اردو رپورٹ ڈیسک
اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں نرسری کی ہولناک آتشزدگی سے زندہ بچایا گیا واحد نومولود بھی کئی ہفتے تشویشناک حالت میں رہنے کے بعد انتقال کر گیا۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق نومولود بدھ کی رات گئے پمز چلڈرن ہسپتال میں زیر علاج تھا، جہاں دھوئیں کے باعث پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے سبب اسے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔
26 اگست کو نرسری میں آگ
آگ 26 اگست کو پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کی نومولود بچوں کی نرسری میں لگی تھی۔ واقعے کے وقت نرسری میں 15 نومولود موجود تھے، جن میں سے 14 بچے آتشزدگی میں جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک نومولود کو زندہ نکال لیا گیا تھا۔
نرس نے نومولود کو بچایا
نرس راضیہ نورین نے دھوئیں سے بھری نرسری میں داخل ہو کر نومولود کو بحفاظت باہر نکالا تھا۔ ہنگامی صورتحال میں ان کی اس کارروائی کو ملک بھر میں سراہا گیا اور عوام کے ساتھ حکومت کی جانب سے بھی ان کی بہادری کو پذیرائی ملی۔
راضیہ نورین نے واشنگٹن پوسٹ سے گفتگو میں بتایا تھا کہ اس وقت ان کی واحد ترجیح نرسری میں پھنسے بچوں کو بچانا تھی۔ ان کے مطابق وہ آٹھ سیکنڈ میں نومولود کو محفوظ مقام تک لے آئی تھیں۔
انہوں نے خود کو ہیرو قرار دینے کے بجائے کہا تھا کہ وہ محض ایک نرس اور ماں کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری پوری کر رہی تھیں۔
رضیہ نورین کو قومی اعزازات
رضیہ نورین کی بہادری کو بعد ازاں قومی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ان کے لیے ستارۂ خدمت کا اعلان کیا اور بہادری و فرض شناسی کے اعتراف میں انہیں ایک کروڑ روپے کا نقد انعام بھی دیا۔
صدر آصف علی زرداری نے بھی نومولود کو آتشزدگی سے بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالنے پر راضیہ نورین کو تمغۂ شجاعت دینے کی منظوری دی۔


