آزاد کشمیر میں جاری سیاسی کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے شروع کی گئی ہڑتال ساتویں روز میں داخل ہو گئی۔ مختلف علاقوں سے آنے والے مظاہرین راولاکوٹ کے اطراف میں موجود ہیں جبکہ شہر میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ راولاکوٹ اور گردونواح میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو شہر کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ بعض مقامات پر مذاکرات کی پیشکش بھی کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ایسے افراد کے ساتھ بات چیت ممکن ہے جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب نہیں، تاہم بعض رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
احتجاجی قیادت کا موقف
دوسری جانب احتجاجی قیادت نے حکومتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے مطالبات تسلیم ہونے تک دھرنا اور لانگ مارچ جاری رہے گا۔ تنظیمی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت مذاکرات کے نام پر تحریک کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
راولاکوٹ میں سڑکوں کی بندش اور تجارتی سرگرمیوں کی معطلی کے باعث شہریوں کو خوراک، آٹے، گھی اور دیگر ضروری اشیاء کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق کئی علاقوں میں راشن کی قلت پیدا ہو رہی ہے جبکہ ایندھن کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔
مظفر آباد کی صورتحال
دارالحکومت مظفرآباد سمیت دیگر شہروں میں بھی کاروباری مراکز بڑی حد تک بند ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے تاجروں کو دکانیں کھولنے کی ہدایت کی ہے، تاہم ہڑتال کے باعث بیشتر مارکیٹیں بند ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی معمول کے مطابق کام نہیں کر رہی۔
مذید خبریں
راولاکوٹ دھرنا،دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق ،کشیدگی برقرار – urdureport.com
ایران اور امریکا ممکنہ معاہدے کے قریب، چند دنوں میں اعلان متوقع – urdureport.com
ادھر وزارت داخلہ نے احتجاجی تحریک کے بعض رہنماؤں اور سرگرم کارکنوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کی سفارشات متعلقہ فورم کو ارسال کر دی ہیں۔ اس حوالے سے آئندہ چند روز میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔
احتجاجی تحریک کا بنیادی مطالبہ کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص نشستوں کے خاتمے سے متعلق ہے۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ موجودہ نظام میں اصلاحات ضروری ہیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس معاملے کا حل صرف آئینی طریقہ کار اور پارلیمانی اتفاق رائے سے ہی ممکن ہے۔


