پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) International Monetary Fund (IMF)
کے درمیان آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ The Budget for Fiscal Year 2026–27 (FY2026–27) پر جاری مذاکرات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات، محصولات میں اضافے اور سماجی تحفظ کے پروگراموں سمیت متعدد اہم معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، جبکہ بعض اہم نکات پر بات چیت آئندہ دنوں میں بھی جاری رہے گی۔
آئی ایم ایف مشن کی سربراہ ایوا پیٹرووا نے اپنے دورۂ پاکستان کے اختتام پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستانی حکام کے ساتھ معاشی صورتحال، مالیاتی پالیسی اور اصلاحاتی ایجنڈے پر جامع اور تعمیری مذاکرات ہوئے ہیں۔

آمدن پر ٹیکس استثنیٰ
ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو تنخواہ دار طبقے اور کاروباری شعبے کے لیے ٹیکسوں میں مرحلہ وار Gradual tax relief for salaried individuals and the business sectorنرمی کی تجاویز پیش کی ہیں۔ مجوزہ پلان کے تحت سالانہ 10 لاکھ روپے تک آمدن کو انکم ٹیکس سے استثنا دینے، 20 لاکھ روپے تک آمدن پر 5 فیصد ٹیکس نافذ کرنے اور 70 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس شرح 35 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت نے موجودہ 10 فیصد اضافی سرچارج ختم کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔
اسی طرح کارپوریٹ انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس میں آئندہ پانچ برس کے دوران تدریجی کمی کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ برآمدی شعبے پر عائد بعض ٹیکسوں، بشمول ایڈوانس ٹیکس، کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور انٹر کارپوریٹ ڈیویڈنڈ ٹیکس میں ریلیف کی سفارشات بھی آئی ایم ایف کے سامنے رکھی گئی ہیں۔
محصولات میں کمی
حکومتی اندازوں کے مطابق ان رعایتی اقدامات سے قومی محصولات میں 400 سے 950 ارب روپے تک کمی آسکتی ہے، جس کے ازالے کے لیے اضافی ریونیو اقدامات متعارف کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے تقریباً 215 ارب روپے کے نئے محصولات اکٹھے کرنے کا ابتدائی خاکہ بھی پیش کیا ہے۔
مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے دو فیصد کے برابر پرائمری بجٹ سرپلس برقرار رکھنے پر زور دیا، جبکہ حکومت اس ہدف میں کچھ نرمی کی خواہاں ہے تاکہ مجوزہ ٹیکس ریلیف کے اثرات کو متوازن کیا جا سکے۔
پٹرولیم لیوی میں اضافہ
ذرائع کے مطابق پیٹرولیم لیوی میں آئِ ایم ایف نے 18 فیصد اضافے کی سفارش کی ہے ، جس کے نتیجے میں یہ شرح مستقبل میں 100 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔ علاوہ ازیں صوبوں کے لیے اضافی محصولات جمع کرنے اور وفاق کو زیادہ مالی سرپلس منتقل کرنے کے اہداف پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) Federal Board of Revenue (FBR) کے لیے آئندہ مالی سال کا ابتدائی ٹیکس ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے، جبکہ محصولات میں اضافے کے لیے ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم کا دائرہ وسیع کرنے، سیلز ٹیکس نگرانی کو مؤثر بنانے اور مختلف صنعتی شعبوں میں پروڈکشن مانیٹرنگ سخت کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
مذید پڑھئِے
نئی آٹو پالیسی:بجٹ میں الیکٹرک گاڑیاں سستی ہی سستی – urdureport.com
مومنہ اقبال کیس میں نیا موڑ :شادی کی تاریخ سامنے آگئی – urdureport.com
ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو، مشروبات اور کھاد کے شعبوں میں ٹیکس وصولیوں Tax collections from the sugar, cement, tobacco, beverages, and fertilizer sectorsکے فرق کو کم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات زیر غور ہیں، جبکہ ٹیکس آڈٹ اور جدید نگرانی کے نظام سے اضافی محصولات حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام
دوسری جانب حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام Benazir Income Support Programmeکے مستحق خاندانوں کے لیے سہ ماہی امدادی رقم 14 ہزار 500 روپے سے بڑھا کر 18 ہزار روپے کرنے پر اصولی آمادگی ظاہر کی ہے۔ تاہم توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے تحت بجلی اور گیس نرخوں میں سال میں دو مرتبہ نظرثانی کی شرط برقرار رہنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں گردشی قرضے، غیر ملکی کمپنیوں کو ادائیگیاں، توانائی شعبے کی اصلاحات، مالیاتی حکمت عملی اور آئندہ بجٹ کے ترقیاتی و دفاعی اخراجات بھی زیر بحث آئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بیشتر معاملات پر پیشرفت ہو چکی ہے، تاہم چند اہم نکات پر حتمی اتفاق رائے کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے۔


