اردو رپورٹ ڈیسک
اٹلی کی وزیراعظم جورجیا میلونی نے اسکولوں میں برقع اور نقاب پر پابندی عائد کرنے، ہر جماعت میں غیرملکی طلبہ کی تعداد محدود کرنے اور بعض غیرملکی طلبہ کے والدین کے لیے اطالوی زبان سیکھنا لازمی قرار دینے کے لیے قانون سازی کا اعلان کیا ہے۔
یہ تجاویز اٹلی کی حکومت کی نقل مکانی، سماجی انضمام اور ثقافتی پالیسیوں پر وسیع تر توجہ کا حصہ ہیں۔
تجاویز کابینہ میں پیش کی جائیں گی
جورجیا میلونی نے 20 ستمبر 2026 کو روم میں اپنی جماعت برادرز آف اٹلی کی نوجوان تنظیم کے سالانہ فینکس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ان اقدامات کا اعلان کیا۔
میلونی نے کہا کہ یہ تجاویز جلد کابینہ میں پیش کی جائیں گی۔ مجوزہ قانون کے تحت ہر جماعت میں غیرملکی طلبہ کی تعداد کی حد مقرر کی جائے گی، تاہم وزیراعظم نے فی جماعت مقرر کی جانے والی حتمی تعداد نہیں بتائی۔
برقع اور نقاب پر پابندی کی تجویز
میلونی نے کہا کہ طلبہ کو اسکول میں چہرہ کھلا رکھ کر آنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقی یا مبینہ روایات کی بنیاد پر کسی نوجوان خاتون کو چہرہ چھپانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مردوں اور خواتین کے درمیان مساوات کو اطالوی معاشرے اور اسکولوں میں غیرمذاکراتی اصول قرار دیا۔ مجوزہ اقدام میں خاص طور پر برقع اور نقاب جیسے مکمل چہرہ ڈھانپنے والے لباس کو شامل کیا گیا ہے۔
غیرملکی طلبہ کی تعداد محدود کرنے کا مؤقف
میلونی نے کہا کہ اگر کسی جماعت میں ایک بچہ ایسا ہو جو اطالوی زبان نہیں سمجھتا تو ہم جماعت طلبہ اور اساتذہ اس کی زبان سیکھنے اور تعلیمی ماحول میں انضمام میں مدد کر سکتے ہیں۔
تاہم ان کے مطابق جب اطالوی زبان نہ سمجھنے والے طلبہ کی تعداد بہت زیادہ ہو جائے یا وہ جماعت کی اکثریت بن جائیں تو انضمام کا عمل زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اطالوی بچوں کو اپنی ہی جماعت میں اقلیت محسوس نہیں کرنا چاہیے۔
بعض والدین کے لیے اطالوی زبان سیکھنا لازمی
مجوزہ اقدامات میں ایسے غیرملکی طلبہ کے والدین کے لیے اطالوی زبان سیکھنے کی شرط بھی شامل ہے جن کے بچوں کو اسکول کے نظام میں انضمام کے حوالے سے سنگین مشکلات کا سامنا ہو۔
اعلان کے مطابق زبان سیکھنے کی شرط مخصوص حالات سے دوچار غیرملکی طلبہ کے والدین پر لاگو ہوگی۔
اسکولوں میں غیرملکی طلبہ کا تناسب 11.6 فیصد
میڈیا کے مطابق اٹلی کے اسکولوں میں غیر اطالوی شہری طلبہ مجموعی اسکول آبادی کا 11.6 فیصد ہیں۔ یہ اعداد و شمار تحقیقاتی ادارے فوندازیونے آئی ایس ایم یو کے حوالے سے دیے گئے ہیں۔
اس تناسب کا مطلب ہے کہ اٹلی کے اسکولوں میں ہر 100 طلبہ میں تقریباً 12 ایسے ہیں جن کے پاس اطالوی شہریت نہیں۔
مجوزہ اقدامات ابھی قانون نہیں بنے
میلونی کا اعلان مجوزہ حکومتی اقدامات سے متعلق ہے اور یہ پالیسیاں ابھی نافذ العمل نہیں ہوئیں۔ تجاویز پہلے کابینہ میں پیش کی جائیں گی، جس کے بعد انہیں قانون سازی کے مرحلے سے گزرنا ہوگا۔
غیرملکی طلبہ کی حتمی تعداد، چہرہ ڈھانپنے والے لباس پر پابندی کا دائرہ کار اور دیگر تفصیلات آئندہ قانونی عمل کے دوران واضح ہوں گی۔


