گوجرانوالہ میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں مبینہ طور پر ایک عامل کے مشورے پر چار سالہ بچی کو زندہ جلانے کی کوشش کی گئی۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بچی کو بچا لیا اور اس کی والدہ سمیت چار افراد کو گرفتار کر لیا، جبکہ مبینہ عامل کی تلاش جاری ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ تھانہ اروپ کی حدود میں واقع ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پیش آیا۔ گشت پر مامور پولیس اہلکاروں کو ایک شہری نے اطلاع دی کہ ایک گھر سے بچی کی دلخراش چیخیں سنائی دے رہی ہیں اور وہ مدد کی فریاد کر رہی ہے۔
تفتیشی افسر کے مطابق پولیس نے گھر پہنچ کر دروازہ کھلوانے کی کوشش کی، لیکن کوئی جواب نہ ملنے پر دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئی۔ وہاں ایک چار سالہ بچی کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے جبکہ اس کی والدہ، بہن اور دو بھائی مبینہ طور پر اسے جلتے ہوئے چولہے کے قریب رکھ کر آگ سے جھلسا رہے تھے۔
ملزمان کا حملہ
پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کو بچانے کی کوشش کے دوران ملزمان نے اہلکاروں پر ڈنڈوں سے حملہ بھی کیا، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار کی وردی پھٹ گئی۔ بعد ازاں تمام ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا۔
تحقیقات کے مطابق متاثرہ بچی تقریباً 40 فیصد جھلس چکی ہے اور اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ بچی کی والدہ کچھ عرصے سے اپنی اور اپنے بیٹوں کی بیماریوں کے باعث پریشان تھیں۔ مبینہ طور پر وہ علاج کی غرض سے ایک عامل کے پاس گئیں، جس نے دعویٰ کیا کہ بچی پر جنات کا سایہ ہے اور اسی وجہ سے گھر میں بیماریاں اور دیگر مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
تفتیشی افسر کے مطابق عامل نے پہلے گھر میں اگربتیاں جلا کر مبینہ روحانی عمل کرنے کا مشورہ دیا، جو کئی گھنٹے جاری رہا۔ بعد ازاں اس نے مبینہ طور پر بچی کو آگ میں ڈالنے کا کہا، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ اگر واقعی جن موجود ہے تو آگ بچی کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔
مذید خبریں
لاہور: دو غیر ملکی خواتین کا اغوا اور زیادتی،ملزم ڈپٹی وزیر اعظم کا مبینہ رشتہ دار – urdureport.com
جھیل سیف اللہ ، لاہور کے ایک خاندان کے 6 افراد جاں بحق، والد بچاتے رہے – urdureport.com
پولیس کے مطابق ملزمان نے اسی یقین کے تحت گھر کے صحن میں چولہا جلا کر بچی کو آگ کے اوپر رکھا، جس کے باعث وہ بری طرح جھلس گئی۔
عدالت کا حکم
عدالت نے متاثرہ بچی کی والدہ اور اس کی بہن کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے، جبکہ دو بھائیوں کو مزید تفتیش کے لیے چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مزید تحقیقات کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کر دی گئی ہیں، جبکہ مبینہ عامل کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔


