اتوار, 27 ستمبر 2026
  • Home  
  • ایف بی آر کا درآمدی موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکس کی اقساط میں اجازت
- موبائل اپ ڈیٹس

ایف بی آر کا درآمدی موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکس کی اقساط میں اجازت

وفاقی بورڈ آف ریونیو نے درآمدی موبائل فونز پر عائد سیلز ٹیکس اقساط میں ادا کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ نئی سہولت کے تحت صارفین کو مکمل ٹیکس ایک ساتھ ادا کرنے کے بجائے اقساط میں ادائیگی کی سہولت ملے گی۔

اردو رپورٹ ڈیسک

وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے درآمدی موبائل فونز پر عائد سیلز ٹیکس اقساط میں ادا کرنے کی اجازت دے دی ہے، جس کے بعد صارفین کو موبائل فون کی درآمد پر واجب الادا ٹیکس ایک ہی مرتبہ ادا کرنے کے بجائے اقساط میں جمع کرانے کی سہولت حاصل ہوگی۔

یہ پیش رفت حکومت کی جانب سے موبائل فونز پر عائد پی ٹی اے ٹیکس کی اقساط میں ادائیگی کی سہولت متعارف کرانے کے اعلان کے دو ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئی ہے۔

نئی سہولت کا طریقہ کار

ایف بی آر کے مطابق یہ سہولت پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ڈیوائس شناخت، رجسٹریشن اور بلاکنگ سسٹم (ڈی آئی آر بی ایس) کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔

اس مقصد کے لیے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے نویں شیڈول میں نئی شق شامل کی گئی ہے، جس کی وضاحت ایف بی آر نے 11 ستمبر 2026 کو جاری کردہ سرکلر نمبر 1 میں کی ہے۔

نئی شق کے تحت افراد درآمدی موبائل فونز پر واجب الادا سیلز ٹیکس مکمل رقم ایک ساتھ ادا کرنے کے بجائے مختلف اقساط میں جمع کرا سکیں گے۔

ایف بی آر، ٹیكس چور ،ایف بی آر كارواءی

ٹیکس کی ادائیگی کی آخری تاریخ

ایف بی آر کی جانب سے متعارف کرائی گئی سہولت کے باوجود ٹیکس کی مکمل رقم ادا کرنا ضروری ہوگا۔

تمام اقساط اس مالی سال کے اختتام سے قبل ادا کرنا ہوں گی جس میں موبائل فون درآمد کیا گیا ہو۔ اس طرح صارفین کو ادائیگی میں سہولت تو حاصل ہوگی، تاہم ٹیکس کی مکمل ذمہ داری مقررہ مالی سال کے اندر پوری کرنا ہوگی۔

پی ٹی اے ادائیگی کا طریقہ کار

ایف بی آر کی جانب سے اقساط میں ٹیکس ادائیگی کی اجازت کے بعد اب پی ٹی اے کو اس سہولت پر عمل درآمد کے لیے طریقہ کار وضع کرنا ہوگا۔

اس کے لیے ڈی آئی آر بی ایس کے ذریعے اقساط میں ادائیگی کا نظام متعارف کرانا ضروری ہوگا، تاکہ درآمدی موبائل فونز کی رجسٹریشن کے عمل میں نئی سہولت کو شامل کیا جا سکے۔

فنانس ایکٹ 2026 کے تحت سہولت متعارف

موبائل فونز پر سیلز ٹیکس کی اقساط میں ادائیگی کی سہولت فنانس ایکٹ 2026 کے ذریعے کی گئی ترامیم کے تحت متعارف کرائی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد صارفین کو قابل اطلاق ٹیکس کی ادائیگی میں لچک فراہم کرنا ہے، تاہم ٹیکس کی مکمل رقم مقررہ مالی سال کے اندر ادا کرنا لازمی ہوگا۔

ڈی آئی آر بی ایس کا پس منظر

پاکستان میں غیر رجسٹرڈ موبائل فونز کی شناخت اور ٹیکس و رجسٹریشن کی شرائط پوری نہ کرنے والے آلات کو بلاک کرنے کے لیے ڈیوائس شناخت، رجسٹریشن اور بلاکنگ سسٹم دسمبر 2018 میں متعارف کرایا گیا تھا۔

بعدازاں جولائی 2019 سے بیرون ملک سے پاکستان آنے والے مسافروں کے لیے موبائل فونز کی ڈیوٹی فری سہولت بھی ختم کردی گئی تھی۔

اس کے بعد سے درآمدی موبائل فونز کو مقامی موبائل نیٹ ورکس پر استعمال کے لیے رجسٹر کرانے سے قبل عموماً متعلقہ ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی ادائیگی ضروری رہی ہے، جس کے باعث بیرون ملک سے موبائل فون لانے والے افراد پر ٹیکس کی ادائیگی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!