تحریر طارق اقبال چوہدری

اردو رپورٹ (شکریہ ہسٹری آف ٹانک/ٹک کے پی کے)
تاریخ میں بعض اوقات ایک ایسا واقعہ رونما ہو جاتا ہے جو بظاہر ایک شخص کی کہانی لگتی ہے مگر وہی کہانی تاریخ کا دھارا موڑ کر رکھ دیتی ہے۔ برطانوی ہندوستان کے شمال مغربی سرحدی علاقے بنوں میں 1936ء میں پیش آنے والا اسلام بی بی (Islam Bibi) کا مقدمہ بھی ایسا ہی ایک واقعہ تھا، جس نے قبائلی علاقوں میں برسوں سے دبی ہوئی بے چینی کو کھلی مزاحمت میں بدل دیا اور ایک مذہبی رہنما فقیر ایپی (Mirzali Khan Wazir) کو برطانوی راج کے خلاف مزاحمت کی علامت بنا دیا۔
ایک ہندو لڑکی سے اسلام بی بی تک
5 مارچ 1936ء کو جندو خیل (Jandu Khel)، ضلع بنوں (Bannu) کی رہائشی ایک ہندو لڑکی رام کور (Ram Kaur)، جسے بعض تاریخی روایات میں کوری (Kauri) بھی کہا گیا ہے، مقامی مسلمان استاد یا سید خاندان سے تعلق رکھنے والے امیر نور علی شاہ (Amir Noor Ali Shah) کے ساتھ گھر چھوڑ کر چلی گئی۔بعد ازاں اس نے اسلام قبول کیا اور اپنا اسلامی نام اسلام بی بی (Islam Bibi) اختیار کیا۔ دونوں نے نکاح کر لیا اور نئی زندگی کا آغاز کیا، لیکن ان کا یہ فیصلہ جلد ہی ایک قانونی، مذہبی اور سیاسی تنازع بن گیا۔

والدہ کا مقدمہ اور برطانوی عدالت
اسلام بی بی کا مقدمہ The case of Islam Bibi ایسا تاریخی واقعہ ثابت ہوا جس نے برطانوی راج کے خلاف بغاوت کو جنم دیا اور مقامی افراد کو اپنے حقوق سے آگاہی فراہم کی۔اسلام بی بی کی والدہ منسا دیوی (Mansa Devi) نے برطانوی حکومت کے خلاف شکایت درج کرائی کہ ان کی نابالغ بیٹی کو اغوا کرکے زبردستی مسلمان بنایا گیا ہے۔
مقدمہ بنوں (Bannu) کی برطانوی عدالت میں پیش ہوا، جہاں سینکڑوں قبائلی عمائدین، علماء اور مقامی افراد کارروائی دیکھنے کے لیے موجود تھے۔
عدالت میں اسلام بی بی نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ اپنی مرضی سے مسلمان ہوئی ہیں اور اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں، تاہم برطانوی عدالت نے انہیں نابالغ قرار دیتے ہوئے شادی کو کالعدم قرار دیا، امیر نور علی شاہ (Amir Noor Ali Shah) کو اغوا کے الزام میں سزا سنائی اور اسلام بی بی کو ان کے ہندو خاندان کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔
https://t.co/tTfE2lO7Jr
A Hindu convert girl eloped with a Muslim Pathan in Bannu during 1936, British court annulling relation triggered revolt against British rule in NWF tribal belt.#BritishNews #indopk #history #frontier #britishempire#tribesmen #tribal #pathan pic.twitter.com/Vl3RRHtTMr— Erfan Khan (@ErfanKhaanz) July 19, 2026
ایک عدالتی فیصلہ، جس نے آگ بھڑکا دی
یہ فیصلہ قبائلی مسلمانوں کے لیے محض ایک قانونی فیصلہ نہیں تھا بلکہ مذہبی آزادی میں مداخلت تصور کیا گیا۔ جونہی عمائدین کمرہ عدالت سے باہر نکلے تو انہوں نے ایک موقف اپنا لیا کہ یہ فیصلہ اسلامی تعلیمات کے منافی ہے لڑکی مسلام ہو چکی ہے ان کا مؤقف تھا کہ ایک مسلمان خاتون کو دوبارہ غیر مسلم خاندان کے حوالے کرنا اسلامی تعلیمات اور قبائلی روایات پشتونولی (Pashtunwali) کی خلاف ورزی ہے۔جلد ہی یہ مقدمہ پورے وزیرستان (Waziristan) میں موضوعِ بحث بن گیا۔
فقیر ایپی کی آمد

اسی ماحول میں وزیر قبیلے کے معروف مذہبی رہنما مرزا علی خان وزیر (Mirzali Khan Wazir)، جو تاریخ میں فقیر ایپی (Faqir of Ipi) کے نام سے مشہور ہیں، منظر عام پر آئے۔انہوں نے اعلان کیا کہ "اسلام خطرے میں ہے” اور مسلمانوں سے متحد ہونے کی اپیل کی۔
ان کی آواز پر وزیر (Wazirs)، محسود (Mahsuds)، بھٹنی (Bhittanis) اور دیگر قبائل نے اپنے باہمی اختلافات بھلا کر برطانوی حکومت کے خلاف متحد ہونا شروع کر دیا۔
فقیر ایپی کی جدوجہد
فقیر ایپی (Mirza Ali Khan) برصغیر کی ان تاریخی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے برطانوی استعمار کے خلاف طویل اور سخت مزاحمت کی۔ شمالی وزیرستان کے گاؤں ایپی سے تعلق رکھنے والے فقیر ایپی نے 1936ء میں اسلام بی بی کے مقدمے کے بعد برطانوی حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز کیا، جو جلد ہی قبائلی علاقوں میں آزادی اور خودمختاری کی ایک بڑی علامت بن گئی۔
فقیر ایپی نے گوریلا جنگ کی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے برطانوی فوج کو کئی برس تک مصروف رکھا اور متعدد فوجی کارروائیوں کے باوجود گرفتاری سے بچتے رہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی انہوں نے قبائلی خودمختاری کے حوالے سے اپنا مؤقف برقرار رکھا۔ 1960ء میں ان کے انتقال کے باوجود فقیر ایپی آج بھی تاریخ میں ایک بااثر اور مزاحمتی رہنما کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں، جن کی جدوجہد برصغیر کی آزادی کی تاریخ کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔
وزیرستان میں جنگ کا آغاز
برطانوی حکومت نے اس مزاحمت کو روکنے کے لیے خیسورہ وادی (Khaisora Valley) میں فوجی کارروائیاں شروع کیں۔برطانوی فوج نے متعدد دیہات مسمار کیے، بھاری جرمانے عائد کیے، نئی فوجی چوکیاں قائم کیں اور رائل ایئر فورس (Royal Air Force – RAF) کے ذریعے فضائی بمباری بھی کی۔اس کے باوجود فقیر ایپی برسوں تک گرفتاری سے بچتے رہے اور قبائلی علاقوں سے گوریلا جنگ جاری رکھی۔
عوامی داستانیں اور عقیدت
قبائلی علاقوں میں فقیر ایپی کے بارے میں مختلف روایات بھی مشہور ہوئیں۔ لوگوں کا عقیدہ تھا کہ ان کی دعا سے گولیاں بے اثر ہو جاتی ہیں، بم نقصان نہیں پہنچاتے اور اللہ تعالیٰ مجاہدین کی غیبی مدد فرماتا ہے۔
اگرچہ ان روایات کی تاریخی تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم ان قصوں نے فقیر ایپی کی مقبولیت میں نمایاں کردار ادا کیا۔
تاریخ کا اہم موڑ
مؤرخین کے مطابق اسلام بی بی (Islam Bibi) کا مقدمہ وزیرستان مہم (Waziristan Campaign 1936–1939) کا ایک اہم محرک ثابت ہوا۔ اس واقعے نے مذہبی جذبات، قبائلی اتحاد اور نوآبادیاتی حکومت کے خلاف مزاحمت کو نئی قوت بخشی۔
فقیر ایپی بعد ازاں برطانوی حکومت کے لیے سب سے بڑے چیلنجز میں شمار ہونے لگے اور ان کی مزاحمت کئی برس تک جاری رہی۔
مذید پڑھئِے
ماوزے تنگ کی "فور پیسٹ کمپین” جب چڑیاں مارنے سے کروڑوں انسان مر گئے – urdureport.com
ممتاز محل:چودھویں زچگی میں وفات پانے والی ملکہ کی محبت اور قربانی کی لازوال داستان – urdureport.com
ناقابل شکست جھارا پہلوان: جس کا ہاتھ دنگل میں انوکی نے خود بلند کیا – urdureport.com
اختلافی پہلو
تاریخی ریکارڈ میں اسلام بی بی کی عمر، قانونی کارروائی، نکاح کی تفصیلات اور بعض واقعات کی ترتیب کے بارے میں مختلف آراء موجود ہیں۔ تاہم مؤرخین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ اسلام بی بی کا مقدمہ برطانوی دور میں وزیرستان کی مزاحمتی تحریک کے آغاز کے اہم محرکات میں سے ایک تھا اور اس نے فقیر ایپی کو ایک مؤثر مزاحمتی رہنما کے طور پر ابھرنے میں اہم کردار ادا کیا۔


