سعودی عرب، پاکستان اور ترکی آج (جمعہ) جدہ میں ایک اہم مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کرنے جا رہے ہیں، جسے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال میں ایک بڑی سفارتی اور دفاعی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس باہمی شترکہ معاہدے 2026 Joint Defense Agreement 2026پر کئی ماہ سے کام جاری تھا، تاہم خطے میں حالیہ کشیدگی اور امریکہ۔ایران تنازع کے بعد اس عمل کو تیزی سے حتمی شکل دی گئی۔ معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، مشترکہ حکمت عملی، سکیورٹی روابط اور علاقائی استحکام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
ایک غیر ملکی نیوز ایجنسی کے مطابق رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ٘Muhammad Bin Salmanجدہ میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان سے الگ الگ اور مشترکہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں خطے کی تازہ صورتحال، دفاعی تعاون اور باہمی تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال ہوگا۔

پاکستانی وفد
پاکستانی وفد، جس میں وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شامل ہیں، جمعرات کو سعودی عرب پہنچا، جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی جمعے کو جدہ آمد متوقع ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق یہ سرکاری دورہ 6 سے 8 اگست تک جاری رہے گا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگرچہ یہ دورہ خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ہو رہا ہے، لیکن اس کی اہمیت صرف موجودہ بحران تک محدود نہیں بلکہ یہ مستقبل کے طویل المدتی دفاعی اور تزویراتی تعاون کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
سٹریٹیجک شراکت داری
گزشتہ کئی مہینوں سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی Pakistan Saudi Turkey Defense Agreement کے درمیان ایک وسیع تر سٹریٹیجک شراکت داریStrategic Defense Partnership کی قیاس آرائیاں جاری تھیں۔ دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ نیا معاہدہ ان تینوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ، دفاعی تربیت، مشترکہ مشقوں اور سکیورٹی تعاون کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
مذید خبریں
امریکہ کی سعودی عرب کو جوہری پروگرام کی اجازت : اربوں ڈالر کے معاہدے کی تیاری – urdureport.com
پاکستان میں سعودی عرب کے نئے سفیر ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی کون ہین ؟ – urdureport.com
یاد رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب اس سے قبل بھی دفاعی تعاون کے ایک معاہدے پر اتفاق کر چکے ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک نے باہمی سلامتی کے حوالے سے قریبی تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ تازہ معاہدے میں ترکی کی شمولیت کو خطے میں دفاعی اشتراک کے ایک نئے مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔


