• Home  
  • آزاد کشمیر: جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے لانگ مارچ مؤخر کر دیا، دھرنا جاری
- ٹاپ سٹوری

آزاد کشمیر: جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے لانگ مارچ مؤخر کر دیا، دھرنا جاری

مظفرآباد: آزاد کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) نے لانگ مارچ روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے نمائندہ خصوصی کی جانب سے مطالبات پر بات چیت اور مسائل کے حل کی یقین دہانی کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے، […]

مظفرآباد: آزاد کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) نے لانگ مارچ روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے نمائندہ خصوصی کی جانب سے مطالبات پر بات چیت اور مسائل کے حل کی یقین دہانی کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم مختلف مقامات پر جاری پرامن دھرنے بدستور برقرار رہیں گے۔

کمیٹی کا خط

کمیٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع سے بچنے اور مذاکرات کو موقع دینے کے لیے لانگ مارچ مؤخر کیا جا رہا ہے۔ اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے 13 جولائی کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایک تفصیلی خط ارسال کیا تھا، جس کے بعد ان کے نمائندہ خصوصی اور اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے چیئرمین سید قمر رضا نے کمیٹی رہنماؤں سے ملاقات کی اور مطالبات پر تفصیلی گفتگو کی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ نمائندہ خصوصی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام معاملات کو جلد مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی، جس کے بعد لانگ مارچ روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر مظفرآباد منیر قریشی نے بھی کمیٹی کے اس اعلان کی تصدیق کی ہے۔

بلاول بھٹو کا بیان

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظفرآباد میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال تشویشناک ہے اور اس کا تسلسل پاکستان کے مؤقف اور عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، اپنے الفاظ کے انتخاب میں احتیاط برتیں اور تمام تنازعات کو سیاسی اور پرامن انداز میں حل کیا جائے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ریاست کے خلاف اشتعال انگیز بیانات یا قومی اداروں کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس سے پاکستان مخالف عناصر کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافات کا حل صرف مذاکرات اور جمہوری عمل کے ذریعے ممکن ہے۔

سیکریٹری داخلہ کا الزام

ادھر کشمیر حکومت کے سیکریٹری داخلہ چوہدری گفتار حسین نے پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ریاستی اداروں کے خلاف منظم پروپیگنڈا کیا اور عوام کو مشتعل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خواتین اور بچوں کو احتجاج میں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا، جو قابل مذمت ہے، جبکہ حکومت امن و امان، قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں، سیاسی نمائندگی اور دیگر مطالبات کے حوالے سے احتجاج جاری ہے، جس کے باعث مختلف علاقوں میں کشیدگی دیکھنے میں آئی۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!