بھارتی اداکار اور گلوکار دلجیت دوسانجھ کی فلم ’ستلج‘ اپنی ریلیز کے صرف 48 گھنٹوں بعد او ٹی ٹی پلیٹ فارم ZEE5 سے ہٹا دی گئی، جس کے بعد فلم ایک بار پھر تنازع کا مرکز بن گئی ہے۔
یہ فلم 3 جولائی کو اسٹریمنگ کے لیے دستیاب کی گئی تھی، تاہم 5 جولائی کو اچانک پلیٹ فارم سے غائب کر دی گئی۔ ZEE5 نے سوشل میڈیا پر مختصر بیان میں فلم کی عارضی معطلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فلم ضرور رکی ہے، لیکن اس سے جڑی بحث جاری رہے گی، اور امید ظاہر کی کہ اسے جلد دوبارہ ناظرین کے لیے پیش کیا جائے گا۔ تاہم پلیٹ فارم نے فلم ہٹانے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی۔

،تصویر کا ذریعہzee5/Insta،تصویر کا کیپشن فلم ستلج کا اصل نام پنجاب 95 تھا
جسونت سنگھ خالڑا کی زندگی پر مبنی فلم
’ستلج‘ معروف انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خالڑا کی زندگی اور جدوجہد پر مبنی ہے۔ خالڑا نے 1980 اور 1990 کی دہائی میں بھارتی پنجاب میں مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں اور نامعلوم افراد کی اجتماعی آخری رسومات کے معاملے کو منظرعام پر لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
ان کے مطابق جون 1984 سے دسمبر 1994 کے دوران امرتسر، مجیٹھہ اور ترن تارن کے شمشان گھاٹوں میں بڑی تعداد میں ایسی لاشوں کی آخری رسومات ادا کی گئیں جن کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تھی۔ خالڑا کا مؤقف تھا کہ ان میں سے متعدد افراد پولیس کارروائیوں کا نشانہ بنے تھے۔
بعدازاں 6 ستمبر 1995 کو انہیں امرتسر میں ان کی رہائش گاہ سے اغوا کر لیا گیا۔ بھارتی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی کے مطابق انہیں غیر قانونی حراست میں رکھنے کے بعد قتل کر دیا گیا اور ان کی لاش ایک نہر میں پھینک دی گئی۔
فلم کی ریلیز سے پہلے بھی مشکلات
اس فلم کا ابتدائی نام "پنجاب 95” رکھا گیا تھا، جبکہ اس سے پہلے اسے "گھلوگھارا” کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ مختلف انتظامی اور سنسر سے متعلق معاملات کے باعث اس کی ریلیز کئی برس تک مؤخر رہی۔
ہدایتکار ہنی ٹریہن کے مطابق فلم کو سنسر سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے دوران متعدد اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں 21 مناظر میں تبدیلی یا حذف کرنے کا کہا گیا، مگر بعد میں یہ تعداد 120 سے تجاوز کر گئی۔
ہدایتکار نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ بعض تجاویز میں فلم سے جسونت سنگھ خالڑا کا نام تک ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا، جسے انہوں نے ناقابل قبول قرار دیا۔
دلجیت دوسانجھ کا ردعمل
فلم ہٹائے جانے کے بعد دلجیت دوسانجھ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اس فلم کو روکا نہیں جا سکتا کیونکہ یہ انصاف اور سچ کی آواز ہے، اور جسونت سنگھ خالڑا کی جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا۔
فلم کی ریلیز کے موقع پر بھی انہوں نے اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ پوری ٹیم نے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر فلم کو مکمل شکل میں ناظرین تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔
ہدایتکار کا مؤقف
ہدایتکار ہنی ٹریہن کا کہنا ہے کہ اگرچہ فلم کا اصل نام برقرار نہیں رکھا جا سکا، لیکن اس کے مواد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق ناظرین کے سامنے وہی مکمل فلم پیش کی گئی جس کا آغاز میں تصور کیا گیا تھا اور اس میں کسی قسم کی سنسر شدہ ترمیم شامل نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی کو فلم پر اعتراض ہے تو وہ قانونی طریقے سے اپنی رائے پیش کرے، کیونکہ وہ ہر جائز سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
نمایاں فنکار
فلم میں دلجیت دوسانجھ کے ساتھ ارجن رامپال، سوویندر وِکی، جگجیت سندھو اور گیتیکا ودیا اوہلیان بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
مذید خبریں
ٹیلر سوئفٹ اور ٹریوس کیلس کی شادی،رومانوی کہانی – urdureport.com
عالیہ بھٹ کی فلم ‘الفا’ کی ریلیز سے قبل بڑی خبر – urdureport.com
فلم کے اچانک ہٹائے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر اظہارِ رائے کا سلسلہ جاری ہے، جہاں متعدد صارفین اس فیصلے کی وجوہات جاننے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ کئی حلقے اسے اظہارِ رائے اور تاریخی واقعات پر بننے والی فلموں سے متعلق ایک اہم معاملہ قرار دے رہے ہیں۔


