اسلام آباد: حکومت پاکستان کی مجوزہ آٹوموبائل اینڈ آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-31 ملک کی آٹو انڈسٹری میں اہم تبدیلیوں کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ پالیسی مسودے میں گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹیوں میں کمی، الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے خصوصی مراعات، استعمال شدہ گاڑیوں کی منظم درآمد، آٹو فنانسنگ میں آسانیاں اور صارفین کے تحفظ کے لیے نئے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
مسودے کے مطابق حکومت آٹو سیکٹر کو خصوصی رعایتوں اور تحفظ پر مبنی نظام سے نکال کر مسابقت اور کارکردگی پر مبنی ماڈل کی طرف منتقل کرنا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لیے 2030 تک اوسط درآمدی ٹیرف کو 6 فیصد سے کم کرنے، اضافی کسٹمز ڈیوٹی ختم کرنے اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں 80 فیصد تک کمی لانے کی تجویز دی گئی ہے۔

ڈیوٹی میں کمی
پالیسی کے تحت مکمل درآمد شدہ گاڑیوں (CBUs) پر عائد کسٹمز ڈیوٹیوں میں بتدریج کمی کی جائے گی۔ 850 سی سی تک گاڑیوں پر ڈیوٹی 56 فیصد سے کم ہو کر 35 فیصد، جبکہ 1000 سے 1500 سی سی گاڑیوں پر 76 فیصد سے کم ہو کر 45 فیصد تک لانے کی تجویز ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ڈیوٹی میں کمی سے گاڑیوں کی قیمتیں فوری طور پر کم نہیں ہوں گی کیونکہ شرح مبادلہ، شپنگ اخراجات اور مقامی ٹیکسز بھی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
مسودے میں الیکٹرک اور دیگر کم اخراج والی گاڑیوں کو سب سے زیادہ مراعات دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ نیو انرجی وہیکلز (NEVs) پر صرف ایک فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا جبکہ روایتی گاڑیوں پر 18 فیصد سیلز ٹیکس برقرار رہے گا۔ ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح 9 فیصد تجویز کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس سے مستثنیٰ رکھنے کی سفارش بھی شامل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ میں الیکٹرک گاڑیوں electric cars in budget 2026سیلز ٹیکس ایک فیصد تک گرانے سے مارکیٹ میں الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں میں دس سے پندرہ فیصد تک کمی آئے گی۔
حکومت کا 2030 ہدف
حکومت نے 2030 تک نئی گاڑیوں کی فروخت میں نیو انرجی وہیکلز کا حصہ 30 فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اسی مقصد کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کے مخصوص پرزہ جات پر ابتدائی تین سال تک صرف ایک فیصد کسٹمز ڈیوٹی رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

حکومت کی آٹو پالیسی 2026 Auto policy Pakistan 2026میں پالیسی میں L6 اور L7 کیٹیگری کی چھوٹی شہری گاڑیوں کے فروغ کی بھی تجویز دی گئی ہے، جن کی متوقع قیمت 15 سے 20 لاکھ روپے کے درمیان ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ گاڑیاں موٹر سائیکل اور روایتی کار کے درمیان ایک کم لاگت متبادل فراہم کر سکتی ہیں۔
درامدی گاڑیوں کی اجازت
مجوزہ پالیسی کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی بنیادوں پر درآمد کی اجازت بھی دی جائے گی۔ تاہم درآمد کنندگان کے لیے سخت شرائط رکھی گئی ہیں جن میں کم از کم 35 کروڑ روپے سرمایہ، بعد از فروخت سروس نیٹ ورک اور بین الاقوامی حفاظتی معیارات پر عمل درآمد شامل ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے صارفین کو زیادہ انتخاب اور بہتر خصوصیات والی گاڑیاں دستیاب ہو سکیں گی۔
مذید پڑھئِے
دنیا کا بڑا آٹو شو :نئی چینی الیکٹرک گاڑیاں عالمی مارکیٹ پر چھا گئیں – urdureport.com
پاکستانی مارکیٹ میں سستی الیکٹرک گاڑی کو متعارف کروا دیا گیا – urdureport.com
صارفین کے تحفظ کے لیے بھی اہم تجاویز شامل کی گئی ہیں۔ گاڑی بک کرانے کے بعد قیمت کو لاک کرنے، صرف حکومتی ٹیکسوں میں تبدیلی کی صورت میں قیمت ایڈجسٹ کرنے اور 30 دن سے زائد تاخیر کی صورت میں خریدار کو مالی معاوضہ دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آٹو کمپنیوں کو طویل عرصے تک زیر التوا بکنگز کی رپورٹ بھی جمع کرانا ہوگی۔
آٹو فناسنگ میں سہولت
آٹو فنانسنگ کے شعبے میں قرضوں کی مدت سات سال تک بڑھانے، کم از کم ڈاؤن پیمنٹ 15 فیصد مقرر کرنے اور مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیوں کے لیے ایک کروڑ روپے تک فنانسنگ فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اقدام سے متوسط طبقے کے خریداروں کے لیے گاڑی خریدنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب پالیسی میں مقامی آٹو پارٹس صنعت کے لیے بھی نئے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ حکومت 2031 تک چھوٹی گاڑیوں میں مقامی ویلیو ایڈیشن 80 فیصد، ایس یو ویز میں 55 فیصد اور الیکٹرک گاڑیوں میں 50 فیصد تک بڑھانا چاہتی ہے۔ تاہم صنعت کے بعض حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات میں بہت زیادہ نرمی کی گئی تو مقامی پرزہ ساز صنعت اور روزگار کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مجوزہ پالیسی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس سے پہلی بار پاکستانی گاڑی خریداروں کو زیادہ اختیارات اور متبادل دستیاب ہو سکتے ہیں۔ اگر پالیسی اپنی موجودہ شکل میں منظور ہو جاتی ہے تو مقامی اسمبلرز کو قیمت، معیار اور خدمات کے حوالے سے زیادہ مسابقت کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کا فائدہ بالآخر صارفین کو پہنچ سکتا ہے۔


