نئی دہلی: بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں تعلیمی نظام اور امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف جاری طلبہ تحریک نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ہزاروں طلبہ اور نوجوانوں نے جو جنتر منتر پر احتجاج کر رہے تھے انہوں نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کی، جسے روکنے کے لیے پولیس نے طاقت کا استعمال کیا، جبکہ متعدد افراد زخمی اور درجنوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔
پولیس کے مطابق احتجاج کے دوران بعض مظاہرین نے پتھراؤ کیا، جس کے نتیجے میں 118 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ 70 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ دوسری جانب طلبہ تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ان کا احتجاج پرامن تھا اور پولیس نے بلاجواز لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے حامیوں کے خلاف کارروائی کے ایک روز بعد بھی منگل کو ہزاروں افراد ایک بار پھر دہلی میں جمع ہوئے۔
🚨🚨DELHI: COCKROACH JANTA PARTY PROTEST
Thousands of protesters are at Jantar Mantar pic.twitter.com/UDs33bt8Zr
— Ali Tanoli (@alitanoli889) July 22, 2026
احتجاج کی وجہ کیا ہے؟
مختصر جواب: "کاکروچ جنتا پارٹی (Cockroach Janata Party – CJP)” کوئی روایتی یا رجسٹرڈ سیاسی جماعت نہیں ہے، بلکہ یہ نوجوانوں اور طلبہ کی جانب سے قائم کیا گیا ایک احتجاجی پلیٹ فارم ہے، جسے انہوں نے علامتی طور پر یہ نام دیا ہے۔
یہ تحریک گزشتہ چند ہفتوں سے داخلہ اور مقابلہ جاتی امتحانات میں مبینہ پیپر لیک، بدعنوانی اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبات کے لیے جاری ہے۔ مظاہرین مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان (Dharmendra Pradhan) کے استعفے سمیت امتحانی نظام میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اس تحریک میں معروف سماجی کارکن سونم وانگچک (Sonam Wangchuk) کی شمولیت کے بعد احتجاج کو مزید عوامی توجہ حاصل ہوئی، جبکہ کئی طلبہ نے طویل بھوک ہڑتال بھی کی۔

جنتر منتر کون سی جگہ ہے ؟
جنتر منتر (Jantar Mantar) نئی دہلی (New Delhi) کے وسط میں واقع ایک تاریخی فلکیاتی رصدگاہ ہے، جسے 1724 میں مہاراجہ جے سنگھ دوم (Maharaja Jai Singh II) نے تعمیر کروایا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ مقام بھارت میں پرامن احتجاج، دھرنوں اور عوامی مظاہروں کی ایک اہم علامت بن گیا۔ پارلیمنٹ ہاؤس اور دیگر سرکاری اداروں کے قریب ہونے کی وجہ سے طلبہ تنظیمیں، سیاسی جماعتیں، کسان اور مختلف سماجی گروہ اپنے مطالبات کے حق میں اکثر یہاں احتجاج کرتے ہیں، اسی لیے حالیہ طلبہ تحریک کا مرکزی مرکز بھی جنتر منتر ہی رہا۔
بھوک ہڑتال ختم، تحریک جاری
23 روز تک بھوک ہڑتال کرنے والے طلبہ رہنماؤں نیہا بورا (Neha Bora)، منیش کمار (Manish Kumar) اور آمین امیتوج (Amin Amitoj) نے طبی ماہرین، ارکان پارلیمان اور سماجی شخصیات کی اپیل پر اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ احتجاجی تحریک ختم نہیں ہوگی بلکہ نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
طلبہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد صرف اپنے مطالبات منوانا نہیں بلکہ پورے ملک میں تعلیمی نظام میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کی تشویش
احتجاج کے دوران پولیس کارروائی پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل (Amnesty International) نے پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال کو غیر متناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج کے حق کا احترام کیا جانا چاہیے۔
اپوزیشن کا ردعمل
کانگریس کے رہنما راہل گاندھی (Rahul Gandhi) نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی (Narendra Modi) سے معاملے پر خاموشی توڑنے اور طلبہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب عام آدمی پارٹی (Aam Aadmi Party) کے سربراہ اروند کیجریوال (Arvind Kejriwal) نے بھی پولیس کارروائی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے ساتھ طاقت کا استعمال ناقابل قبول ہے۔
طلبہ کے اہم مطالبات
احتجاج کرنے والے طلبہ نے حکومت کے سامنے تین بنیادی مطالبات رکھے ہیں۔ ان میں سونم وانگچک کو مکمل آزادی کے ساتھ احتجاج جاری رکھنے کی یقین دہانی، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، اور نیٹ 2026 (NEET 2026) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو مالی معاوضہ فراہم کرنا شامل ہے۔
کیا یہ مودی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے؟
سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ احتجاج صرف امتحانات یا تعلیمی اصلاحات تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ نوجوانوں میں بڑھتی بے چینی، روزگار، مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں سے متعلق وسیع تر عوامی خدشات کی علامت بنتا جا رہا ہے۔
مذید خبریں
انڈیا میں جین زی کی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ اکاؤنٹ معطل، لاکھوں فالورز – urdureport.com
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے طلبہ کے تحفظات کو سنجیدگی سے نہ لیا تو یہ تحریک مزید وسعت اختیار کر سکتی ہے اور آنے والے دنوں میں سیاسی ماحول پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔


