چکوال میں سی سی ڈی اہلکاروں کی فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے میں نو سالہ پاکستانی نژاد آسٹریلوی بچی ہانیہ کی ہلاکت کے بعد آسٹریلیا نے مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے، جبکہ واقعے میں ملوث کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکار کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔
آسٹریلوی وزیرِاعظم Anthony Albanese نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حقائق سامنے لانے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کے لیے غیرجانبدار تحقیقات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کا عمل شفاف ہونا چاہیے تاکہ تمام شکوک و شبہات دور ہو سکیں۔
واقعہ کی تفصیلات
حکام کے مطابق 10 جون کی رات چکوال میں ایک پاکستانی نژاد آسٹریلوی خاندان مبینہ ڈکیتی کی واردات کا سامنا کر رہا تھا کہ اسی دوران فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک سی سی ڈی اہلکار نے گاڑی کو ڈاکوؤں کی گاڑی سمجھ کر فائرنگ کر دی، جس سے نو سالہ Hania Ahmed جان کی بازی ہار گئیں جبکہ ان کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے۔
واقعے کے بعد پولیس نے متعلقہ اہلکار کو گرفتار کر لیا اور اس کے خلاف مقدمہ درج کر کے عدالت میں پیش کیا، جہاں سے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا۔ تفتیشی حکام کے مطابق سرکاری اسلحہ قبضے میں لے کر فرانزک جانچ کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔
سی سی ڈی سربراہ کا اعتراف
سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چھٹہ Sohail Zafar Chattha نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کے دوران تسلیم کیا کہ واقعہ ایک سنگین غلطی کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ تحقیقات مکمل طور پر غیرجانبدار ہوں گی اور محکمہ کسی بھی اہلکار کو تحفظ فراہم نہیں کرے گا۔
مذید خبریں
چکوال : سی سی ڈی فائرنگ سے نو سالہ معصوم ہانیہ جاں بحق،آسٹریلیوی حکام کو نوٹس – urdureport.com
صدر ٹرمپ کی تین پر اسرار شخصیات کے ساتھ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل – urdureport.com
دوسری جانب ہلاک ہونے والی بچی کے والد نے دعویٰ کیا ہے کہ فائرنگ کا آغاز ڈاکوؤں کے بجائے پولیس کی جانب سے ہوا تھا، جس کی تحقیقات جاری ہیں۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے خاندان کے بیانات اور دیگر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔
ادھر واقعے کے بعد مبینہ طور پر ڈکیتی میں ملوث دو افراد بھی ایک الگ پولیس مقابلے میں مارے گئے، تاہم ان کی ہلاکت کے حالات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
آسٹریلیا میں Hania Ahmed کی موت پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کے سکول Australian Islamic College نے بچی کو خوش مزاج، بااخلاق اور ہر دلعزیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طلبہ اور اساتذہ ابھی تک اس سانحے کے صدمے سے باہر نہیں آ سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد رپورٹ اعلیٰ حکام کو پیش کی جائے گی، جس کے بعد مزید قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔


