• Home  
  • پاکستان سے نوادرات کی چوری میں بھارتی آرٹ ڈیلر کیسے ملوث ہو گیا ؟
- سٹی نیوز

پاکستان سے نوادرات کی چوری میں بھارتی آرٹ ڈیلر کیسے ملوث ہو گیا ؟

اسلام آباد: پاکستان نے دنیا کے مختلف ممالک میں موجود 1100 سے زائد تاریخی اور ثقافتی نوادرات واپس حاصل کر لیے ہیں۔ تاہم اس میں ایک بات خاص یہ سامنے آئی کہ نوادرات کی چوری مین ایک بھارتی آرٹ ڈیلر کا نام بھی سامنے آیا ہے جس نے اس معاملے کی سنگینی کو الجھا دیا […]

اسلام آباد: پاکستان نے دنیا کے مختلف ممالک میں موجود 1100 سے زائد تاریخی اور ثقافتی نوادرات واپس حاصل کر لیے ہیں۔ تاہم اس میں ایک بات خاص یہ سامنے آئی کہ نوادرات کی چوری مین ایک بھارتی آرٹ ڈیلر کا نام بھی سامنے آیا ہے جس نے اس معاملے کی سنگینی کو الجھا دیا ہے کہ نوادرات پاکستان سے کیسے چوری کر کے بیرون ملک پہنچائے گئے۔

ملک واپس پہنچنے والی ان تاریخی اشیا کو اب اسلام آباد میوزیم میں محفوظ کرکے عوام کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ میوزیم میں ان نوادرات کو دیکھنے کے لیے پاکستانی شہریوں کے علاوہ مختلف ملکوں سے آنے والے محققین، تاریخ کے ماہرین اور سیاح بھی پہنچ رہے ہیں۔

یہ اشیا دنیا کے کئی ممالک سے جمع کرکے واپس لائی گئی ہیں جن میں خاص طور پر امریکہ، اٹلی، فرانس، برطانیہ شامل ہیں جنہوں نے پاکستان اداروں کے ساتھ تعاون کیاان اشیا میں قدیم مجسمے، سکے، مٹی کے برتن، مذہبی فن پارے اور گندھارا تہذیب سے وابستہ نایاب آثار شامل ہیں

ایک دن میں نہیں ہوئی نوادرات کی واپسی

حکام کے مطابق بیرون ملک سے ان نوادرات کی واپسی ایک طویل اور پیچیدہ عمل تھا جو کئی برس تک جاری رہا۔

مختلف ممالک میں موجود مشتبہ تاریخی اشیا کی معلومات جمع کرنے، ان کی اصل شناخت معلوم کرنے اور پاکستان سے تعلق ثابت کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے کیے گئے اور اس بارئے مسلسل رابطے جاری رہے۔

اس عمل میں بعض ملکوں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلی جنس محکموں اور پاکستانی سفارتی مشنز نے بھی کردار ادا کیا۔ جہاں کسی نوادرات کی پاکستانی نسبت ثابت ہوئی وہاں قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے اس کی واپسی کی راہ ہموار کی گئی۔

سبھاش کپور سے متعلق تحقیقات بھی اہم رہیں

پاکستانی حکام کے مطابق بیرون ملک موجود نوادرات کی تلاش کے سلسلے میں بھارتی نژاد آرٹ ڈیلر سبھاش کپور (Subhash Kapoor) سے متعلق معاملہ بھی قابل ذکر ہے۔ اور اس معاملے کی پیچیدگی میں اضافہ ہو گیا کہ اس بھارتی ڈیلر کا کردار کیسے اس معاملے میں ملوث ہو گیا ۔

کپور پر الزام تھا کہ اس نے جنوبی ایشیا سے قدیم اور قیمتی فن پارے غیر قانونی طریقوں سے حاصل کرکے انہیں بیرون ملک منتقل کیا اور ان کی تجارت کی جس پر اس بھارتی ڈیلر کے خلاف دنیا کے مختلف ممالک میں تحقیقات بھی جاری ہیں۔

اس کی گرفتاری اور اس سے متعلق تحقیقات کے دوران مختلف ممالک میں موجود قدیم فن پاروں کی ملکیت اور ان کے ماخذ سے متعلق معلومات سامنے آئیں۔انہیں انڈیا میں حراست میں لے کر تحقیقات کی گئی اور سزا سنائِ گئی۔

پاکستانی حکام کے مطابق امریکہ میں موجود کچھ ایسی ہی اشیا کے بارے میں تحقیقات کے دوران امریکی اداروں نے پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کیا، جس کے بعد دونوں جانب سے ضروری قانونی کارروائی آگے بڑھائی گئی اور پاکستان کے نوادرات کی تصدیق کی گئِ جس کے بعد ان کی پاکستان میں واپسی ہوئی۔

ہر نوادرات چوری ہو کر بیرون ملک نہیں پہنچی

حکام نے واضح کیا ہے کہ واپس لائی گئی تمام اشیا کسی پاکستانی عجائب گھر یا سرکاری ادارے سے چوری نہیں ہوئی تھیں۔کچھ تاریخی اشیا برصغیر کی تقسیم سے بہت پہلے بیرون ملک منتقل ہو چکی تھیں، جبکہ بعض نوادرات کئی دہائیوں تک غیر ملکی افراد یا نجی کلیکشنز میں موجود رہیں۔

اس لیے ان کی واپسی کے لیے تاریخی ریکارڈ، ملکیت کے شواہد اور قانونی دستاویزات کا جائزہ لینا ضروری تھا۔

امریکہ سے بڑی تعداد میں نوادرات کی واپسی

پاکستان اور امریکہ نے غیر قانونی طور پر ثقافتی اشیا کی خرید و فروخت اور بیرون ملک منتقلی کو روکنے کے لیے 2023 میں مفاہمت کی ایک یادداشت بھی کی تھی۔

اسی تعاون کے تحت امریکہ میں موجود پاکستانی ثقافتی ورثے کی نشاندہی ہونے پر امریکی حکام نے پاکستان کے سفارتی حکام سے رابطہ کیا۔

پاکستانی حکام کے مطابق قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد متعدد قیمتی تاریخی اشیا واپس پاکستان پہنچیں، جبکہ ان کی واپسی سے متعلق اخراجات بھی پاکستان نے برداشت کیے۔

یورپ کے کئی ملکوں نے بھی راستہ آسان کیا

نوادرات کی بازیابی میں یورپی ممالک کا تعاون بھی شامل رہا۔

اٹلی، فرانس اور برطانیہ سمیت مختلف ملکوں کے متعلقہ اداروں نے پاکستان سے تعلق رکھنے والی تاریخی اشیا کی شناخت اور ان کے ماخذ کا سراغ لگانے میں مدد کی۔

اس کے بعد سفارتی سطح پر رابطوں اور متعلقہ ملکوں کے قوانین کے تحت کارروائی کی گئی، جس کے نتیجے میں متعدد نوادرات پاکستان واپس لائے جا سکے۔

گندھارا کے فن پارے کیوں اہم ہیں؟

واپس آنے والی اشیا میں گندھارا تہذیب کے کئی فن پارے بھی شامل ہیں۔گندھارا تہذیب نے موجودہ پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں فروغ پایا اور اس کے اہم مراکز میں ٹیکسلا، پشاور، سوات اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقے شامل رہے۔

اس تہذیب کا فن خاص طور پر بدھا اور بودھی ستوا کے مجسموں کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔

گندھارا آرٹ میں یونانی، وسطی ایشیائی اور مقامی فنون کے اثرات کا امتزاج بھی دکھائی دیتا ہے، جس کی وجہ سے اسے ایشیائی تہذیبی تاریخ میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔

بھارت کے دعوے

گندھارا فن پاروں کی ملکیت کے حوالے سے بعض اوقات بھارت کی جانب سے بھی دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔

پاکستانی حکام تاہم اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ گندھارا تہذیب کے بڑے مراکز موجودہ پاکستان کی حدود میں واقع تھے۔

سات ہزار سال تک پرانے آثار

اسلام آباد میوزیم میں رکھے گئے نوادرات کے میں مجموعے میں مہرگڑھ اور وادیٔ سندھ کی تہذیب سے وابستہ قدیم اشیا، ٹیراکوٹا کے نمونے، سکے، برتن اور گندھارا دور کے مذہبی مجسمے شامل ہیں۔

کچھ آثار کی عمر تقریباً سات ہزار سال تک بتائی جاتی ہے، جبکہ گندھارا دور کے متعدد فن پارے تقریباً دو ہزار سال پرانے ہیں۔

گندھارا کا اثر پاکستان کی سرحدوں سے باہر

گندھارا تہذیب کی اہمیت صرف پاکستان کے ماضی تک محدود نہیں۔

جنوبی کوریا کی تاریخِ فن کی ماہر ڈاکٹر ایستھر پارک (Dr. Esther Park) گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے گندھارا آرٹ کا مطالعہ کر رہی ہیں۔

ان کے مطابق گندھارا قدیم ایشیا کے مختلف معاشروں کو سمجھنے کی ایک اہم کڑی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بدھ مت کے ساتھ فن اور ثقافت کے جن عناصر نے چین، کوریا اور جاپان تک سفر کیا، ان کی تاریخ کو سمجھنے میں گندھارا اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مذید پڑھئِے

سعودی عرب میں ابتدائی اسلامی دور سے متعلق آثارِ قدیمہ کی دریافت – urdureport.com

ہزاروں سال قبل مسیح کا ہڑپہ،کیوں غرق ہوا حقیقت کھل گئی ، عورتیں بناو سنگھار کا خاص اہتمام کرتیں – urdureport.com

میوزیم میں غیر ملکی دلچسپی

اسلام آباد میں نوادرات کی نمائش کے دوران چین، امریکہ، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک سے آنے والے محققین اور سیاح ان آثار کو دیکھنے کے لیے میوزیم کا رخ کر رہے ہیں۔

ان کے لیے یہ نوادرات پاکستان کا ایک مختلف تعارف پیش کرتے ہیں، جو موجودہ سیاسی حالات یا سکیورٹی مسائل سے ہٹ کر ملک کی ہزاروں سال پرانی تہذیبی تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔

ماضی کا ورثہ، مستقبل کا موقع

ہڑپہ سے ملنے والا قدیم حاکم اعلیٰ کا نادر مجسمہ

پاکستان کے پاس مہرگڑھ، وادیٔ سندھ اور گندھارا ،ہڑپہ جیسی کئی قدیم تہذیبوں کے آثار موجود ہیں۔ ماہرین کے نزدیک اگر ان مقامات اور نوادرات کو بہتر انداز میں محفوظ کرکے عالمی سطح پر متعارف کرایا جائے تو ملک کے لیے تاریخی تحقیق، ثقافتی سفارت کاری اور سیاحت کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!