تحریر : طارق اقبال چوہدری

جب بھی یورپ میں غیر قانونی ہجرت کا ذکر ہوتا ہے تو اسپین کے شمالی افریقی شہر سیوٹا اور آبنائے جبرالٹر کا نام ضرور سامنے آتا ہے۔ حالیہ برسوں میں مراکش سے ہزاروں تارکین وطن اسی شہر میں داخل ہوئے، لیکن سیوٹا (Ceuta) صرف ایک سرحدی شہر نہیں، بلکہ اس کے ساتھ جڑی تاریخ ہمیں تقریباً تیرہ سو سال پیچھے لے جاتی ہے، جہاں آبنائے جبرالٹر ، طارق بن زیاد اندلس اور اسلامی تہذیب کی ایک عظیم داستان شروع ہوتی ہے۔ یہ وہی آبنائے جبرالٹر ہے جہاں سے عظیم مسلمان سپہ سالار طارق نے داخل ہونے کے بعد اپنی کشتیاں جلا دیں۔
سیوٹا کہاں واقع ہے؟
سیوٹا (Ceuta) شمالی افریقہ کے ساحل پر واقع ایک چھوٹا مگر انتہائی اہم شہر ہے۔ جغرافیائی طور پر یہ مراکش (Morocco) سے متصل ہے، لیکن سیاسی طور پر اسپین (Spain) کا خودمختار شہر ہے۔ اسی وجہ سے سیوٹا یورپ اور افریقہ کے درمیان ایک منفرد سرحدی مقام رکھتا ہے۔
مراکش سے سیوٹا تک زمینی سرحد موجود ہے۔ اسی لیے بعض تارکین وطن (Migrants) سرحدی باڑ (Border Fence) عبور کرنے یا سمندر کے راستے تیر کر اس شہر تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم سیوٹا پہنچ جانے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پورے یورپ (Europe) میں آزادانہ سفر کر سکتے ہیں، کیونکہ اسپین کی مرکزی سرزمین میں داخل ہونے کے لیے سخت امیگریشن قوانین (Immigration Laws) نافذ ہیں۔
آبنائے جبرالٹر دو براعظموں کے درمیان تنگ راستہ
سیوٹا کے قریب ہی دنیا کی مشہور آبنائے جبرالٹر واقع ہے، جو بحرِ اوقیانوس (Atlantic Ocean) کو بحیرہ روم (Mediterranean Sea) سے ملاتی ہے۔
یہ آبنائے کم از کم تقریباً 14 کلومیٹر چوڑی ہے۔ شمال میں اسپین (Spain) اور جبلِ طارق (Gibraltar) جبکہ جنوب میں مراکش واقع ہے۔ دنیا کی ہزاروں تجارتی اور فوجی کشتیاں ہر سال اسی راستے سے گزرتی ہیں، اس لیے یہ عالمی تجارت کی اہم ترین گزرگاہوں (Strategic Maritime Route) میں شمار ہوتی ہے۔

جبلِ طارق کا نام کیسے پڑا؟
جبلِ طارق (Gibraltar) کا نام اسلامی تاریخ کی ایک عظیم شخصیت طارق بن زیاد (Tariq ibn Ziyad) سے منسوب ہے۔
سن 711ء (711 CE) میں اموی خلافت کے دور میں شمالی افریقہ (North Africa) کے گورنر موسیٰ بن نصیر (Musa ibn Nusayr) نے طارق بن زیاد کو جزیرہ نما آئبیریا (Iberian Peninsula) کی مہم پر روانہ کیا۔ تاریخی روایات کے مطابق ان کی فوج موجودہ طنجہ (Tangier) اور اس کے اطراف سے کشتیوں کے ذریعے روانہ ہوئی، آبنائے جبرالٹر (Strait of Gibraltar)عبور کی اور جس پہاڑ کے دامن میں اتری، وہ بعد میں جبلِ طارق (Jabal Tariq / Gibraltar) یعنی "طارق کا پہاڑ” کہلایا۔
اس وقت جدید مراکش اور اسپین جیسی قومی ریاستیں موجود نہیں تھیں، بلکہ یہ تمام علاقے اموی خلافت (Umayyad Caliphate)، مقامی حکمرانوں اور مختلف سلطنتوں (Kingdoms) کے زیر اثر تھے۔
جب 711ء میں طارق بن زیاد نے جبلِ طارق پر قدم رکھا تو موجودہ اسپین ایک متحدہ ریاست نہیں تھا۔ اس زمانے میں یہ خطہ جزیرہ نما آئبیریا کہلاتا تھا اور اس کے بیشتر حصے پر ویزیگوت سلطنت کی حکومت تھی، جس کے بادشاہ روڈرک تھے۔ طارق بن زیاد نے اسی سلطنت کو شکست دے کر الاندلس کی بنیاد رکھی، جو بعد میں اسلامی تہذیب، علم اور ثقافت کا ایک عظیم مرکز بن گیا۔
طارق بن زیاد کون تھے؟
اسلامی تاریخ میں طارق بن زیاد (Tariq ibn Ziyad)کا نام فتحِ اندلس کے عظیم فاتح کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، ایک روایت کے مطابق وہ شمالی افریقہ کے بربر قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ بعض مؤرخین انہیں ایران کے صوبہ ہمدان یا یمن کے علاقے حضرموت سے جوڑتے ہیں۔ عام طور پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ طارق بن زیاد 675ء میں موجودہ الجزائر کے مغربی علاقے وہران میں پیدا ہوئے۔
اموی خلیفہ (Umayyad Caliphate) ولید بن عبدالملک کے دور میں وہ موسیٰ بن نصیر کی فوج میں نمایاں کمانڈر کے طور پر ابھرے اور اپنی عسکری صلاحیتوں کے باعث جلد ہی طنجہ کے گورنر مقرر ہوئے۔ سن 711ء میں انہوں نے آبنائے جبرالٹر عبور کر کے جزیرہ نما آئبیریا میں قدم رکھا، جہاں سے فتحِ اندلس کا آغاز ہوا۔ بعد ازاں تقریباً آٹھ صدیوں تک مسلمانوں کی حکومت نے اندلس کو علم، فن، فلسفہ، طب اور تہذیب کا عالمی مرکز بنا دیا۔
فتحِ اندلس کے بعد طارق بن زیاد کی زندگی کے بارے میں بھی کئی متضاد روایات سامنے آتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اندلس کی فتوحات کے بعد ان کے اور موسیٰ بن نصیر کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے، جس کے بعد دونوں کو دمشق طلب کیا گیا اور بالآخر خلیفہ ولید بن عبدالملک نے انہیں ان کے عہدوں سے ہٹا دیا۔ بعض تاریخی روایات یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ طارق بن زیاد نے زندگی کے آخری ایام انتہائی تنگ دستی میں گزارے۔

جب طارق بن زیاد نے جہاز جلائے
طارق بن زیاد کے بارے میں سب سے مشہور داستان یہ ہے کہ انہوں نے اندلس پہنچنے کے بعد اپنی کشتیاں جلانے کا حکم دیا تاکہ ان کے سپاہی واپسی کا خیال دل سے نکال دیں، لیکن اس بارئے بعض مؤرخین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔آبنائے جبرالٹر کے کنارے واقع جبلِ طارق آج بھی ان کی یادگار ہے، اور 2012ء میں جبرالٹر کی حکومت کے لیے برطانیہ کے مرکزی بینک کی جانب سے جاری کیے گئے پانچ پاؤنڈ کے کرنسی نوٹ پر بھی طارق بن زیاد کی تصویر شائع کی گئی، جو ان کے تاریخی کردار اور عالمی اہمیت کا اعتراف سمجھی جاتی ہے۔
کچھ تاریخی روایتیں یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ طارق بن زیاد نے اپنے آخری ایام تنگ دستی میں گزارے، یہاں تک کہ انہیں مساجد کے باہر سوال کرتے ہوئے دیکھا گیا، تاہم اس دعوے کے حق میں مضبوط اور مستند تاریخی شواہد موجود نہیں ہیں۔ زیادہ تر جدید مؤرخین ان روایات کو کمزور قرار دیتے ہیں، جبکہ اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ طارق بن زیاد نے تقریباً 720ء میں وفات پائی۔
طارق بن زیاد کیسے سپین میں داخل ہوئے ؟
تاریخی شواہد کے مطابق طارق بن زیاد 711ء میں موجودہ مراکش کے شہر طنجہ اور اس کے قریبی ساحلی علاقوں سے اپنی فوج کے ساتھ کشتیوں کے ذریعے روانہ ہوئے، آبنائے جبرالٹر عبور کی اور موجودہ جبلِ طارق کے مقام پر اترے، جہاں سے انہوں نے جنوبی اسپین، یعنی اندلس کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے ویزیگوت بادشاہ روڈرک کو شکست دی اور فتحِ اندلس کا آغاز کیا۔
اگرچہ سیوٹا بھی آبنائے جبرالٹر کے قریب واقع ہے اور بعض تاریخی روایات کے مطابق اس کے گورنر کاؤنٹ جولیان نے مسلمانوں کو جہاز فراہم کیے تھے۔
آبنائے جبرالٹر نام کیسے پڑا؟
آج بھی دنیا بھر میں اس سمندری گزرگاہ کو آبنائے جبرالٹر ہی کہا جاتا ہے، جبکہ انگریزی میں اس کا سرکاری نام Strait of Gibraltar ہے۔ یہ نام اسلامی سپہ سالار طارق بن زیاد کی یاد میں رکھا گیا، جنہوں نے 711ء میں شمالی افریقہ سے اس آبنائے کو عبور کر کے اندلس کی فتح کا آغاز کیا تھا۔
یہ پہاڑ تقریباً 426 میٹر (1,398 فٹ) بلند ہے اور اسی کے نام پر پوری سمندری گزرگاہ کو آبنائے جبرالٹر کہا جاتا ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق 711ء میں طارق بن زیاد اپنی فوج کے ساتھ اسی مقام پر اترے تھے، جس کے بعد اس پہاڑ کا نام جبلِ طارق یعنی "طارق کا پہاڑ” پڑ گیا، جو وقت گزرنے کے ساتھ یورپی زبانوں میں Gibraltar بن گیا۔
اندلس کیا تھا؟
طارق بن زیاد کی فتح کے بعد مسلمانوں نے جزیرہ نما آئبیریا کے بڑے حصے پر حکومت قائم کی، جسے الاندلس (Al-Andalus)کہا جاتا ہے۔یہ صرف موجودہ اسپین کا ایک شہر نہیں تھا بلکہ ایک وسیع خطہ تھا، جس میں آج کے اسپین اور پرتگال کا بڑا حصہ شامل تھا۔
بعد میں قرطبہ، اشبیلیہ، غرناطہ اور مالقہ جیسے شہر علم، فن، فلسفہ، طب، ریاضی اور فن تعمیر کے عالمی مراکز بن گئے۔ قرطبہ کی عظیم لائبریریاں، الحمرا محل اور اشبیلیہ کی علمی روایت آج بھی اسلامی تہذیب کے سنہری دور کی یاد دلاتی ہیں۔مسلمانوں کی حکومت مختلف ادوار میں تقریباً 711ء سے 1492ء تک قائم رہی، یعنی لگ بھگ آٹھ صدیوں تک۔
سیوٹا اور طنجہ کی تاریخ
سیوٹا اور طنجہ شمالی افریقہ میں آبنائے جبرالٹر کے کنارے واقع دو تاریخی شہر ہیں، جنہوں نے اسلامی تاریخ اور فتحِ اندلس میں اہم کردار ادا کیا۔ طنجہ آج مراکش کا ایک بڑا بندرگاہی شہر ہے اور مؤرخین کے مطابق طارق بن زیاد نے 711ء میں یہیں اور اس کے قریبی ساحلی علاقوں سے اپنی فوج کے ساتھ آبنائے جبرالٹر عبور کرکے اندلس کی مہم کا آغاز کیا۔ دوسری جانب سیوٹا طنجہ سے تقریباً 70 سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
جغرافیائی طور پر یہ شمالی افریقہ میں ہے، لیکن سیاسی طور پر آج اسپین کے زیرِ انتظام ایک خودمختار شہر ہے۔ سیوٹا بھی مختلف ادوار میں اسلامی حکمرانوں کے زیرِ اقتدار رہا، تاہم 1415ء میں پرتگال نے اس پر قبضہ کر لیا، بعد ازاں یہ اسپین کے پاس چلا گیا، جبکہ مراکش آج بھی اس پر اپنا دعویٰ برقرار رکھتا ہے۔
سیوٹا اسپین کے پاس کیسے آیا؟
سیوٹا کی تاریخ الاندلس سے مختلف ہے۔1415ء میں پرتگال نے سیوٹا پر قبضہ کیا۔ بعد ازاں 1580ء میں پرتگال اور اسپین ایک ہی بادشاہ کے ماتحت آ گئے۔ جب 1640ء میں پرتگال نے دوبارہ آزادی حاصل کی تو سیوٹا نے پرتگال کے بجائے اسپین کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔
مذید خبریں
مراکش سے 60 ہزار تارکین سپین کے شہر سیوتا میں داخل، 34 ہلاک – urdureport.com
مسجد اقصیٰ سے متصل بابا فریدؒ کی خانقاہ : ہندوستان سے صدیوں پرانا رشتہ آج بھی قائم – urdureport.com
بالآخر 1668ء کے معاہدۂ لزبن کے تحت پرتگال نے سیوٹا پر اسپین کی حاکمیت کو تسلیم کر لیا، اور آج بھی یہ شہر اسپین کے انتظام میں ہے، اگرچہ مراکش اس پر اپنا دعویٰ برقرار رکھتا ہے۔
آج کے حالات
آج کل مراکش سے سیوٹا میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن عموماً تین طریقے اختیار کرتے ہیں۔ سب سے عام طریقہ زمینی سرحد ہے، جہاں مراکش اور سیوٹا کے درمیان موجود بلند فولادی باڑ کو اجتماعی طور پر عبور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دوسرا طریقہ سمندر کے راستے داخل ہونا ہے، جس میں کچھ افراد تیراکی، ربڑ کی کشتیوں یا عارضی تیرنے والے آلات کی مدد سے سیوٹا کے ساحل تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
تیسرا طریقہ قانونی سرحدی گزرگاہ کے ذریعے داخل ہونے کی کوشش ہے، جہاں بعض افراد درست سفری دستاویزات کے ساتھ آتے ہیں، جبکہ کچھ جعلی دستاویزات یا دیگر غیر قانونی ذرائع استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آج بھی تاریخ زندہ ہے
آج جب مراکش سے تارکین وطن سیوٹا کی سرحد پار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دنیا کی نظریں اس چھوٹے سے شہر پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ لیکن یہی خطہ تیرہ سو سال پہلے اسلامی تاریخ کے ایک ایسے باب کا آغاز بھی تھا، جب طارق بن زیاد نے شمالی افریقہ سے روانہ ہو کر آبنائے جبرالٹر عبور کی اور الاندلس میں ایک نئی تہذیب کی بنیاد رکھی۔
سیوٹا، جبلِ طارق اور آبنائے جبرالٹر آج بھی صرف جغرافیائی مقامات نہیں، بلکہ وہ تاریخی نشانیاں ہیں جو افریقہ اور یورپ، اسلام اور مغرب، قدیم فتوحات اور جدید ہجرت کے درمیان ایک منفرد ربط قائم کرتی ہیں۔


