لندن: برطانوی حکومت نے روچڈیل (Rochdale) گرومنگ گینگ کے مرکزی مجرم شبیر احمد (Shabir Ahmed) کو پاکستان بھیجنے کے معاملے پر پاکستانی حکام سے باضابطہ رابطہ کیا ہے، تاہم قانونی پیچیدگیوں کے باعث اس کی ملک بدری کا عمل تاحال تعطل کا شکار ہے۔
73 سالہ شبیر احمد، جو کم عمر لڑکیوں کے ریپ اور جنسی استحصال کے متعدد مقدمات میں سزا یافتہ ہے، حال ہی میں اپنی قید مکمل کرنے کے بعد جیل سے رہا ہوا ہے۔ برطانوی حکام کے مطابق وہ اس وقت سخت نگرانی میں ایک رہائشی مرکز میں مقیم ہے، جہاں اس پر الیکٹرانک جی پی ایس مانیٹرنگ بھی نافذ ہے۔
پولیس کے مطابق اس گروہ سے متاثر ہونے والی لڑکیوں کی تعداد 50 تک ہو سکتی ہے اور ان میں سے کئی غریب اور مشکل حالات کا سامنا کرنے والی لڑکیاں تھیں۔
بی بی سی کے مطابق 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ (10 Downing Street) کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ برطانیہ نے اس معاملے پر اسلام آباد سے رابطہ کیا ہے اور غیر ملکی مجرموں کو ملک بدر کرنے کے لیے تمام قانونی راستوں پر غور کیا جا رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق کسی بھی شخص کو دوسرے ملک بھیجنے کے لیے متعلقہ ملک کی رضامندی ضروری ہوتی ہے، اسی لیے حکومت مختلف قانونی اور سفارتی آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔
1971 کا قانون ملک بدری میں رکاوٹ
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق امیگریشن ایکٹ 1971 (Immigration Act 1971) کی بعض شقیں شبیر احمد کی فوری ملک بدری میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق چونکہ شبیر احمد 1973 سے قبل برطانیہ منتقل ہوئے تھے اور طویل عرصے تک وہاں قانونی طور پر مقیم رہے، اس لیے انہیں ملک بدر کرنے کا معاملہ قانونی طور پر پیچیدہ بن چکا ہے۔
برطانوی شہریت پہلے ہی ختم کی جا چکی
شبیر احمد کے پاس ماضی میں برطانیہ اور پاکستان دونوں کی شہریت موجود تھی، تاہم 2012 میں بچوں کے خلاف سنگین جنسی جرائم میں سزا ملنے کے بعد ان کی برطانوی شہریت منسوخ کر دی گئی تھی۔
اس معاملے کے بعد برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر (Sir Keir Starmer) نے بھی کیس کا جائزہ لینے کی ہدایت دی، جبکہ حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ ایسے مجرموں کو برطانیہ میں رہنے کی اجازت نہ دی جائے۔

متاثرین میں تشویش
شبیر احمد کی رہائی کے بعد متاثرہ خواتین نے اپنی سلامتی پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں مقدمے کے دوران یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ سزا مکمل ہونے کے بعد تمام مجرموں کو ملک بدر کر دیا جائے گا، تاہم اب تک ایسا نہیں ہوا، جس سے وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں۔
روچڈیل گرومنگ گینگ کیا تھا؟
استغاثہ کے مطابق 2008 سے 2010 کے درمیان شبیر احمد ایک ایسے گروہ کی قیادت کرتا رہا، جو کم عمر اور کمزور حالات کی شکار لڑکیوں کو الکحل اور منشیات کا عادی بنا کر ان کا جنسی استحصال کرتا تھا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق متاثرہ لڑکیوں میں بعض کی عمریں صرف 12 سال تھیں، جبکہ انہیں مختلف مقامات پر لے جا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
مذید خبریں
غیر ملکی خواتین کے چونکا دینے والے انکشافات،کہانی میں نیا موڑ : باس گرفتار ؟ – urdureport.com
گوجرانوالہ عامل کے کہنے پر 4 سالہ بچی کو آگ میں جلانے کی کوشش – urdureport.com
برطانیہ ! 15 ملزمان کو کمسن لڑکی سے زیادتی کیس میں 188 سال قید – urdureport.com
استاد نے کم عمری میں ریپ کرکے خواب چکنا چور کر دئیے،برطانوی خاتون کی کہانی – urdureport.com
2012 میں لیورپول کراؤن کورٹ (Liverpool Crown Court) نے شبیر احمد کو 19 سال قید کی سزا سنائی، جبکہ بعد ازاں مانچسٹر کراؤن کورٹ (Manchester Crown Court) نے ایک اور متاثرہ لڑکی کے ساتھ طویل عرصے تک ریپ اور جنسی استحصال کے مقدمے میں بھی انہیں مجرم قرار دیا۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ بچوں کے خلاف ایسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی، جبکہ شبیر احمد کی ممکنہ ملک بدری سے متعلق تمام قانونی اور سفارتی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔


