• Home  
  • جب طارق بن زیاد نے آبنائے جبرالٹر عبور کر کے کشتیاں جلانے کا حکم دیا
- ٹاپ سٹوری

جب طارق بن زیاد نے آبنائے جبرالٹر عبور کر کے کشتیاں جلانے کا حکم دیا

تحریر : طارق اقبال چوہدری جب بھی یورپ میں غیر قانونی ہجرت کا ذکر ہوتا ہے تو اسپین کے شمالی افریقی شہر سیوٹا اور آبنائے جبرالٹر کا نام ضرور سامنے آتا ہے۔ حالیہ برسوں میں مراکش سے ہزاروں تارکین وطن اسی شہر میں داخل ہوئے، لیکن سیوٹا (Ceuta) صرف ایک سرحدی شہر نہیں، بلکہ اس […]

جب بھی یورپ میں غیر قانونی ہجرت کا ذکر ہوتا ہے تو اسپین کے شمالی افریقی شہر سیوٹا اور آبنائے جبرالٹر کا نام ضرور سامنے آتا ہے۔ حالیہ برسوں میں مراکش سے ہزاروں تارکین وطن اسی شہر میں داخل ہوئے، لیکن سیوٹا (Ceuta) صرف ایک سرحدی شہر نہیں، بلکہ اس کے ساتھ جڑی تاریخ ہمیں تقریباً تیرہ سو سال پیچھے لے جاتی ہے، جہاں آبنائے جبرالٹر ، طارق بن زیاد اندلس اور اسلامی تہذیب کی ایک عظیم داستان شروع ہوتی ہے۔ یہ وہی آبنائے جبرالٹر ہے جہاں سے عظیم مسلمان سپہ سالار طارق نے داخل ہونے کے بعد اپنی کشتیاں جلا دیں۔

سیوٹا کہاں واقع ہے؟

آبنائے جبرالٹر دو براعظموں کے درمیان تنگ راستہ

جبلِ طارق کا نام کیسے پڑا؟

طارق بن زیاد کون تھے؟

Tariq bin Ziyad — The conqueror of Spain
یہ جبلِ طارق (اندلس) میں واقع تاریخی فہد مسجد ہے۔ یہ مسجد سعودی عرب کے شاہ فہد کی سرپرستی میں تعمیر کی گئی۔ بعض لوگ اسے اسلامی سپہ سالار طارق بن زیاد کی یادگار سے بھی جوڑتے ہیں، کیونکہ تاریخی روایات کے مطابق انہوں نے 711ء میں اسی علاقے میں اپنی فوج کے ساتھ قدم رکھا تھا اور یہیں سے اندلس کی فتح کا آغاز کیا تھا۔

جب طارق بن زیاد نے جہاز جلائے

طارق بن زیاد کیسے سپین میں داخل ہوئے ؟

آبنائے جبرالٹر نام کیسے پڑا؟

اندلس کیا تھا؟

سیوٹا اور طنجہ کی تاریخ

سیوٹا اسپین کے پاس کیسے آیا؟

آج کے حالات

آج بھی تاریخ زندہ ہے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!