اردو رپورٹ ڈیسک
اسلام آباد: پمز ہسپتال کے چلڈرن وارڈ کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے 14 نومولود بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق جاں بحق بچوں کے اہل خانہ ہسپتال میں موجود ہیں اور اپنے بچوں کی میتیں حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، تاہم شدید آتشزدگی کے باعث نومولود بچوں کی لاشیں بری طرح جھلس گئی ہیں جس کی وجہ سے ان کی شناخت فوری طور پر ممکن نہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بچوں کی درست شناخت کے لیے جاں بحق نومولود بچوں اور ان کے والدین کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے جائیں گے۔ شناخت کا عمل مکمل ہونے کے بعد میتیں متعلقہ خاندانوں کے حوالے کی جائیں گی۔
آگ کی شدت
پولیس کے مطابق آتشزدگی کے دوران نرسری میں آگ کی شدت انتہائی زیادہ تھی، جس کے باعث جاں بحق ہونے والے 14 نومولود بچوں کی لاشیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے پمز ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ بچوں کے ساتھ پیش آنے والی ایسی صورتحال ناقابل تلافی ہے۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ آتشزدگی کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے، واقعے کے ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے اور غفلت یا کوتاہی ثابت ہونے کی صورت میں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
پمز انتظامیہ کا موقف
پمز ہسپتال انتظامیہ کے مطابق آتشزدگی کے اس افسوسناک واقعے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے ہیں۔
واقعے کی وجوہات، حفاظتی انتظامات اور ممکنہ غفلت کے دیگر پہلوؤں سے متعلق تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ڈی این اے کے ذریعے بچوں کی شناخت کا عمل مکمل ہونے کے بعد میتیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کی جائیں گی۔
یہ پڑھئِے
پمز ہسپتال کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی، 14نومولود جاں بحق – urdureport.com


