اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا نیا دور 11 جولائی سے اسلام آباد (Islamabad) میں منعقد ہونے کا امکان ہے۔
العربیہ (Al Arabiya) نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مجوزہ مذاکرات کا مقصد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعطل کا شکار سفارتی عمل کو دوبارہ فعال بنانا اور اہم تنازعات پر پیش رفت حاصل کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ مذاکرات میں ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے، بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
وفود کا اعلان
ذرائع کے مطابق ایرانی وفد کی قیادت اور دیگر ارکان کے حوالے سے باضابطہ اعلان بعد میں کیا جائے گا، جبکہ وفد کی تشکیل کے بارے میں فیصلہ ایرانی قیادت کی مشاورت کے بعد سامنے آنے کا امکان ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے مختلف ذرائع کے ذریعے بالواسطہ سفارتی رابطے جاری ہیں، جن کا بنیادی مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا، اعتماد سازی کو فروغ دینا اور جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کو دوبارہ آگے بڑھانا ہے۔
مذید خبریں
ایران سے خام تیل کی درآمد پر غور، تہران سے پاکستانی رابطے – urdureport.com
ایران کو تیل فروخت کرنے کی مشروط اجازت ، کیا پاکستان کو سستا تیل مل سکے گا؟ – urdureport.com
تاہم مبصرین کے مطابق ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی واپسی اور مستقبل کے معاہدوں کے لیے مطلوب ضمانتوں جیسے معاملات اب بھی دونوں ممالک کے درمیان اہم اختلافی نکات ہیں۔
اگر اسلام آباد میں مذاکرات کا یہ دور منعقد ہوتا ہے تو اسے خطے میں سفارتی سرگرمیوں اور امریکا، ایران تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔


