• Home  
  • قدیم اولمپک مقابلوں میں کھلاڑی برہنہ ہوکر کیوں حصہ لیتے !
- کھیل

قدیم اولمپک مقابلوں میں کھلاڑی برہنہ ہوکر کیوں حصہ لیتے !

قدیم یونان کے شہر اولمپیا (Olympia) میں تقریباً تین ہزار سال پہلے شروع ہونے والی ایک کھیلوں کی روایت آج دنیا کے سب سے بڑے عالمی کھیلوں کے میلے کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ آج اولمپکس میں دنیا بھر کے ممالک کے ہزاروں ایتھلیٹس جدید اسٹیڈیمز میں لاکھوں تماشائیوں کے سامنے مقابلہ کرتے ہیں، لیکن […]

قدیم یونان کے شہر اولمپیا (Olympia) میں تقریباً تین ہزار سال پہلے شروع ہونے والی ایک کھیلوں کی روایت آج دنیا کے سب سے بڑے عالمی کھیلوں کے میلے کی شکل اختیار کرچکی ہے۔

آج اولمپکس میں دنیا بھر کے ممالک کے ہزاروں ایتھلیٹس جدید اسٹیڈیمز میں لاکھوں تماشائیوں کے سامنے مقابلہ کرتے ہیں، لیکن اس عظیم روایت کی ابتدا انتہائی سادہ تھی۔ نہ درجنوں کھیل تھے، نہ قومی ٹیمیں اور نہ ہی آج جیسے تمغے۔ ابتدا میں صرف ایک دوڑ تھی۔

لیکن۔اس میں سب سے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جب قدیم یونانی دور میں اولمپک کھیل شروع ہوئے تو کچھ ہی دیر بعد یہ روج عام ہو گیا کہ کھلاڑی برہنہ ہوکر کھیلوں میں حصہ لینے لگے۔

پہلا اولمپک مقابلہ

قدیم اولمپک کھیلوں کا پہلا باقاعدہ تاریخی ریکارڈ 776 قبل مسیح کا ملتا ہے۔ یہ مقابلے یونان کے شہر اولمپیا میں دیوتا زیوس (Zeus) کے اعزاز میں منعقد ہوتے تھے۔

اس وقت اولمپک پروگرام میں صرف ایک مقابلہ شامل تھا جسے اسٹیڈین (Stadion) کہا جاتا تھا۔ یہ تقریباً 180 سے 200 میٹر کی دوڑ تھی اور اس کا فاصلہ اولمپیا کے قدیم اسٹیڈیم کی لمبائی سے وابستہ تھا۔

تاریخی روایت کے مطابق اس پہلے ریکارڈ شدہ مقابلے کا فاتح کوروبوس آف ایلس (Coroebus of Elis) تھا، جسے تاریخ کا پہلا ریکارڈ شدہ اولمپک چیمپئن سمجھا جاتا ہے۔

ایک اہم غلط فہمی:

قدیم اولمپکس کے بارے میں عام طور پر یہ تصور پیش کیا جاتا ہے کہ شروع ہی سے کھلاڑی برہنہ ہو کر مقابلہ کرتے تھے، لیکن یہ بات درست نہیں۔

776 قبل مسیح کے پہلے ریکارڈ شدہ اولمپک مقابلے میں کھلاڑیوں کے برہنہ ہونے کا ثبوت نہیں ملتا۔ تاریخی روایات کے مطابق اس دور میں ایتھلیٹس لنگوٹی یا کمر بند استعمال کرتے تھے، جسے یونانی اصطلاح میں perizoma یا بعض حوالوں میں diazoma کہا جاتا ہے۔

یعنی اولمپکس کے آغاز اور کھلاڑیوں کے برہنہ ہو کر مقابلہ کرنے کے درمیان تقریباً 56 سال کا فرق تھا۔

برہنہ مقابلے کی روایت

تقریباً 720 قبل مسیح، یعنی 15ویں اولمپیاڈ کے زمانے میں، مرد ایتھلیٹس کے برہنہ ہو کر مقابلہ کرنے کی روایت سامنے آتی ہے۔

اس حوالے سے سب سے مشہور قدیم روایت اورسیپوس (Orsippus/Orsippos) نامی دوڑنے والے سے منسوب ہے۔ روایت کے مطابق وہ میگارا سے تعلق رکھتا تھا اور دوڑ کے دوران اس کی لنگوٹی اتر گئی۔

اس بارے میں دو مختلف روایات ملتی ہیں۔ ایک کے مطابق لنگوٹی حادثاتی طور پر گر گئی، جبکہ دوسری روایت میں کہا جاتا ہے کہ اورسیپوس نے جان بوجھ کر اسے اتار دیا تاکہ دوڑتے وقت زیادہ آزادی حاصل ہو اور وہ تیزی سے دوڑ سکے۔

وہ مقابلہ جیت گیا اور اس واقعے کو بعد میں مرد ایتھلیٹس کے برہنہ ہو کر مقابلہ کرنے کی روایت کے آغاز سے جوڑا گیا۔

تاہم قدیم ذرائع میں اس روایت کے بارے میں اختلاف بھی موجود ہے۔ بعض روایات اس تبدیلی کا سہرا سپارٹا کے آکانتھوس (Acanthus) کو دیتی ہیں۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ محتاط ہے کہ 720 قبل مسیح کے آس پاس برہنہ ایتھلیٹکس کی روایت مضبوط ہوئی، جبکہ اس کے آغاز کی اصل وجہ اور واقعہ یقینی طور پر معلوم نہیں۔

آخر کھلاڑی برہنہ کیوں ہوئے؟

آج کے معاشرتی معیار کے لحاظ سے یہ بات حیران کن لگ سکتی ہے، لیکن قدیم یونانی ثقافت میں انسانی جسم کو دیکھنے کا انداز مختلف تھا۔

یونانی معاشرے میں مضبوط، متناسب اور تربیت یافتہ مردانہ جسم کو طاقت، خوبصورتی اور جسمانی کمال کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ کھیلوں کے مقابلے اس جسمانی کمال کے اظہار کا ایک اہم ذریعہ تھے۔

اس کے علاوہ برہنہ ہونے کو عملی فائدے سے بھی جوڑا جاتا تھا۔ دوڑ، کشتی اور دیگر ایتھلیٹک مقابلوں میں لباس حرکت کے دوران رکاوٹ بن سکتا تھا، جبکہ جسم آزاد ہونے سے کھلاڑی کو حرکت میں زیادہ آسانی حاصل ہوتی تھی۔

ایک اور ثقافتی پہلو بھی موجود تھا۔ یونانیوں کے ہاں برہنہ جسم کا تصور بعض دوسرے معاشروں کے مقابلے میں مختلف تھا اور اسے جسمانی تربیت، فن اور ثقافت سے جوڑا جاتا تھا اور اس دور میں اس کو معیوب تصور نہیں کیا جاتا تھا۔

جمنازیم کا نام بھی اسی روایت سے نکلا

قدیم یونانی لفظ gymnos کا مطلب ’’ننگا‘‘ تھا۔ اسی سے gymnasium کا لفظ نکلا۔

قدیم یونان میں جمنازیم صرف آج کے جدید ورزش خانوں جیسے مقامات نہیں تھے بلکہ ایسے مراکز بھی تھے جہاں نوجوان جسمانی تربیت حاصل کرتے، ورزش کرتے اور مختلف جسمانی مقابلوں کے لیے تیاری کرتے تھے۔

یوں لفظ gymnasium خود اس قدیم یونانی روایت کی ایک دلچسپ یادگار ہے۔

برہنہ مقابلے ؟

720 قبل مسیح کے بعد مردوں کے متعدد ایتھلیٹک مقابلوں میں برہنہ ہو کر مقابلہ کرنے کی روایت مشہور ہوئی۔

ان میں خاص طور پر:

دوڑ، کشتی، مکے بازی اور پینکریشن شامل تھے۔

پینکریشن ایک انتہائی سخت مقابلہ تھا جس میں کشتی اور مکے بازی کے عناصر شامل تھے۔

پینٹاتھلون میں دوڑ، لمبی چھلانگ، ڈسکس تھرو، جیولن تھرو اور کشتی جیسے مقابلے شامل تھے اور اس کے ایتھلیٹک مقابلوں میں بھی برہنہ ہونے کی روایت پائی جاتی تھی اور تاریخ میں اس بات کے خواہد موجود ہیں۔

تاہم رتھ دوڑ اور گھڑ سواری جیسے مقابلوں کو اسی انداز میں نہیں دیکھا جاتا تھا، کیونکہ ان میں گھوڑوں یا رتھوں کے ساتھ سواروں کا کردار مختلف تھا۔

ابتدا میں ایک کھیل

776 قبل مسیح میں صرف ایک دوڑ سے شروع ہونے والے اولمپکس وقت کے ساتھ وسیع ہوتے گئے۔

رفتہ رفتہ مختلف دوڑیں، کشتی، مکے بازی، پینکریشن، پینٹاتھلون، رتھ دوڑ اور گھڑ سواری جیسے مقابلے شامل کیے گئے۔

