وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات (Petroleum Products) کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (Oil and Gas Regulatory Authority – OGRA) سات روز کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین کرے گی۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک (Ali Pervaiz Malik) نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ اس فیصلے کی منظوری وفاقی کابینہ دے چکی ہے اور اس کا مقصد قیمتوں کے تعین کے نظام میں شفافیت (Transparency) لانا ہے۔

عالمی منڈی کے مطابق روزانہ قیمتوں میں ردوبدل
حکومت کے مطابق اب عالمی منڈی (International Oil Market) میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے یا کمی کا اثر روزانہ کی بنیاد پر صارفین تک منتقل کیا جائے گا۔ اوگرا نئی قیمتیں روزانہ اپنی ویب سائٹ پر جاری کرے گی تاکہ عوام بھی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار دیکھ سکیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق حالیہ دنوں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل اور خصوصاً ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث نیا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی جانب اہم قدم
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پیٹرولیم مصنوعات کی ڈی ریگولیشن (Deregulation) کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کے تحت قیمتوں کے تعین میں حکومتی مداخلت کم ہوگی اور عالمی مارکیٹ کے مطابق قیمتیں زیادہ تیزی سے تبدیل ہو سکیں گی۔
حکام کے مطابق اس سے قیمتوں کے تعین میں شفافیت بڑھے گی اور عوام کو یہ سمجھنے میں آسانی ہوگی کہ قیمتوں میں اضافہ یا کمی کیوں کی جا رہی ہے۔
پیٹرول پمپ مالکان نے تحفظات ظاہر کر دیے
دوسری جانب پاکستان پیٹرولیم ریٹیلرز ایسوسی ایشن (Pakistan Petroleum Retailers Association) نے حکومتی فیصلے پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ روزانہ قیمتوں میں تبدیلی سے پیٹرول پمپ مالکان کو اسٹاک پر مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، کیونکہ انہیں کئی دنوں کا ذخیرہ پہلے سے رکھنا ہوتا ہے جبکہ نئی قیمتوں کا اطلاق روزانہ ہوگا۔
مذید خبریں
آئی ایم ایف بجٹ مذاکرات :پٹرولیم لیوی میں پھر اضافہ۔بجلی گیس مہنگی – urdureport.com
حکومت نے آئی ایم ایف کی شرط پر پٹرول پر لیوی بڑھا کر بوجھ عوام پر ڈالا – urdureport.com
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ کم کمیشن مارجن کے باعث چھوٹے ڈیلرز کے لیے اس نظام میں کاروبار جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل
حکومت کے اس فیصلے پر سوشل میڈیا پر بھی مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی کے مطابق روزانہ قیمتوں کا تعین شفافیت کو فروغ دے گا، جبکہ ناقدین کے مطابق اس سے عوام، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقے کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جس کے اثرات مہنگائی اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی مرتب ہوں گے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے عوام کو عالمی منڈی میں ہونے والی کمی یا اضافے کا فائدہ اور اثر فوری طور پر منتقل کیا جا سکے گا، جبکہ ناقدین کا خیال ہے کہ اس نئے نظام کی کامیابی کا انحصار مؤثر عملدرآمد اور مارکیٹ کی نگرانی پر ہوگا۔


