ریاض: سعودی عرب کے جنوبی سرحدی علاقے نجران میں حوثی حملے کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہو گئے، جبکہ دوسری جانب یمن میں سرکاری فوج پر بڑے حملے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ سعودی حکام نے ممکنہ نئے حملوں کے خدشے کے پیش نظر دفاعی اور سکیورٹی تیاریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
بیان میں بتایا گیا کہ نجران حملوں Najran Attacks زخمی ہونے والوں میں ایک یمنی، دو مصری اور ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں سات سعودی شہری شامل ہیں، جن میں ایک خاتون اور چار سالہ بچہ بھی شامل ہے۔
اتحادی فورسز نے الزام عائد کیا کہ حملے میں رہائشی اور شہری علاقوں کو بلاامتیاز نشانہ بنایا گیا۔حکام کے مطابق دونوں آگ سے جھلسنے کے باعث سیکنڈ ڈگری برن کا شکار ہوئے۔
ادھر یمن میں سرکاری فوج کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ فوجی ذرائع کے مطابق مأرب اور حضرموت کے علاقوں میں میزائلوں اور ڈرونز سے کیے گئے حملوں میں کم از کم 58 فوجی ہلاک ہوئے۔ اسے حالیہ برسوں میں یمنی تنازع کے خونریز ترین حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ انصار اللہ نے ان حوثی کارروائیوں Houthi Attack کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے حملوں کا ہدف سعودی حمایت یافتہ یمنی فوج کے مراکز تھے۔ حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق یہ کارروائی اس اطلاع کے بعد کی گئی کہ سرکاری فورسز حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کی جانب بڑی فوجی پیش قدمی کی تیاری کر رہی تھیں۔
سعودی عرب کو مزید حملوں کا خدشہ
سعودی حکام نے خبردار کیا ہے کہ مملکت کو شمال اور جنوب دونوں سمتوں سے مربوط حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک اعلیٰ سعودی عہدیدار کے مطابق انٹیلی جنس اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عراق میں موجود ایران نواز ملیشیائیں اور یمن کے حوثی گروپ مشترکہ کارروائی کی تیاری کر سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ممکنہ حملوں میں توانائی کے منصوبے، بندرگاہیں، ہوائی اڈے اور دیگر اہم معاشی و شہری تنصیبات نشانہ بن سکتی ہیں۔ اسی خدشے کے باعث سعودی دفاعی اداروں نے نگرانی، فضائی دفاع اور حساس مقامات کی سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ سعودی عرب سفارتی ذرائع سے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل رکھے گئے ہیں۔
عراق میں بھی سکیورٹی اقدامات سخت
ادھر عراقی سکیورٹی ذرائع کے مطابق ممکنہ خطرات کے پیش نظر ملک کے مختلف علاقوں میں فوج اور سکیورٹی فورسز کی اضافی تعیناتی کی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد جنگی تیاری بہتر بنانا اور ڈرون یا میزائل حملوں کے کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت ناکام بنانا ہے۔
مذید خبریں
حوثی باغیوں کے حملے اور شہباز شریف کی ولی عہد سے گفتگو ،کیا جنگ پھیل رہی ہے؟ – urdureport.com
امریکہ ایران کو سخت جواب دے گا : صدر ٹرمپ – urdureport.com
سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ تعیناتی معمول کی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے، اس دوران نہ نئی چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں اور نہ ہی شہریوں کی نقل و حرکت پر کوئی اضافی پابندی لگائی گئی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب اور حوثیوں Houthisکے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بحیرہ احمر میں حملوں، ڈرون کارروائیوں اور سرحدی جھڑپوں کے باعث خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔


