اردو رپورٹ ڈیسک
وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جماعت اسلامی کے اسلام آباد کی جانب اعلان کردہ لانگ مارچز کے پیش نظر دارالحکومت میں سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کے لیے تین صوبوں سے 23 ہزار 500 پولیس اہلکار طلب کر لیے ہیں۔
پی ٹی آئی نے 27 ستمبر جبکہ جماعت اسلامی نے 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ ممکنہ احتجاجی سرگرمیوں کے پیش نظر دارالحکومت کے مختلف داخلی اور خارجی راستوں پر سڑکوں کی بندش کے لیے بڑی تعداد میں کنٹینرز بھی پہنچا دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب ممکنہ سیکیورٹی خطرات کے باعث پنجاب میں عوامی اجتماعات پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
اسلام آباد میں اضافی پولیس نفری کی تعیناتی
کابینہ ڈویژن کی جانب سے 12 ستمبر کو جاری کیے گئے مراسلے کے مطابق پنجاب سے 15 ہزار، سندھ سے 8 ہزار اور بلوچستان سے 500 پولیس اہلکار طلب کیے گئے ہیں۔
مراسلے میں صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ مطلوبہ نفری 20 ستمبر تک اسلام آباد پہنچائی جائے۔ اضافی پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کا مقصد لانگ مارچز کے دوران سیکیورٹی صورتحال سے نمٹنا اور کسی بھی ممکنہ صورت حال میں انتظامیہ کی مدد کرنا ہے۔
پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے 5 اگست کو پشاور میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا تھا۔
سہیل آفریدی نے خطاب میں کہا، ’’اب بہت ہو چکا، نکلنے کا وقت آ گیا ہے۔ 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ ہو گا۔‘‘انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی حمایت میں کارکنوں اور حامیوں سے مارچ میں شرکت کی اپیل بھی کی۔
جماعت اسلامی کا 20 ستمبر کو لانگ مارچ
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے 12 ستمبر کو گوجرانوالہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے جاری احتجاج اور دھرنوں کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا۔
انہوں نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کا اعلان کیا۔
پنجاب میں پانچ روز کے لیے عوامی اجتماعات پر پابندی
پنجاب حکومت نے ممکنہ دہشت گردی کے حوالے سے متعدد تھریٹ الرٹس کا حوالہ دیتے ہوئے 13 سے 17 ستمبر تک صوبے بھر میں ہر قسم کے عوامی اجتماعات پر پانچ روز کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔
13 ستمبر کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق امن و امان اور جان و مال کو لاحق سنگین خطرات کے پیش نظر پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو فوری نوعیت کے سیکیورٹی خطرات سے متعلق اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
حکام کے مطابق انٹیلی جنس رپورٹس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں عوامی اجتماعات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ جلسے، ریلیاں، دھرنے، جلوس اور مظاہرے بڑے پیمانے پر دہشت گرد حملوں کا آسان ہدف بن سکتے ہیں۔
پی ٹی آئی کا رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کا دعویٰ
لانگ مارچ سے قبل پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب کے مختلف شہروں میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی مبینہ گرفتاریوں اور گھروں پر چھاپوں کا دعویٰ کیا ہے۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کے لیے یہ کارروائیاں کر رہی ہے۔
تاہم پنجاب حکومت نے واضح کیا ہے کہ لانگ مارچ کے حوالے سے عدالت جو بھی فیصلہ دے گی، اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
حکومتی عہدے داروں نے بھی کہا ہے کہ احتجاج یا لانگ مارچ کے نام پر امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

