔ کیلاش روایات کے مطابق اس دور میں ان پر شدید ظلم و ستم اور مبینہ قتلِ عام کے واقعات پیش آئے جس کے باعث کئی کیلاش افراد کو اپنی وادی چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑی، جبکہ جو لوگ وہاں رہ گئے انہیں اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے خراج (ٹیکس) ادا کرنا یا جبری مشقت کرنا پڑتی تھی۔
اس دور میں “کیلاش” کی اصطلاح کو عام طور پر “کافر” کے معنی میں استعمال کیا جاتا تھا، تاہم 1835 میں کتی (Kati) لوگوں سے کیے گئے بیانات کے مطابق چترال کے کیلاش کو مکمل طور پر “حقیقی کافر” نہیں سمجھا جاتا تھا۔
اس دور میں “کیلاش” کی اصطلاح کو عام طور پر “کافر” کے معنی میں استعمال کیا جاتا تھا، تاہم 1835 میں کتی (Kati) لوگوں سے کیے گئے بیانات کے مطابق چترال کے کیلاش کو مکمل طور پر “حقیقی کافر” نہیں سمجھا جاتا تھا۔
شناخت اور زبان کی بقا
کیلاش لوگ قدیم روایات کے حامل ہیں جن پر زرتشتی تہذیب کے اثرات بھی دیکھے جا سکتے ہیں، لیکن اصل مسئلہ مذہب نہیں بلکہ ثقافتی بقا ہے۔
کیلاش کمیونٹی کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے آج سب سے بڑا مسئلہ ثقافت یا رسم و رواج نہیں بلکہ “بقا” ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کیلاش زبان یا کالاشا زبان اور ثقافت آہستہ آہستہ دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔ان کے مطابق تعلیمی اداروں میں زیادہ تر اساتذہ باہر سے آتے ہیں، جنہیں نہ مقامی زبان آتی ہے اور نہ ہی مقامی ثقافت کی سمجھ۔ نتیجتاً نئی نسل اپنی اصل شناخت سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
چند اسکولوں میں کیلاش زبان پڑھائی جاتی ہے مگر یہ نظام غیر منظم ہے۔ اسی لیے ان لوگوں نے کیلاش میوزیم کے اندر ایک چھوٹا تعلیمی مرکز قائم کیا ہے جہاں بچوں کو اپنی زبان، تاریخ اور بنیادی مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔
کیلاش وادی آج بھی اپنے روایتی تہواروں، مخصوص لباس، اور منفرد عقائد کے ساتھ زندہ ہے، مگر یہ برادری اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے ایک خاموش جدوجہد میں مصروف ہے۔
مذہب اسلام قبول کرنا
کیلاش لوگ اپنی منفرد ثقافت، زبان اور مذہبی روایات کی وجہ سے ملک کی دیگر آبادیوں سے الگ شناخت رکھتے ہیں۔ ان کے مذہبی عقائد میں فطرت سے وابستہ رسومات، آباؤ اجداد کے احترام اور قدیم ہند-ایرانی روایات کے بعض عناصر پائے جاتے ہیں، جس کے باعث ماہرین انہیں ایک منفرد ثقافتی و مذہبی گروہ قرار دیتے ہیں۔
مذید پڑھئِے
تاج برطانیہ میں جڑا کوہِ نور ہیرے کا سفر: اصل حقدار کون سا ملک؟ – urdureport.com
مانسہرہ چلاس موٹروے کی منظوری: بابوسر ٹاپ پر طویل ترین سرنگ – urdureport.com
چترال میں 14ویں صدی کے دوران مسلم حکمرانی کے قیام کے بعد کیلاش آبادی کی بڑی تعداد وقت کے ساتھ اسلام قبول کرتی گئی، تاہم ایک چھوٹا طبقہ اپنے قدیم مذہب، رسوم و رواج اور ثقافتی شناخت پر قائم رہا۔ یہ لوگ رفتہ رفتہ محدود ہو کر موجودہ کیلاش وادیوں بمبوریت (Bumburet)، رمبور (Rumbur) اور بریر (Birir) تک رہ گئے۔
تاریخی شواہد کے مطابق ماضی میں کیلاش قوم صرف ان تین وادیوں تک محدود نہیں تھی بلکہ ان کی آبادیاں جنجیرت کوہ (Jinjeret Kuh)، اُرتسون (Urtsun)، سوویر (Suwir)، کلکتاک (Kalkatak) اور ڈامل (Damel) سمیت کئی دیگر علاقوں میں بھی موجود تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ مذہبی، سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کے باعث ان کی آبادی سکڑتی گئی اور آج ان کی اکثریت موجودہ کیلاش وادیوں میں آباد ہے۔