یوں اولمپیا ایک ایسے بڑے اجتماع میں تبدیل ہوگیا جہاں کھیل کے ساتھ مذہب، سیاست، ثقافت اور سماجی زندگی بھی ایک دوسرے سے جڑ جاتی تھی اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافی ہوتا گیا۔

کن ممالک نے حصہ لیا؟

قدیم اولمپکس میں آج کی طرح قومی ٹیمیں یا ممالک شریک نہیں ہوتے تھے۔ قدیم یونان کئی آزاد یا نیم آزاد شہری ریاستوں (City-States) میں تقسیم تھا۔

ایتھنز، اسپارٹا، کورنتھ، تھیبس، ایلس اور دیگر شہری ریاستوں سے کھلاڑی آتے تھے۔ بعد میں یونانی دنیا کے وسیع علاقوں سے بھی ایتھلیٹس اولمپیا پہنچنے لگے۔

اسی لیے قدیم اولمپکس میں شرکت کرنے والے ممالک کی کوئی ایک مستند تعداد بتانا درست نہیں۔ اس وقت کھلاڑی اپنے ملک کے بجائے اپنے شہر یا علاقے کی شناخت کے ساتھ مقابلہ کرتے تھے۔

خواتین کا کیا کردار تھا؟

قدیم اولمپکس میں باقاعدہ مردانہ ایتھلیٹک مقابلوں میں خواتین کو آج کی طرح شرکت کی اجازت نہیں تھی۔

تاہم قدیم یونان میں خواتین کے لیے الگ مذہبی اور کھیلوں کی روایات بھی موجود تھیں۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ قدیم یونانی دنیا میں خواتین کے لیے تمام کھیل مکمل طور پر ممنوع تھے۔

یہ صورتحال جدید اولمپکس سے بالکل مختلف تھی، جہاں خواتین آج تقریباً تمام بڑے کھیلوں میں حصہ لیتی ہیں۔

فاتح کا اعزاز

قدیم اولمپکس میں آج کے سونے، چاندی اور کانسی کے تمغے موجود نہیں تھے۔

اولمپک فاتح کو زیتون کی شاخوں کا تاج پہنایا جاتا تھا۔

لیکن یہ تاج معمولی انعام نہیں تھا۔ اپنے شہر واپس پہنچنے پر فاتح کو بہت عزت، شہرت اور بعض اوقات مالی مراعات بھی حاصل ہوتی تھیں۔

ایک اولمپک فتح کسی کھلاڑی کو اپنے شہر میں ایک قومی ہیرو جیسی شہرت دلا سکتی تھی۔

جنگ بھی اولمپکس

قدیم یونانی دنیا میں مختلف شہری ریاستوں کے درمیان جنگیں معمول کی بات تھیں۔ اس کے باوجود اولمپکس کے موقع پر اولمپک جنگ بندی (Olympic Truce) کی روایت موجود تھی۔

اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مختلف علاقوں سے آنے والے کھلاڑی اور زائرین محفوظ طریقے سے اولمپیا پہنچ سکیں۔

یہ جنگ بندی لازماً تمام جنگوں کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتی تھی، لیکن اولمپکس تک محفوظ سفر کے لیے ایک اہم روایت سمجھی جاتی تھی۔

قدیم اولمپک سلسلہ

قدیم اولمپکس ہر چار سال بعد منعقد ہوتے رہے۔ 776 قبل مسیح سے شروع ہونے والی یہ روایت کئی صدیوں تک جاری رہی اور تقریباً ایک ہزار سال تک مختلف شکلوں میں زندہ رہی۔

لیکن پھر رومی سلطنت میں مذہبی اور سیاسی حالات بدل گئے۔ عیسائیت کے فروغ کے ساتھ قدیم یونانی مذہبی رسومات اور تہواروں کے خلاف اقدامات شروع ہوئے۔

سلسلہ کیوں ٹوٹا؟

عام طور پر 393 یا 394 عیسوی کو قدیم اولمپک کھیلوں کے اختتام سے منسلک کیا جاتا ہے۔ یہ شہنشاہ تھیوڈوسیئس اول (Theodosius I) کا دور تھا، جب غیر عیسائی مذہبی رسومات کے خلاف اقدامات کیے گئے۔

اس کے بعد اولمپیا کے وہ میدان جہاں صدیوں تک کھلاڑی دوڑتے، کشتی لڑتے اور فتح کے لیے مقابلہ کرتے رہے تھے، خاموش ہوگئے۔

ایک ایسی روایت جو تقریباً ایک ہزار سال سے جاری تھی، تاریخ کا حصہ بن گئی۔

1,500 سال کا وقفہ

قدیم اولمپکس کے خاتمے کے بعد تقریباً ڈیڑھ ہزار سال تک اولمپکس اس قدیم شکل میں دوبارہ منعقد نہیں ہوئے۔

لیکن اولمپک تصور مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ یورپ میں قدیم یونان کی کھیلوں کی روایت کو دوبارہ زندہ کرنے کی مختلف کوششیں ہوتی رہیں۔

بالآخر 19ویں صدی میں ایک فرانسیسی ماہرِ تعلیم پیئر ڈی کوبرٹن (Pierre de Coubertin) نے جدید اولمپک تحریک کو منظم شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

: جدید اولمپک تحریک کی بنیاد

1894ء میں International Olympic Committee (IOC) قائم ہوئی۔

اس کا مقصد قدیم اولمپک روایت سے متاثر ہوکر ایک ایسا عالمی کھیلوں کا میلہ قائم کرنا تھا جس میں مختلف ممالک کے کھلاڑی مقابلہ کرسکیں۔

صرف دو سال بعد وہ خواب حقیقت بن گیا۔

1896ء: اولمپکس دوبارہ زندہ ہوگئے

1896ء میں ایتھنز، یونان میں پہلے جدید اولمپک کھیل منعقد ہوئے۔

یوں 393/394 عیسوی کے بعد تقریباً پندرہ صدیوں کی خاموشی ختم ہوئی اور اولمپک مشعل ایک بار پھر یونان میں روشن ہوئی۔

لیکن اس مرتبہ منظر بالکل مختلف تھا۔

اب کھلاڑی مختلف ممالک کی نمائندگی کر رہے تھے، خواتین کی شرکت آگے چل کر بتدریج شامل ہوئی، کھیلوں کی تعداد بڑھ گئی اور فاتحین کے لیے تمغوں کا نظام وجود میں آیا۔

اولمپیا کی ایک دوڑ سے دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں تک

776 قبل مسیح میں اولمپیا کے میدان میں ایک مختصر دوڑ سے شروع ہونے والی کہانی نے ایک طویل سفر طے کیا۔

ابتدا میں صرف ایک مقابلہ تھا، کھلاڑی لنگوٹی یا کمر بند پہنتے تھے، پھر تقریباً 720 قبل مسیح میں مرد ایتھلیٹس کے برہنہ ہو کر مقابلہ کرنے کی روایت سامنے آئی۔ کھیلوں کی تعداد بڑھتی گئی، مختلف یونانی شہری ریاستوں کے کھلاڑی اولمپیا پہنچتے رہے اور یہ روایت تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہی۔

پھر 393/394 عیسوی میں قدیم اولمپکس کا خاتمہ ہوگیا۔

تقریباً ڈیڑھ ہزار سال بعد 1896ء میں ایتھنز نے ایک بار پھر دنیا کو اولمپکس کا تحفہ دیا۔

خواتین کے اولمپک کا آغاز

خواتین کا اولمپکس میں داخلہخواتین کی باقاعدہ اولمپک شرکت کا آغاز 1900ء کے پیرس اولمپکس سے ہوا، جہاں پہلی مرتبہ خواتین کو سرکاری طور پر مقابلوں میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی۔ ابتدا میں صرف چند کھیلوں میں خواتین شریک ہوئیں، جن میں ٹینس، گالف، سیلنگ، کروکیٹ اور گھڑ سواری شامل تھے۔ تقریباً 22 خواتین نے ان کھیلوں میں حصہ لیا، جو اس وقت اولمپک مقابلوں میں شریک مجموعی کھلاڑیوں کا ایک بہت چھوٹا حصہ تھیں۔

ان مقابلوں میں سوئٹزرلینڈ کی ہیڈوِگ روزن بام (Hedwig Rosenbaum) اور برطانیہ کی شارلٹ کوپر (Charlotte Cooper) سمیت دیگر خواتین نے تاریخ رقم کی۔ شارلٹ کوپر نے ٹینس میں کامیابی حاصل کرکے پہلی خاتون اولمپک چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ یوں قدیم اولمپکس میں خواتین کی عدم شرکت کے طویل دور کے بعد 1900ء میں جدید اولمپک میدان خواتین کے لیے بھی کھل گیا۔

آج جب دنیا بھر کے ایتھلیٹس اولمپک میدان میں اترتے ہیں تو ان کے پیچھے صرف جدید کھیلوں کی تاریخ نہیں بلکہ اولمپیا کے ان قدیم میدانوں کی ایک طویل داستان موجود ہے، جہاں ہزاروں سال پہلے ایک دوڑ سے اس عظیم روایت کا آغاز ہوا تھا۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!