چکوال میں سی سی ڈی اہلکاروں کی فائرنگ سے نو سالہ معصوم بچی ہانیہ احمد کی موت کے واقعے سے متعلق سامنے آنے والی نئی معلومات نے عوامی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ہانیہ کے والد، آسٹریلوی نژاد پاکستانی عدیل احمد، کا الزام ہے کہ سی سی ڈی اہلکاروں نے اُس وقت ان کی فیملی کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جب وہ ڈاکوؤں کی واردات کا شکار تھے، جبکہ ڈاکوؤں نے بعد میں جوابی فائرنگ کی اور فرار ہو گئے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ سی سی ڈی کے اپنے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل نے تسلیم کیا ہے کہ اہلکاروں کو مسلح مقابلے میں الجھنے کے بجائے ملزمان کا بعد میں تعاقب کرنا چاہیے تھا تاکہ شہریوں کی جان خطرے میں نہ پڑتی۔
آپریشنل طریقہ کار نظر انداز
ایسی اعترافی باتیں اس خدشے کو تقویت دیتی ہیں کہ طے شدہ آپریشنل طریقۂ کار کو نظر انداز کیا گیا، جس کی قیمت معصوم جانوں نے چکائی۔ پولیس اہلکاروں کو طاقت استعمال کرنے کا اختیار اسی لیے دیا جاتا ہے کہ وہ جرائم پیشہ افراد کے مقابلے میں کہیں زیادہ تحمل، احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ مشتبہ افراد کی درست شناخت اور طاقت کے متناسب استعمال جیسے اصول پیشہ ورانہ پولیسنگ کی بنیاد ہیں اور ان پر ہر حال میں عمل ہونا چاہیے۔
فیصلہ سازی پر سوالات
اگر اہلکار فرار ہونے والے جرائم پیشہ افراد اور ڈکیتی سے بچنے کی کوشش کرنے والے خوف زدہ متاثرین میں فرق نہیں کر سکتے تو ان کی تربیت اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ اس انسانی المیے کے علاوہ اس واقعے نے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم نے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ آسٹریلوی حکام سوگوار خاندان کو معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
واقعے میں ملوث اہلکاروں کی گرفتاری اور ان کے خلاف الزامات کو مزید سخت کرنا ضروری اقدامات ہیں، لیکن معاملہ یہیں ختم نہیں ہونا چاہیے۔ پنجاب پولیس کو سی سی ڈی کی تربیت کا جامع جائزہ لینا ہوگا اور آپریشنل غفلت پر سخت احتساب کو یقینی بنانا ہوگا۔ ریاست کی جانب سے چلائی جانے والی ہر گولی عوام کے اعتماد کا بوجھ اپنے ساتھ اٹھائے ہوتی ہے۔


