اسلام آباد: حکومتِ پاکستان کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کرنے کے فیصلے کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپ مالکان نے غیر معینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔
آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن (All Pakistan Petrol Pump Owners Association) کے مطابق 22 اور 23 جولائی کی درمیانی شب 12 بجے سے ملک بھر کے پیٹرول پمپ بند رکھے جائیں گے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حکومت ان کے مطالبات، بالخصوص ڈیلرز کے مارجن میں اضافے اور نئے قیمتوں کے نظام پر نظرثانی سے متعلق مثبت فیصلہ نہیں کرتی۔

مذاکرات بے نتیجہ، ہڑتال کا اعلان
ایسوسی ایشن کے مطابق وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک (Ali Pervaiz Malik) کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ڈیلرز کے منافع اور روزانہ قیمتوں کے نفاذ پر اتفاق رائے نہ ہو سکا، جس کے بعد ملک گیر ہڑتال کا فیصلہ کیا گیا۔
روزانہ قیمتوں کا نیا نظام کیا ہے؟
حکومت نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ اب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے مطابق روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمت مقرر کرے گی اور اسے اپنی ویب سائٹ پر جاری کرے گی۔
اس سے قبل پاکستان میں پہلے ماہانہ، پھر 15 روزہ، بعد ازاں ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتوں کا تعین کیا جاتا رہا، تاہم اب پہلی مرتبہ یہ نظام روزانہ کی بنیاد پر نافذ کیا جا رہا ہے۔
حکومت نے یہ فیصلہ کیوں کیا؟
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق اس اقدام کا مقصد قیمتوں کے تعین کے نظام میں شفافیت پیدا کرنا اور عالمی منڈی میں آنے والے اتار چڑھاؤ کو فوری طور پر صارفین تک منتقل کرنا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پہلے عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم یا زیادہ ہونے کے باوجود عوام کو اس کا اثر ایک ہفتے بعد محسوس ہوتا تھا، جبکہ نئے نظام کے تحت قیمتوں میں روزانہ معمولی ردوبدل ہو سکے گا۔
پیٹرول پمپ مالکان کے تحفظات
پیٹرول پمپ ڈیلرز کا مؤقف ہے کہ روزانہ قیمتوں میں تبدیلی ان کے کاروبار کو شدید مالی نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ریٹیلرز کا کہنا ہے کہ ہر پمپ پر ہزاروں لیٹر پیٹرول اور ڈیزل کا ذخیرہ موجود ہوتا ہے، اس لیے اگر قیمت روزانہ کم یا زیادہ ہوتی رہے تو موجودہ اسٹاک پر نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ ان کے مطابق موجودہ کمیشن مارجن پہلے ہی ناکافی ہے، ایسے میں نئے نظام کے تحت کاروبار چلانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
ڈیلرز نے یہ بھی نشاندہی کی کہ کراچی سے ملک کے مختلف حصوں تک پیٹرولیم مصنوعات پہنچنے میں کئی دن لگتے ہیں، اس لیے روزانہ قیمتوں میں ردوبدل عملی طور پر متعدد انتظامی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق روزانہ قیمتوں کے تعین سے ماضی کی طرح ایک ہی دن میں بڑے اضافے یا کمی کا امکان کم ہو جائے گا اور قیمتوں میں چھوٹے پیمانے پر روزانہ ردوبدل دیکھنے کو ملے گا۔
مذید خبریں
مذید خبریںپیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ قیمتوں پر تنازع، ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال کی دھمکی – urdureport.com
حکومت نے آئی ایم ایف کی شرط پر پٹرول پر لیوی بڑھا کر بوجھ عوام پر ڈالا – urdureport.com
ان کے مطابق اگر مستقبل میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مزید ڈی ریگولیٹ کیا جاتا ہے تو مختلف آئل مارکیٹنگ کمپنیاں مسابقتی بنیادوں پر قیمتیں مقرر کر سکیں گی، جس سے صارفین کو بہتر انتخاب ملنے کا امکان ہے۔
موجودہ قیمتیں
اوگرا کے مطابق 22 جولائی 2026 کو پیٹرول کی قیمت 320 روپے 73 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 367 روپے 21 پیسے فی لیٹر مقرر ہے۔
اب تمام نظریں حکومت اور پیٹرول پمپ مالکان کے درمیان ممکنہ مذاکرات پر مرکوز ہیں، کیونکہ اگر ہڑتال طویل ہوتی ہے تو ملک بھر میں ایندھن کی فراہمی اور ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔


