تحریر: طارق اقبال چوہدری
القدس: برصغیر پاک و ہند، خصوصاً پنجاب کے مسلمانوں اور فلسطین کے درمیان تعلق صرف سیاسی یا موجودہ دور تک محدود نہیں۔ اس رشتے کی جڑیں صدیوں پرانی مذہبی، روحانی اور ثقافتی تاریخ میں ملتی ہیں۔
القدس کے قدیم شہر میں قائم زاویہ الہندیہ (Zawiya al-Hindiyya)، جسے Indian Hospice بھی کہا جاتا ہے، اسی تاریخی تعلق کی ایک نمایاں علامت ہے۔
یہ تاریخی خانقاہ مسجد اقصیٰ کے قریب اور ہیروڈز گیٹ (Herod’s Gate) کے علاقے میں واقع ہے اور طویل عرصے سے جنوبی ایشیا سے آنے والے مسلمانوں، صوفیوں، علما اور زائرین کے لیے اہم مقام رہی ہے۔
زاویہ الہندیہ یا زاویہ الفریدیہ کیا ہے؟
زاویہ الہندیہ کو بعض تاریخی اور صوفی روایات میں زاویہ الفریدیہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس مقام کا تعلق برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ سے جوڑا جاتا ہے۔
روایات کے مطابق بابا فریدؒ نے حج کی ادائیگی کے بعد بیت المقدس کا سفر کیا اور یہاں قیام کے دوران عبادت، ذکر اور ریاضت میں وقت گزارا۔
بعض روایات میں ان کے چالیس روز تک عبادت کرنے کا ذکر بھی ملتا ہے، جبکہ بعض دیگر روایات کے مطابق انہوں نے القدس میں ایک پتھریلے زیرِ زمین حجرے یا غار میں خلوت اختیار کی۔
تاہم بابا فریدؒ کے القدس میں قیام کی مدت اور اس سے متعلق بعض تفصیلات تاریخی طور پر مکمل طور پر متعین نہیں ہیں۔ اس لیے ان روایات کو صوفی اور مقامی تاریخی روایت کے تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔
بابا فریدؒ اور مسجد اقصیٰ سے تعلق کی روایت
حضرت فرید الدین گنج شکرؒ، جو برصغیر میں عام طور پر بابا فریدؒ کے نام سے معروف ہیں، سلسلۂ چشتیہ کے عظیم صوفی بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں۔
روایات میں آتا ہے کہ بابا فریدؒ نے بیت المقدس میں قیام کے دوران مسجد اقصیٰ کے اطراف عبادت اور ریاضت کی۔
بعض روایات کے مطابق انہوں نے مسجد اقصیٰ کے اطراف پتھریلے فرش کی صفائی میں بھی حصہ لیا، جبکہ بعض روایات میں شہر کی فصیل کے اندر ایک غار یا حجرے میں خلوت اختیار کرنے کا ذکر ملتا ہے۔
یہ تفصیلات صوفی روایات اور مقامی تاریخی روایت میں محفوظ ہیں، تاہم ان کے تمام جزئیات کی آزاد تاریخی دستاویزات سے تصدیق مشکل ہے۔

بابا فرید الدین گنج شکرؒ کون تھے؟
حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ (1173ء–1265ء) برصغیر کے معروف صوفی بزرگ، روحانی رہنما اور پنجابی صوفی شاعری کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
آپ کا روحانی مرکز موجودہ پاکستان کا پاکپتن رہا، جہاں آج بھی آپ کا مزار عقیدت مندوں کے لیے اہم روحانی مرکز ہے۔
بابا فریدؒ نے محبت، رواداری، عاجزی، خدمتِ انسانیت اور اللہ کی یاد کا پیغام عام کیا۔ ان کی تعلیمات نے برصغیر میں تصوف اور روحانی فکر کے فروغ پر گہرا اثر ڈالا۔
بابا فریدؒ کا پنجابی کلام پنجابی ادب کی قدیم ترین محفوظ روایات میں اہم مقام رکھتا ہے۔ ان کے متعدد اشعار بعد میں گرو گرنتھ صاحب میں بھی شامل کیے گئے، جو مختلف مذہبی روایات کے درمیان تاریخی اور روحانی روابط کی ایک منفرد مثال ہے۔
گرو گرنتھ صاحب اور بابا گورونانک سے متعلق اردو رپورٹ کی خصوصی تحریر
زاویہ الہندیہ کیسے ہندوستانی خانقاہ بنی؟
بابا فریدؒ سے منسوب اس مقام کی شہرت وقت کے ساتھ بڑھتی گئی۔ بعد کے ادوار میں برصغیر سے بیت المقدس آنے والے صوفیوں، علما، تاجروں اور حجاج نے یہاں قیام کرنا شروع کیا۔
اسی تاریخی تعلق کی وجہ سے یہ مقام Indian Hospice یا ہندوستانی خانقاہ کے نام سے بھی مشہور ہوا۔
جنوبی ایشیا سے آنے والے مسلمان یہاں قیام کرتے، عبادت کرتے اور بیت المقدس کے مقدس مقامات کی زیارت کرتے تھے۔
یوں یہ جگہ صرف ایک خانقاہ یا مسافر خانہ نہیں رہی بلکہ برصغیر اور فلسطین کے درمیان صدیوں پرانے روحانی رابطے کی علامت بن گئی۔
زاویہ الہندیہ نے کئی تاریخی ادوار دیکھے
القدس کی تاریخ میں کئی سلطنتیں اور سیاسی ادوار آئے، لیکن زاویہ الہندیہ اپنی تاریخی شناخت کے ساتھ قائم رہی۔
اس مقام نے صلیبی دور، مملوک دور، سلطنت عثمانیہ، برطانوی انتداب اور جدید فلسطینی تاریخ کے مختلف ادوار دیکھے ہیں۔
اسی وجہ سے زاویہ الہندیہ کو القدس کے ان تاریخی مقامات میں شمار کیا جاتا ہے جو مذہب، تصوف، ثقافت اور جنوبی ایشیا کی تاریخ کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔
شیخ نذیر انصاری کون ہیں؟
شیخ نذیر انصاری زاویہ الہندیہ کی دیکھ بھال کرنے والے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے والد شیخ محمد منیر انصاری کے بعد اس تاریخی مقام کی ذمہ داری سنبھالی۔
دستیاب تاریخی معلومات کے مطابق ان کا خاندان کئی نسلوں سے القدس میں مقیم ہے اور طویل عرصے سے زاویہ الہندیہ کے انتظام اور دیکھ بھال سے وابستہ رہا ہے۔
یہ خاندان اس تاریخی مقام کی عمارت، روایتی ورثے اور جنوبی ایشیا سے آنے والے زائرین کے ساتھ اس کے تاریخی تعلق کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔
1967ء کی جنگ اور زاویہ الہندیہ
زاویہ الہندیہ نے صرف صوفی اور روحانی تاریخ ہی نہیں دیکھی بلکہ فلسطین کے جدید سیاسی تنازعات کے اثرات بھی برداشت کیے۔
شیخ محمد منیر انصاری کی یادداشتوں کے مطابق 5 جون 1967ء کو جنگ شروع ہونے کے بعد القدس میں حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے۔
ان کے مطابق اگلے روز بعض اردنی فوجی خانقاہ میں پناہ لینے آئے۔ بعد میں وہ اپنی وردیاں اور اسلحہ وہاں چھوڑ کر چلے گئے۔
مقامی افراد کی جانب سے مبینہ طور پر اس اسلحے کے استعمال کے بعد خانقاہ اسرائیلی فوج کی گولہ باری کی زد میں آئی۔
شیخ منیر انصاری کے بیان کے مطابق حملے کے دوران ایک گولہ بابا فریدؒ سے منسوب مقام کے قریب گرا اور عمارت کا ایک حصہ منہدم ہوگیا۔
اس واقعے میں ان کے خاندان کے متعدد افراد بھی جاں بحق ہوئے۔ یہ واقعہ زاویہ الہندیہ کی تاریخ میں ایک انتہائی المناک باب کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
برصغیر اور فلسطین کے درمیان صدیوں پرانا تعلق
محققین کے مطابق زاویہ الہندیہ اس بات کی ایک اہم مثال ہے کہ برصغیر اور بیت المقدس کے درمیان تعلق جدید سیاسی تاریخ سے کہیں پہلے کا ہے۔
جنوبی ایشیا کے مسلمان صدیوں سے حج، عمرہ اور زیارات کے سفروں کے دوران بیت المقدس بھی آتے رہے۔
صوفیوں، علما اور عام زائرین کے ان سفروں نے برصغیر اور فلسطین کے درمیان مذہبی اور ثقافتی روابط کو مضبوط کیا۔
اسی پس منظر میں زاویہ الہندیہ کو پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر جنوبی ایشیائی معاشروں کے تاریخی ورثے سے بھی جوڑا جاتا ہے۔
زاویہ الہندیہ کی تاریخی اہمیت کیا ہے؟
زاویہ الہندیہ کی اہمیت صرف اس وجہ سے نہیں کہ اسے بابا فریدؒ سے منسوب کیا جاتا ہے۔
اس کی بڑی اہمیت یہ بھی ہے کہ یہ صدیوں سے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں اور القدس کے درمیان ایک عملی رابطے کا مرکز رہی ہے۔
یہ مقام تصوف، اسلامی تاریخ، فلسطینی تاریخ اور برصغیر کے روحانی ورثے کو ایک ہی جگہ پر جوڑتا ہے۔
اگرچہ بابا فریدؒ کے القدس میں قیام سے متعلق بعض روایات تاریخی تحقیق کا موضوع ہیں، تاہم زاویہ الہندیہ کا تاریخی وجود اور اس کا جنوبی ایشیائی مسلمانوں کے ساتھ تعلق ایک اہم تاریخی حقیقت کے طور پر سامنے آتا ہے۔
بابا فریدؒ، القدس اور پنجاب کا روحانی رشتہ
پنجاب میں بابا فریدؒ کی روحانی روایت آج بھی گہری جڑیں رکھتی ہے۔ پاکپتن میں ان کا مزار برصغیر کے اہم صوفی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔
دوسری جانب القدس میں بابا فریدؒ سے منسوب زاویہ الہندیہ اس روحانی روایت کو فلسطین کے ساتھ جوڑتی ہے۔
یوں بابا فریدؒ، پنجاب، پاکپتن اور بیت المقدس ایک ایسی تاریخی زنجیر کا حصہ بن جاتے ہیں جس میں مذہب، تصوف، سفر اور ثقافتی روابط ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
مزید فیچر اسٹوریز
سکھ مت کے بانی بابا گورونانک دیوجی، جن کے ہندو اور مسلمان دونوں معترف تھے
اسلام بی بی کا مقدمہ: جس نے برطانوی سامراج کے خلاف فقیر ایپی کی بغاوت کو جنم دیا
ماضی کی یادگار
زاویہ الہندیہ القدس میں موجود ایک ایسا تاریخی مقام ہے جو برصغیر کے مسلمانوں اور فلسطین کے درمیان صدیوں پرانے تعلق کی یاد دلاتا ہے۔
بابا فریدؒ سے منسوب اس خانقاہ نے مختلف ادوار میں جنوبی ایشیا سے آنے والے مسلمانوں کو القدس میں ایک روحانی اور ثقافتی مرکز فراہم کیا۔
آج بھی یہ مقام اس تاریخی حقیقت کی علامت ہے کہ پنجاب اور برصغیر کا بیت المقدس سے تعلق صرف سیاسی وابستگی نہیں بلکہ تصوف، مذہب، سفر اور ثقافت سے جڑا ایک قدیم انسانی رشتہ ہے۔



