اداکارہ مومنہ اقبال نے علامہ ناصر مدنی کو قانونی نوٹس بھجوا دیا جس میں اس پر الزامات لگانے پر معافی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ناصر مدنی کی جانب سے مومنہ اقبال کے بارے میں دیے گئے بعض بیانات ان کی ساکھ، عزت اور پیشہ ورانہ زندگی کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے ہیں۔
معافی کا مطالبہ
نوٹس کے مطابق یہ ریمارکس ہتکِ عزت کے زمرے میں آتے ہیں، لہٰذا فوری طور پر ان کی تردید کی جائے اور عوامی سطح پر معافی مانگی جائے۔نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر مقررہ مدت کے اندر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو اداکارہ اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے مزید کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مومنہ اقبال پہلے ہی مختلف قانونی تنازعات اور ہراسانی سے متعلق مقدمات کے باعث خبروں میں ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں انہوں نے پنجاب اسمبلی کے رکن ثاقب چدھڑ کے خلاف مبینہ سائبر ہراسانی، دھمکیوں اور بلیک میلنگ کے الزامات پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) سے رجوع کیا تھا، جس کے بعد ان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ بھی درج کیا گیا۔


