ایران کی وزارتِ خارجہ نے عندیہ دیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمتی یاداشت جسے ’ریاست ہائے متحدہ امریکا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کا عنوان دیا گیا ہے اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان دستخط کریں گے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے بیان میں بتایا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی مسعود پزشکیان جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے پر دستخط کریں ، یہ تجویز زیر غور ہے۔مفاہمتی یادداشت کے مطابق اس ابتدائی فریم ورک پر جمعہ کے روز باقاعدہ دستخط متوقع ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کو ایک مکمل، جامع اور حتمی معاہدہ طے کرنے کے لیے 60 دن کا وقت ملے گا، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ اس معاہدے کی پاکستان میزبانی کرئے گا اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی تقریب میں شرکت متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندے ایک ایسے فریم ورک پر بات چیت کر رہے ہیں جس کے تحت خطے میں فوجی سرگرمیوں کو روکنے اور اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دیا جائے گا۔
مذید خبریں
ٹرمپ 19 جون سے قبل ہی ایران معاہدے کو جاری کر سکتے ہیں،جے ڈی وینس – urdureport.com
صدر ٹرمپ کی تین پر اسرار شخصیات کے ساتھ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل – urdureport.com
اسلام آباد مفاہمتی یاداشت کا متن
امریکی میڈیا میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق مجوزہ دستاویز میں خطے کے مختلف محاذوں پر جنگ بندی، بحری راستوں کی بحالی اور مستقبل کے جامع معاہدے کے لیے مذاکراتی عمل جاری رکھنے کی شقیں شامل ہیں۔
اس دوران خلیج فارس میں تجارتی سرگرمیوں کو معمول پر لانے اور جہاز رانی کے راستوں کو محفوظ بنانے کے اقدامات بھی زیر غور ہیں۔معاہدے کا سب سے پہلا اور اہم ترین نکتہ تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی ہے ، بشمول لبنان میں اور دونوں فریقین نے یہ عہد کیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف کسی قسم کی نئی جنگ یا فوجی آپریشن شروع نہیں کریں گے۔ امریکا خلیج فارس میں ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنا شروع کرے گا جو حتمی معاہدے کے 30 دن بعد ‘مکمل طور پر ختم’ کر دی جائے گی، ایران بھی خلیج فارس سے بحیرہ عمان تک 60 دن تک تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے لیے اپنی بہترین کوششیں کرے گا
جوہری ہتھیاروں پر معاہدہ
مجوزہ نکات میں ایران کی جانب سے کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کے عزم کا اعادہ اور جوہری مواد کے معاملے پر بین الاقوامی نگرانی کے تحت حل تلاش کرنے کی بات بھی شامل ہے۔ اس کے بدلے میں ایران پر عائد بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی یا خاتمے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے 60 دن کی مدت کوئی لازمی یا حتمی ڈیڈ لائن نہیں، بلکہ اگر ضرورت پڑی تو بات چیت کا عمل مزید آگے بھی بڑھ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اہم بات ایک ایسا معاہدہ حاصل کرنا ہے جو خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا سبب بنے۔۔
تین سو ارب ڈالر
اقتصادی تعاون کے حوالے سے بھی ایک بڑے ترقیاتی فنڈ کی تجویز زیر بحث ہے جس کا مقصد ایران کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی میں مدد فراہم کرنا ہے۔ تاہم اس منصوبے کی مالی تفصیلات اور شراکت داروں کے کردار پر ابھی مزید مشاورت جاری ہے۔معاہدے کی سب سے حیران کن شق ایران کی اقتصادی بحالی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر پر مشتمل ایک بہت بڑے ‘تعمیرِ نو اور اقتصادی ترقی فنڈ’ کا قیام ہے
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان یہ سفارتی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہو سکتے ہیں۔


