لاہور: اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان کی لاہور میں واقع رہائش گاہ پر پولیس چھاپے Mansoor Usman Awan house raid کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ لاہور کی سیشن عدالت نے چھاپہ مارنے والے ایس ایچ او سمیت چھ پولیس اہلکاروں کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 12 اگست تک گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔
عدالت نے تمام پولیس اہلکاروں کو 50،50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے اور تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
اٹارنی جنرل کے گھر پر پولیس کیوں پہنچی؟
یہ واقعہ 27 جولائی کی شام پیش آیا، جب سرور روڈ تھانے کے ایس ایچ او کی سربراہی میں پولیس ٹیم ایک رہائش گاہ پر چھاپہ مارنے پہنچی۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ انہیں خفیہ اطلاع ملی تھی کہ متعلقہ علاقے میں ایک مکان میں قحبہ خانہ چل رہا ہے ۔
بعد ازاں معلوم ہوا کہ جس مکان میں پولیس داخل ہوئی وہ پاکستان کے اٹارنی جنرل Attorney General of Pakistan
منصور عثمان اعوان Mansoor Usman Awan
کی رہائش گاہ تھی۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی غلط معلومات اور تصدیق نہ ہونے کے باعث ہوئی۔
ایف آئی آر میں پولیس پر کیا الزامات لگائے گئے؟
اس واقعے کے بعد متعلقہ ایس ایچ او اور دیگر اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق پولیس اہلکار مرکزی گیٹ عبور کرکے بغیر اجازت گھر میں داخل ہوئے، ملازمین کو ہراساں کیا، اختیارات سے تجاوز کیا اور کارروائی کے دوران رہائش گاہ کے باہر رکھے گئے گملوں کو بھی نقصان پہنچایا۔
حکام نے مقدمہ درج کرنے کے ساتھ تمام متعلقہ اہلکاروں کو معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔
انٹیلیجنس افسر بھی معطل
صرف پولیس اہلکار ہی نہیں بلکہ ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس برانچ کینٹ کے انچارج محمد سعید کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق چھاپے کی بنیاد وہ معلومات تھیں جو انٹیلیجنس برانچ کی جانب سے فراہم کی گئی تھیں، تاہم بعد ازاں یہ معلومات غلط ثابت ہوئیں۔
پولیس کا مؤقف: یہ محض غلط فہمی تھی
پولیس ترجمان کے مطابق اطلاع پڑوس میں موجود ایک مشتبہ گھر سے متعلق تھی، لیکن کارروائی کے دوران غلطی سے اٹارنی جنرل کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے،ترجمان کا کہنا ہے کہ متعلقہ گھر نیا تھا اور اٹارنی جنرل مستقل طور پر وہاں مقیم بھی نہیں تھے، جس کی وجہ سے شناخت میں غلطی ہوئی۔
۔انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس نے خفیہ اطلاع کی مکمل تصدیق کیے بغیر کارروائی کی، جبکہ موقع پر موجود ملازم نے پولیس کو بتایا کہ یہ اٹارنی جنرل کا گھر ہے۔
قانونی ماہرین نے کیا سوالات اٹھائے؟
قانونی ماہرین نے اس واقعے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ایس ایچ او کو اپنے علاقے میں موجود اہم شخصیات کی رہائش گاہوں سے آگاہ ہونا چاہیے۔
ان کے مطابق جدید پولیسنگ کے تحت ہر چھاپے سے قبل آن لائن منظوری، آپریشنل پلان، روزنامچہ اندراج، نگرانی اور کارروائی کے بعد مکمل رپورٹ درج کرنا لازمی ہوتا ہے۔
مذید خبریں
چار سالہ حج پالیسی ، پہلی مرتبہ حج رجسٹریشن اور ویٹنگ لسٹ نظام متعارف – urdureport.com
حکومت کے وافر ذخائر کے دعوے پھر گندم کی درآمد کیوں؟ بحران کی اصل وجہ؟ – urdureport.com
عدالت کی آئندہ سماعت
لاہور کی سیشن عدالت نے عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے متعلقہ پولیس اہلکاروں کو 12 اگست تک گرفتار کرنے سے روک دیا ہے، جبکہ تفتیش جاری رکھنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ اب آئندہ سماعت میں عدالت تفتیشی رپورٹ اور شواہد کی روشنی میں مزید کارروائی کا فیصلہ کرے گی۔


