وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان ایران سے خام تیل اور توانائی کے شعبے سے متعلق دیگر مصنوعات کی درآمد کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے اور اس سلسلے میں ایرانی حکام سے رابطے جاری ہیں۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان خام تیل سمیت توانائی کے شعبے کی دوسری مصنوعات ایران سے حاصل کرنے کے حوالے سے ایرانی حکام سے رابطے میں ہے،ایران سے خام تیل سمیت توانائی کے شعبے میں جتنی بھی اشیا لے سکا وہ لیے گا، لیکن شرط یہ ہے کہ یہ ہمارے فائدے میں ہو۔ ایران ہمارا برادر، ہمسایہ ملک ہے اور ہم پوری کوشش کریں گے کہ اس سے فائدہ اُٹھائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران پاکستان کا ہمسایہ اور برادر ملک ہے، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تکنیکی پہلووں کا جائزہ
انہوں نے بتایا کہ ایران کا خام تیل زیادہ تر ہیوی کروڈ (بھاری خام تیل) پر مشتمل ہے، جسے پاکستانی ریفائنریوں میں استعمال کرنے کے لیے تکنیکی اقدامات اور دیگر اقسام کے خام تیل کے ساتھ بلینڈنگ کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ حکومت اس حوالے سے مختلف تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ عوام کو کم قیمت ایندھن فراہم کیا جا سکے۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق پاکستان اس وقت روزانہ تقریباً تین سے چار ہزار ٹن ایل پی جی ایران سے درآمد کر رہا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ اس حجم میں مزید اضافہ کیا جائے تاکہ مقامی مارکیٹ میں ایل پی جی کی دستیابی بہتر ہو۔
ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ
ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق سوال پر علی پرویز ملک نے کہا کہ یہ معاملہ اس وقت پیرس میں قائم ثالثی عدالت میں زیر سماعت ہے، تاہم پاکستان چاہتا ہے کہ دونوں ممالک باہمی مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا قابل قبول حل تلاش کریں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران سے گیس کی قیمت دیگر دستیاب ذرائع سے زیادہ ہوئی تو حکومت اضافی بوجھ عوام پر منتقل نہیں کرے گی، بلکہ صرف ایسے معاہدے کیے جائیں گے جو قومی مفاد اور صارفین کے لیے فائدہ مند ہوں۔
تیل کی قیمتوں میں کمی کا معاملہ
دوسری جانب توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی کے باوجود فوری طور پر پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ان کے مطابق ایران اب بھی عالمی منڈی کے نرخوں کے مطابق تیل فروخت کرے گا، البتہ دونوں ممالک کے درمیان کم فاصلے کی وجہ سے نقل و حمل کے اخراجات میں کچھ بچت ممکن ہے۔
مذید خبریں
ٹرمپ نے ایرانی وجود مٹانے کی پھر دھمکی دے دی۔ – urdureport.com
آبنائے ہرمز میں پھر کشیدگی ، امریکی کارروائی کے بعد ایران کے جوابی حملے – urdureport.com
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی ریفائنریاں زیادہ تر ہلکے خام تیل کو پراسیس کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں، جبکہ ایرانی خام تیل نسبتاً بھاری ہے، جس سے فرنس آئل کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے ایران سے بڑے پیمانے پر خام تیل درآمد کرنے سے قبل ریفائنریوں کی تکنیکی صلاحیت اور معاشی فوائد کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہوگا۔


