اردو رپورٹ ڈیسک
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو ہونے والے لانگ مارچ سے متعلق درخواست نمٹاتے ہوئے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو ہدایت کی ہے کہ سیاسی جماعت کے احتجاج میں سرکاری مشینری استعمال نہ ہونے دی جائے۔
عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں واضح کیا کہ کسی سیاسی جماعت یا سرکاری عہدے دار کے پاس اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کو لانگ مارچ کا اعلان
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے 5 اگست کو پشاور میں منعقدہ جلسے کے دوران اعلان کیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے اڈیالہ جیل میں قید بانی عمران خان کی رہائی کے لیے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کیا جائے گا۔
لانگ مارچ کا مقصد
پی ٹی آئی کے مطابق احتجاج کا مقصد عمران خان کی رہائی، جیل میں ان تک اہلِ خانہ اور وکلا کی رسائی یقینی بنانا اور ان کے مقدمات میں تیزی لانا ہے۔
درخواست میں کیا مؤقف اختیار کیا گیا؟
اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ ایبٹ آباد کے ایک تاجر کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے بعد سنایا۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ احتجاج اور ممکنہ لانگ مارچ کے باعث اس کے کاروبار سمیت دیگر شہریوں کی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، اس لیے احتجاج کو روکا جائے۔
عدالت کی اہم ہدایات
عدالت نے مختصر فیصلے میں کہا کہ کسی سیاسی جماعت یا سرکاری عہدے دار کو اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
فیصلے میں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو ہدایت کی گئی کہ وہ یقینی بنائیں کہ سیاسی جماعت کے احتجاج میں سرکاری مشینری استعمال نہ ہو۔
تاہم فیصلے میں پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کرنے سے روکنے کے حوالے سے کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی۔
لانگ مارچ کے معاملے پر سابقہ عدالتی کارروائی
اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے 8 ستمبر کو پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج اور لانگ مارچ کے معاملے کو ’آئینی بحران‘ قرار دیتے ہوئے لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
عدالت نے قبل ازیں اٹارنی جنرل پاکستان، چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز اور انسپکٹر جنرلز پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں 10 ستمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔


